نگران وزیراعظم کے انتخاب کے معاملے پر میوزیکل چیئر کا کھیل جاری

وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان مجموعی طور پر چھٹی ملاقات بھی بے نتیجہ رہی ،تین جون تک دونوں نام پر اتفاق رائے نہ کرسکے تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھجوادیا جائے گا شاہد خاقان عباسی اور خورشید شاہ کے درمیان تیس منٹ تک خفیہ طور پر بھی ملاقات کی ، اپوزیشن لیڈر کے ناموں پر قیادت سے مشاور کیلئے وزیراعظم نے ایک دو دن کا وقت مانگا ہے

منگل مئی 18:49

نگران وزیراعظم کے انتخاب کے معاملے پر میوزیکل چیئر کا کھیل جاری
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 مئی2018ء) نگران وزیر اعظم کے انتخاب کے معاملے پر میوزیکل چیئر کا کھیل جاری ہے اور وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے درمیان منگل کو ہونے والی مجموعی طور پر چھٹی ملاقات بھی بے نتیجہ رہی تین جون تک دونوں کسی ایک نام پر اتفاق رائے نہ کر سکے تو معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو بھجوا دیا جائے گا اور اگر پارلیمانی کمیٹی بھی تین دن میں فیصلہ نہ کر سکی تو چار نام الیکشن کمیشن بھجوا دئے جائیں گے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے منگل کو وزیر اعظم سے ایک آف دی ریکارڈ اور ایک آن دی ریکارڈ ملاقات کی ً اف دی ریکارڈ ملاقات کے لئے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی رہائش گاہ گئے اور تیس منٹ تک ان سے خفیہ طور پر ملے اور اس ملاقات میں بھی مجموعی طور پر چھ نام زیر غور آئے اور اس کے بعد دن ساڑھے گیارہ بجے ان دی ریکارڈ ملاقات وزیر اعظم آفس میں ہوئی جو کہ پندرہ منٹ میں ہی ختم ہوگئی کیونکہ خورشید شاہ نے جو نام دیئے ہیں ان پر پارٹی قیادت سے مشاورت کے لئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک دو دن کا وقت مانگا ہے لیکن اس ملاقات میں خورشید شاہ نے شکوہ کیا کہ نواز شریف اور آپ متعدد مرتبہ کہہ چکے جو نام خورشید شاہ دیں گے وہی فائنل ہو گا۔

(جاری ہے)

اب اپ ( وزیرا عظم ) نے خود نام دیئے اور اپنی بات سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔میں نے کوشش کی کہ ایسے نام دوں جن پر کم سے کم اعتراض ہو۔ آپ اپنی بات پر واپس آئیں۔جس پر وزیراعظم نے کہا کہ میں اپنی قیادت سے دوبارہ بات کرتا ہوں اور ایک دو دن میں اس پر پھر سوچ لیتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے جو نام ہیں ان میں کوئی ردوبدل نہیں ہوا۔ اور نہ ہی حکومت نے کسی نام پر اصرار کیا ہے۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف کسی جج یا بیوروکریٹ کے نام پر اتفاق نہیں چاہتے جبکہ پیپلز پارٹی ایک سابق بیورو کریٹ پر اصرار کر رہی ہے اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے نواز شریف کو راضی کرنے کے لیے مذید وقت مانگا ہے وزیر اعظم شاہد عباسی نے تیسری بار نواز شریف کو راضی کرنے کے لیے وقت مانگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق گورنر سٹیٹ بنک ڈاکٹر شمشاد اختر ، سابق گورنر خیبر پختونخواہ اویس غنی اور سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان اس وقت پسندیدہ ترین امیدواروں میں ہیں ، ڈاکٹر شمشاد اختر سٹیٹ بنک کی سابق گورنر رہ چکی ہیں اور اس وقت اقوام متحدہ کے ایک ادارے کی اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل ہیں وہ بنکنگ اور معاشی شعبے سمیت سماجی شعبے میں مہارت رکھتی ہیں، اویس غنی سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے گورنر رہ چکے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے بھی قریب سمجھے جاتے ہیں انتظامی امور کے ماہرہیں الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری اشتیاق احمد خان نے دوہزار تیرہ کے انتخابات کے انعقاد کو کافی حد تک شفاف منعقد کروانے میں اہم کردار ادا کیا ، قومی اسمبلی کے بھی سیکرٹری رہے اس کے علاوہ کئی اور اہم عہدوں پر فائز رہے ایمانداری ان کا طرہ امتیاز ہے اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے دو سابق چیف جسٹس صاحبان ناصر الملک اور تصدیق حسین جیلانی بھی نگران وزیر اعظم کی دوڑ میںشامل ہیں دونون کی شہرت آئین اور قانون کے مطابق فیصلے دینے کے حوالے سے اچھی ہے سابق سیکرٹری خارجہ اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر جلیل عباس جیلانی پیپلز پارٹی کے نگران وزیر اعظم کے لئے مضبوط امیدوار ہیں اور وہ خارجہ امور سمیت انتظامی امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں تاہم ذرائع نے انکشاف کیا کہ پیپلز پارٹی اور حکومت نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ایسا کوئی شخص نگران وزیر اعظم نہیں بنایا جائے گا جو کہ اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریبی ہو