قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے 34مطالبات زر کی منظوری

مطالبات زر وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیش کئے،مطالبات زر پر کٹوتی کیلئے ایم کیوایم نے تحریک پیش کی،جس کو متفقہ طور پر مسترد کردیاگیا پیپلزپارٹی،پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی طرف سے تحاریک واپس لے لی گئیں اور ایوان سے واک آؤٹ کیاگیا،جن مطالبات زر کی منظوری دی گئی ہے ان میں شعبہ خزانہ،دفاع،توانائی،ہائرایجوکیشن کمیشن،خارجہ امور،نیشنل سیکورٹی،وزیراعظم آفس،فیڈرل سروس کمیشن،سی ڈی اے اور ہوابازی وغیرہ شامل تھے نوازشریف کے ویژن کے مطابق خارجہ پالیسی کو آگے بڑھایا گیا ہے،ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے گئے ہیں،پاکستان چین کی دوسری بے مثال ہے اوراس میں معاشی گہرائی آئی ہے۔چین کے ساتھ اقتصادی راہداری منصوبہ کیا گیا ہے اور پاکستان کے وسط ایشیاء کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا گیا ہے، وزیر دفاع خرم دستگیر ہماری حکومت سے پہلی18,18گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی تھی،فیکٹریاں بند پڑی تھیں،ہم نے 15000میگاواٹ بجلی کے منصوبے شروع کئے،اب 10000میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہوا ہے اور2025ء تک 50000میگاواٹ سسٹم میں شامل کیا گیا،شیخ آفتاب احمد ہم نے اپنے دور میں نیلم جہلم اور لواری ٹنل کے منصوبوں کو مکمل کیا،ہم پر جو دباؤ تھا ختم ہوا،ہماری برآمدات بڑھ رہی ہیں۔چھوٹے تنخواہ دار طبقے کو 110ارب روپے تک کے ٹیکس ختم کئے گئے ہیں، وزیر خزانہ

بدھ مئی 20:22

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 مئی2018ء) قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کے 34مطالبات زر کی منظوری دے دی گئی ہے،مطالبات زر وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیش کئے،مطالبات زر پر کٹوتی کیلئے ایم کیوایم نے تحریک پیش کی،جس کو متفقہ طور پر مسترد کردیاگیا جبکہ پیپلزپارٹی،،پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کی طرف سے تحاریک واپس لے لی گئیں اور ایوان سے واک آؤٹ کیاگیا۔

جن مطالبات زر کی منظوری دی گئی ہے ان میں شعبہ خزانہ،دفاع،توانائی،ہائرایجوکیشن کمیشن،خارجہ امور،نیشنل سیکورٹی،،وزیراعظم آفس،فیڈرل سروس کمیشن،،سی ڈی اے اور ہوابازی وغیرہ شامل تھے۔مطالبات زر پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے دفاع خرم دستگیر نے کہا کہ نوازشریف کے ویژن کے مطابق خارجہ پالیسی کو آگے بڑھایا گیا ہے،ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے گئے ہیں،،پاکستان چین کی دوسری بے مثال ہے اوراس میں معاشی گہرائی آئی ہے۔

(جاری ہے)

چین کے ساتھ اقتصادی راہداری منصوبہ کیا گیا ہے اور پاکستان کے وسط ایشیاء کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنایا گیا ہے۔۔سرتاج عزیز نے نوازشریف کے ویژن کے مطابق کام کیا تھا،کاسا کا ایک ہزار اور تاپی منصوبے بنائے گئے ہیں۔چین،،روس سے اچھے تعلقات استوار کئے گئے ہیں،،افغانستان سے مسلسل رابطہ رکھا گیا ہے اور اس میں بڑی کامیابیاں ملی ہیں،1829پاکستان کے اعلیٰ علماء اکٹھے ہوئے جنہوں نے فتوی دیا،ہماری حکومت نے کشمیر کا ایشو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا ہے اور اس کو سفارتی سطح پر اٹھایا ہے۔

پاکستان کے تعلقات روس کے ساتھ اچھے اور دفاعی معاہدہ کیا گیا ہے۔۔ایران کے صدر نے بھی پاکستان کا دورہ کیا ہے۔۔سعودی عرب ترکی کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے ہیں۔وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا کہ ہماری حکومت سے پہلی18,18گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی تھی،فیکٹریاں بند پڑی تھیں،ہم نے 15000میگاواٹ بجلی کے منصوبے شروع کئے،اب 10000میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہوا ہے اور2025ء تک 50000میگاواٹ سسٹم میں شامل کیا گیا ہے۔

