سسیلین مافیا، گاڈ فادر، وطن دشمن اور غدار کہنے سے فرق نہیں پڑتا‘ پاکستان کا بیٹاہوں‘ووٹ کو عزت دوکے نعرے پر الیکشن لڑیں گے-نوازشریف

اپنا گھردرست کرنے اوراپنے آپ کو سنوارنے کی بات کی‘ خارجہ پالیسی کو نئے رخ پر استوار کرنے کی کوشش کی اور سرجھکا کر نوکری کرنے سے انکار کیا۔صحافیوں سے گفتگو

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ مئی 12:10

سسیلین مافیا، گاڈ فادر، وطن دشمن اور غدار کہنے سے فرق نہیں پڑتا‘ پاکستان ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 مئی۔2018ء) مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے کہاہے کہ پوری قوم میرے بیانیے سے متفق ہے اور اگلا الیکشن ”ووٹ کو عزت دو“ کے نعرے پر ہو گا۔احتساب عدالت میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران نواز شریف نے کہا کہ دانیال عزیز کو تھپڑ مارنا افسوسناک عمل ہے، یہ پی ٹی آئی کا کلچر ہے اور اس کے ذمہ دار عمران خان ہیں، خیبر پختونخوا اسمبلی میں بھی تحریک انصاف کے ارکان گتھم گتھا ہوتے رہے، ایک ایک کر کے ان کے سارے پول کھل رہے ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ تحریک انصاف تو پہلے بھی پلان دے چکی ہے اس نے کیا عمل کیا؟ سوائے دھرنوں اور ایمپائر کی انگلی کی طرف دیکھنے کے انہوں نے کیا کیا؟ وہ صوبے میں اپنا کوئی ایک قابل ذکر کارنامہ بتا دیں،انہوں نے کہا کہ 300 ڈیم بنائیں گے کہاں ہیں وہ ڈیم؟ کہاں ہیں درخت جو انہوں نے لگانے کا کہا تھا ؟ 50 ہزار میگا واٹ بجلی کہاں ہے جو تحریک انصاف نے بنانے کا کہا تھا،کہاں ہے نیا پاکستان،، کہاں ہے نیا خیبر پختونخوا؟ یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا تو جنوبی پنجاب سے بھی پیچھے ہے۔

پارٹی بیانیے سے متعلق سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہر چیز نوٹ کی جا رہی ہے لیکن قوم بھی ہر چیز نوٹ کر رہی ہے، پوری قوم میرے بیانیے سے متفق ہے، اگلا الیکشن ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر ہو گا، اب تو جلسوں میں لوگ مجھے کہتے ہیں ہم نعرہ لگائیں گے ووٹ کو اور تم کہنا عزت دو۔۔نواز شریف نے کہا کہ تحریک انصاف تو پہلے بھی پلان دے چکی ہے اس نے کیا عمل کیا؟ سوائے دھرنوں اور ایمپائر کی انگلی کی طرف دیکھنے کے انہوں نے کیا کیا؟ وہ صوبے میں اپنا کوئی ایک قابل ذکر کارنامہ بتا دیں۔

