Live Updates

مولانا فضل الرحمن اصولی کی بجائے چندہ وصولی کی سیاست کر رہے ہیں‘احتجاج کرنا مولانا کا حق ہے لیکن اس کیلئے یہ وقت ٹھیک نہیں

‘دنیا پاکستان کو اکنامکس فرنٹ پر اہم کھلاڑی کے طور پر دیکھ رہی ہے‘ ٹیکسٹائل انڈسٹری پاکستان کی صنعت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے‘سیاسی مورچے پر بیٹھے مخالفین کے پانچ سالہ دور میں زیرو ایکسپورٹ رہی ،ہماری حکومت نے درآمدات کی بجائے برآمدات کو ترجیح دی ‘وزیر اعظم عمران خان نے چین کے صدر اور وزیراعظم سے ملاقاتوں میں باہمی تجارت، اقتصادی ترقی اور کاروباری روابط بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا‘سی پیک کے تحت بننے والے انڈسٹریل زون سے ملک میں ترقی و خوشحالی آئے گی، وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ایپٹماآفس میں پریس کانفرنس سے خطاب

بدھ اکتوبر 23:01

لاہور۔9 اکتوبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 09 اکتوبر2019ء) وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن اصولی کی بجائے چندہ وصولی کی سیاست کر رہے ہیں اورضد، ہٹ دھرمی اور وزیر اعظم سے ذاتی عناد پر مبنی بیانیہ کو لیکر چل رہے ہیں‘پاکستان سے محبت کرنیوالے کبھی بھی ایسے ذاتی ایجنڈے کے ساتھ کھڑے نظر نہیں آئیں گے‘احتجاج کرنا مولانا کا حق ہے لیکن اس کیلئے یہ وقت ٹھیک نہیں ہے‘مولانا ہوش کے ناخن لیں اور پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازشوں کی بجائے وزیر اعظم کے ترقی اور خوشحالی کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہوں کیونکہ ان کا یہ اقدام پاکستان کو سیاسی طور پر تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔

دنیا پاکستان کو اکنامکس فرنٹ پر اہم کھلاڑی کے طور پر دیکھ رہی ہے‘پاکستان کی معیشت کا پہیہ چلنے سے مزدور کا چولہا چلتا ہے جبکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری پاکستان کی صنعت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے‘سیاسی مورچے پر بیٹھے مخالفین کے پانچ سالہ دور میں زیرو ایکسپورٹ رہی جبکہ ہماری حکومت کو چالیس ارب کا خسارہ ملا‘ہماری حکومت نے درآمدات کی بجائے برآمدات کو ترجیح دی اوروزیر اعظم نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بحالی کے لیے اقدامات کیے‘اپٹما نے حکومت اور وزیر اعظم کو مایوس نہیں کیا‘وزیر اعظم عمران خان نے چین کے صدر اور وزیراعظم سے ملاقاتوں میں باہمی تجارت، سی پیک کی اقتصادی ترقی اور کاروباری روابط بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا‘ملاقاتوں میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف بھی بات ہوئی‘چائنہ نے پاکستان کے افغانستان میں کردار پر بھی اعتماد کا اظہار کیا ہے‘سی پیک کے تحت بننے والے انڈسٹریل زون سے ملک میں ترقی و خوشحالی آئے گی۔

(جاری ہے)