کراچی کیلئے نیپرا کی ٹیمیں بھجوائی گئیں تاکہ وہاں کے بجلی کے مسائل کا جائزہ لیا جائے کیونکہ سب سے زیادہ شکایات کے الیکٹرک کے حوالے سے ہیں۔گزشتہ دور میں گیس کی وجہ سے سی این جی سٹیشنز بند تھے،ہمارے دور میں فیکٹریاں 24گھنٹے چل رہی ہیں،اس میں پنجاب حکومت کا بڑا رول ہے،،تعلیم کی حالت پہلے سے بہتر ہے۔سی ایس ایس سے متعلق شکایات نہیں ہونی چاہئیں،تمام صوبوں کو 100فیصد کوٹہ دیا جارہا ہے۔

وزیراعظم کا معائنہ کمیشن شکایات کو دیکھتا ہے اور اس کے بعد وزیراعظم کو بتایا جاتا ہے اور اس کے بعد وزیراعظم اس پر ایکشن لیتے ہیں۔۔اسلام آباد میں دو ہسپتال ہیں جن کی توثیق کی گئی ہے۔پیپرا اور نیپرا کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔۔کراچی میں اووربلنگ کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں،اگر اووربلنگ ہوئی ہے تو کے الیکٹرک سے پیسے واپس لئے جائیں گے۔

وفاقی وزیر برائے خزانہ نے کہا ہے کہ ہم نے اپنے دور میں نیلم جہلم اور لواری ٹنل کے منصوبوں کو مکمل کیا،ہم پر جو دباؤ تھا ختم ہوا،ہماری برآمدات بڑھ رہی ہیں۔چھوٹے تنخواہ دار طبقے کو 110ارب روپے تک کے ٹیکس ختم کئے گئے ہیں۔۔ایم کیو ایم کے رہنما شیخ صلاح الدین نے کہا تعلیم پر زیادہ بجٹ ہونا چاہئے،لیکن ایسا نہیں کیا گیا،ہم کہتے ہیں کہ تمام اضلاع میں یونیورسٹیاں بننی چاہئیں لیکن حکومت اس پر راضی نہیں ہے،حکومت چاہتی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے عوام کو چلائیں،دیہاتوں سے لوگ بڑے شہروں میں پڑھنے کیلئے آتے ہیں،اس پر ان کے بہت زیادہ اخراجات ہوتے ہیں،ہمارے کٹ موشن کا مقصد یہ ہے کہ چھوٹے شہروں کے لوگوں کو بھی فائدہ ملنا چاہئے اور تمام لوگوں کیلئے تعلیم کا معیار ایک ہونا چاہئے،کسی غریب اور امیر میں فرق نہیں ہونا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی الیکٹرک میں 60ارب روپے کراچی کی عوام سے اضافی وصول کئے گئے ہیں،اس کا حساب ہم نے لینا ہے۔وزیرخزانہ بتائیں کہ جن لوگوں نے مصنوعی طور پر ڈالر کو روکنے کی کوشش کی ان سے کس طرح رشتہ داریاں نبھائی جارہی ہیں اور کن کن کو سینیٹر بنایا گیا ہے۔۔ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی ایس اے اقبال قادری نے کہا ہے کہ اس حکومت کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں تھی اور کسی کو وزیر نہیں بنایا گیا، ایران،،،افغانستان،،عرب ممالک،،امریکہ،،،برطانیہ سے ہمارے تعلقات بہتر نہیں ہیں،یہ سب خارجہ پالیسی کی ناکامی کی وجہ سے ہے،،مسئلہ کشمیر کے ایشو کو بہتر انداز سے نہیں اٹھایا گیا۔

ایم کیو ایم کے عبدالوسیم نے کہا کہ بجلی کا بحران بڑھتا جارہا ہے،،کراچی میں ابھی بھی کئی کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے،جہاں سے گیس نکلتی ہے وہاں گیس نہیں دی جارہی،ہم نے توانائی کی وزارت پر کٹ موشن اس لئے دیا کہ اگر یہ کام نہیں کرتے تو ان کو اتنے پیسے کیوں دئیے جارہے ہیں۔۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں دو مرتبہ کورم کی نشاندہی پی ٹی آئی کی طرف سے کی گئی،ایک مرتبہ کورم پورا کرلیاگیا دوسری مرتبہ پورا نہ ہونے پر سپیکر نے مجبوراً اجلاس آج ساڑھے 10بجے تک ملتوی کردیا۔