پنجاب آئیں ہم نیا پنجاب دکھانے کو تیار ہیں، یو این ڈی پی کے مطابق خیبر پختونخواہ سے زیادہ جنوبی پنجاب میں خوشحالی ہے۔ نوز شریف نے اپنے نکالے جانے کی 4بڑی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ مجھے نکالے جانے کی سب سے بڑی وجہ پرویز مشرف کیخلاف غداری کیس ہے،،مشرف غداری کیس قائم کرتے ہی مشکلات اور دباﺅ بڑھادیا گیا، مجھے دھمکی نما مشورہ دیا گیا کہ بھاری پتھر اٹھانے کا ارادہ ترک کردو،مجھے بذریعہ زرداری پیغام دیاکہ مشرف کے دوسرے مارشل لاءکوپارلیمانی توثیق دی جائے،میں نے انکار کر دیا‘یہ ہے میرے اصل جرائم کا خلاصہ۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کے جرائم اور مجرم پاکستانی تاریخ میں جابجا ملیں گے، کاش آج آپ یہاں لیاقت علی خان اورذوالفقار علی بھٹو کی روح کوطلب کرسکتے،ان کی روح سے پوچھ سکتے کہ آپکے ساتھ کیا ہوا، کاش آج آپ بے نظیربھٹوکی روح کوطلب کرکے پوچھ سکتے کہ آپکے ساتھ کیا ہوا؟کاش آپ تمام وزراءاعظم کوبلاکرپوچھ سکتے انہیں آئینی مدت پوری کرنے کیوں نہیں دی گئی؟ کاش آپ سینئر ججز کو بلاکر پوچھ سکتے کہ وہ کیوں ہرمارشل لاءکو خوش آمدید کہتے رہے،کاش آج آپ ایک زندہ جرنیل کو بلاکر پوچھ سکتے کہ اس نے آئین کے ساتھ کھلواڑ کیوں کیا ؟انہوں نے کہا کہ ایک خفیہ ادارے کے سربراہ کاپیغام پہنچایاگیاکہ مستعفی ہوجاﺅیاطویل رخصت پرچلے جاﺅ،مجھے اس کادکھ ہوا کہ ماتحت ادارے کا ملازم مجھ تک یہ پیغام پہنچارہاہے، نااہلی اورپارٹی صدارت سے ہٹانے کے اسباب ومحرکات کوقوم بھی اچھی طرح جانتی ہے،مشرف کےخلاف مقدمہ شروع ہوتے ہی اندازہ ہوگیا کہ آمر کو کٹہرے میں لانا کتنا مشکل ہوتاہے ، سارے ہتھیار اہل سیاست کے لیے بنے ہیں ،جب بات فوجی آمروں کے خلاف آئے تو فولاد موم بن جاتی ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ جنوری2014میں مشرف عدالت کے لئے نکلا توطے شدہ منصوبے کے تحت ہسپتال پہنچ گیا، پرویز مشرف پراسرار بیماری کا بہانہ بناکر دور بیٹھا رہا،انصاف کے منصب پربیٹھے جج مشرف کو1گھنٹے کیلیے بھی جیل نہ بھجواسکے،ایسا کیوں ہوا میں وجہ بتانے سے قاصرہوں۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے اپنا گھردرست کرنے اوراپنے آپ کو سنوارنے کی بات کی‘میں نے خارجہ پالیسی کو نئے رخ پر استوار کرنے کی کوشش کی‘میں نے سرجھکا کر نوکری کرنے سے انکار کیا۔

2014کے دھرنے کرائے گئے جو کچھ ہوا سب قوم کے سامنے ہے، اب یہ باتیں ڈھکا چھپا راز نہیں ہیں ، امپائر کی انگلی اٹھنے والی ہے، کون تھا وہ امپائر؟ وہ جوکوئی بھی تھا اسکی پشت پناہی دھرنوں کو حاصل تھی۔انہوں نے کہا کہ آج سے 19سال پہلے یہ لندن فلیٹس کی وجہ سے ہورہاتھا؟مجھے خطرناک مجرم قراردےکر جہاز کی سیٹ سے باندھ دیا گیا۔مجھے جلاوطن کردیا گیا، میری جائیدادیں ضبط کرلی گئیں،واپس آیا تو ہوائی اڈے سے روانہ کردیا گیا،میں اس وقت بھی حقیقی جمہوریت کی بات کررہاتھا--نواز شریف نے کہا کہ میں کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا اپنی توہین سمجھتاہوں،میرے آباﺅاجداد ہجرت کرکے یہاں آئے، میں پاکستان کا بیٹا ہوں مجھے اس مٹی کا ایک ایک ذرہ پیارا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کو عزت و احترام سے دیکھتا ہوں۔ فوج کی کمزوری کا مطلب ملک کے دفاع کی کمزوری ہے۔ دفاع وطن ناقابل تسخیر بنانے میں چند گھنٹے تاخیر نہیں کی۔۔نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ مجھے بے دخل اور نا اہل قرار دینے والوں کو تسکین مل گئی ہوگی۔ سسیلین مافیا، گاڈ فادر، وطن دشمن اور غدار کہنے سے فرق نہیں پڑتا۔ میں پاکستان کا بیٹاہوں اس کا ایک ایک ذرہ جان سے پیارا ہے۔

کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا توہین سمجھتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ داخلہ اور خارجہ پالیسی منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں ہونی چاہیئے۔ 20 سال پہلے بھی وہی قصور تھا جو آج ہے۔ اس وقت بھی پاناما کا وجود تھا نہ آج ہے‘ جمہوریت کا تختہ الٹنے والوں پر بھی سوال اٹھنا چاہیئے۔۔نواز شریف نے مزید کہا کہ ایٹمی دھماکے نہ کرتا تو خطے میں سخت عدم استحکام ہوتا۔

عالمی طاقتوں کی جانب سے 5 ارب ڈالر کا لالچ دیا گیا۔ پاکستان کی سر بلندی وقار اور عزت اربوں ڈالر سے زیادہ عزیز تھی۔ اکتوبر 1999 میں مشرف نے اقتدار پر قبضہ جما لیا۔ 3 نومبر 2007 کو مشرف نے آئین توڑا‘ ملک میں ایمرجنسی نافذ کروائی اور 60 ججوں کو گھروں میں قید کیا۔انہوں نے کہا کہ نون لیگ نے مشرف کے غیر آئینی اقدام پر واضح موقف اختیار کیا۔ حکومت ملتے ہی مشرف کے خلاف آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ دائر کیا‘ مجھے مشورہ دیا گیا کہ ایسا نہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دیکھنا ہوگا 28 جولائی 2017 کے فیصلے نے ملک کو کیا دیا۔ سیاسی عدم استحکام اور بے یقینی کی صورتحال کو ہوا دی گئی، فیصلے سے عدلیہ اور نظام قانون کو کیا ملا؟ سینیٹ میں امیدواروں کو شیر کے نشان کے بجائے بے چہرہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ریفرنس میں 70 سے زائد پیشیاں بھگت چکا ہوں، جس پٹیشن کو 2 بار ناکارہ اور فضول قرار دیا گیا اسے کیسے معتبر کر دیا گیا۔

کیا جے آئی ٹی کے لیے واٹس ایپ کال، مخصوص افراد کا تقرر نہیں کیا گیا۔ کیا ماضی میں سپریم کورٹ کے کسی جج نے جے آئی ٹی کی نگرانی کی۔ جو جج میرے خلاف فیصلہ دے چکا اسے ہی نگران جج بنا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ عدالت اس پر غور کرے کہ پر اسرار کہانی کیا کہہ رہی ہے۔ مائنس ون کا اصول طے پا جائے تو اقامے جیسا بہانہ کافی ہوتا ہے۔ میرا گناہ صرف یہ ہے کہ پاکستان کی بھاری اکثریت مجھے چاہتی ہے۔

آئین کے تحت حاکمیت رہنی چاہیئے میں بھی اسی راستے کا سپاہی ہوں۔ ’عوام پر اپنی مرضی مسلط نہ کریں، ادارے طے شدہ حدود میں رہیں۔ دوسری جانب احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم نواز شریف نے آخری 4 سوالوں کے جواب دے دیے۔ احتساب عدالت میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس پر سماعت ہوئی۔۔سماعت کے دوران نواز شریف کی جانب سے عدالت میں متفرق درخواست بھی دائر کی گئی جس میں کہا گیا کہ ریفرنسز میں گواہوں کے بعد نواز شریف کا بیان ریکارڈ کیا جائے۔

درخواست پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر نے اعتراض کیا جس کے بعد عدالت نے درخواست مسترد کردی۔علاوہ ازیں نواز شریف نے اپنے دفاع میں گواہ لانے سے بھی انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ استغاثہ میرے خلاف جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا۔میں اپنے حق میں گواہ کیوں لاﺅں؟ نیب پراسیکیوشن میرے خلاف کچھ ثابت نہ کر سکی۔

Your Thoughts and Comments