وہ بدھ کے روز آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن(ایپٹما) کے آفس میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں۔صدر اپٹماگوہر اعجاز اورچیئرمین ٹیکسٹائل انڈسٹری ٹاسک فورس احسن بشیر بھی اس موقع پر موجود تھے‘ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ ملک کو گلے سڑے نظام سے نجات دلانے کے لیے ریفارمز اور بڑی سرجری درکار تھی‘جب اسٹیٹس کو کو چیلنج کرکے ریفارمز لائی جائیں تو مشکلات پیش آتی ہیں‘ایسے حالات میں چٹان جیسا حوصلہ لیکر اپنے ارادوں پر کھڑا ہونا پڑتا ہے‘ وزیر اعظم نے صنعتوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ کرکے معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے جو اقدامات کئے آج تاجر برادری میں انہیں سراہا جا رہا ہے‘ موجودہ حکومت نے بیمار صنعتوں کو نئے جذبے کے ساتھ بحال کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کئے‘ انہوں نے کہا کہ جب صنعت آگے بڑھتی ہے تو غریب کے گھر میں چولہا جلتا ہے اور اس کے فوائد مزدور تک پہنچتے ہیں جس سے معیشت کا پہیہ بھی چلتا ہے‘ وزیر اعظم ٹیکسٹائل انڈسٹری کو درپیش مسائل کے حل کیلئے ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لائے‘ موجودہ حکومت نے امپورٹ کی حوصلہ شکنی کی جبکہ ایکسپورٹ میں اضافہ کیلئے تمام تر اقدامات کئے‘ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کسی بھی ملک میں صنعت کو جو سہولیات دی جارہی ہیں ہم نے دو قدم آگے بڑھ کر صنعت کی بحالی کیلئے سہولیات فراہم کیں‘ ڈاکٹر فردوش عاشق اعوان نے کہا کہ اپٹما نے حکومت کو مایوس نہیں کیا بلکہ حکومت کی جانب سے دی جانیوالی مراعات سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کو خوشحال بنانے میں اہم کردار ادا کیا‘ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے دورہ چین میں چینی صدر اور وزیر اعظم سے ملاقاتوں میں باہمی تجارت، سی پیک کی اقتصادی ترقی اور کاروباری روابط بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا‘ملاقاتوں میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف اور کرفیو کے خاتمہ کی بھی بات ہوئی‘چائنہ نے پاکستان کے افغانستان میں کردار پر بھی اعتماد کا اظہار کیا ہے‘سی پیک کے تحت لگنے والے انڈسٹریل زون سے ملک میں ترقی و خوشحالی آئے گی‘ انہوں نے کہا کہ آج وہ اپٹما میں یہ باور کرانے آئی ہیں کہ وزیر اعظم آپ لوگوں کے ترجمان ہیں اور ہر اجلاس میں تاجروں کے مسائل پر مختلف محکموں کو احکامات جاری کرتے رہتے ہیں‘ اپٹما کے صدر نے اپوزیشن سمیت ان لوگوں کے منہ بند کر دیئے ہیں جو آئے روز مایوسی والی باتیں کرکے حکومت مخالف بیانات داغتے رہتے ہیں کہ صنعت خسارے میں جارہی ہے‘انہوں نے کہا کہ اپٹما کے صدر نے بڑے واضح انداز میں بتایا ہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کی بدولت ٹیکسٹائل انڈسٹری نے 13 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کی ہے جبکہ آئندہ برسوں کیلئے جو ہدف مقرر کئے ہیں اس سے نہ صرف ملکی معیشت کو فائدہ ہو گا بلکہ لاکھوں روزگار بھی پیدا ہونگے‘ انہوں نے کہا کہ حکومت نے روشن مستقبل کی طرف اہم قدم اٹھایا ہے جبکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بحالی نئے پاکستان کی اصل تصویر ہے‘ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے‘ ایک سیاسی اور ایک قومی بیانیہ ہے جب دونوں کو یکجا کریں تو پاکستان کا بیانیہ بنتا ہے‘ مولانا فضل الرحمن اس وقت بے وقت کی راگنی راگ رہے ہیں‘ وہ مدارس کے طلباء کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں جبکہ موجودہ حکومت مدارس ریفارمز کے ذریعے مدرسہ کے طالبعلم کو پاکستان کا طاقتور اور قیمتی اثاثہ بنانے چا رہی ہے‘ مولانا فضل الرحمن اصول کی بجائے چندہ وصول کی سیاست کر رہے ہیں‘پاکستان کی باشعور عوام ان کے ذاتی ایجنڈے کا ساتھ نہیں دیں گے‘ انہوں نے کہا کہ سوچنے والی بات ہے کہ بھارتی ٹی وی چینل مولانا کے بیانیہ کو نشر کر رہے ہیں‘ احتجاج مولانا کا حق ہے تاہم احتجاج کا وقت ٹھیک نہیں ہے‘ مولانا ہوش کے ناخن لیں اور پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازشوں کی بجائے وزیر اعظم کے ترقی اور خوشحالی کے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہوں کیونکہ ان کا یہ اقدام پاکستان کو سیاسی طور پر تقسیم کرنے کے مترادف ہے‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان نے کسی کی ذات کو فوکس کرکے ٹارگٹ نہیں کیا بلکہ وہ ایک مائنڈ سیٹ جو ہر شعبہ میں موجود ہے جو کرپشن اور عہدوں کا ناجائز استعمال کرتے ہیںکو تبدیل کرنے کیلئے کوششیں کر رہے ہیں اس لئے وزیر اعظم اداروں کی بحالی کی بات بھی کرتے ہیں‘ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہے تاہم مولانا ضد، ہٹ دھرمی اور وزیر اعظم سے ذاتی عناد پر مبنی بیانیہ کو لیکر چل رہے ہیں‘ان کی اصول پر مبنی کوئی ڈیمانڈ نہیں ہے وہ حالیہ الیکشن کو ایک سال بعد جعلی الیکشن کہہ رہے ہیں تاہم انہوں نے نہ الیکشن کمیشن اور نہ ہی کسی عدالت سے رجوع کیا‘ قبل ازیں صدر اپٹما گوہر اعجاز نے کہا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری ایک بڑی صنعت ہے جس سے ایک کروڑ لوگ وابستہ ہیں اور آج ہمیں بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہماری رجسٹرڈ 106 کمپنیوں نے ایک سال میں 32 فیصد ایکسپورٹ میں اضافہ کیا‘ 13 بلین ڈالر کی ایکسپورٹ میں سے ایک بلین ڈالر منافع کمایا جبکہ حکومت کو 40 ار ب روپے انکم ٹیکس ادا کیا اور ہم پاکستان کی ایکسپورٹ انڈسٹری کو 26 بلین ڈالر تک لے جانا چاہتے ہیں جس سے 30 لاکھ نوکریاں بھی پیدا ہوںگی۔

مولانا فضل الرحمان کا دھرنا ختم سے متعلق تازہ ترین معلومات