Live Updates

پاکستان سٹاک ایکسچینج حملہ کیس میں 3دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی

فنگر پرنٹس کے ذریعے سلمان، تسلیم بلوچ اور سراج کے ناموں سے دہشت گردوں کی پہچان ہوئی ہے تینوں کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ سے تھا. محکمہ انسداد دہشت گردی کراچی

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل جون 21:30

پاکستان سٹاک ایکسچینج حملہ کیس میں 3دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی
کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔30 جون۔2020ء) محکمہ انسداد دہشت گردی کراچی کے انچارج راجہ عمر خطاب نے بتایا ہے کہ 4 حملہ آوروں میں سے 3 کی شناخت فنگر پرنٹس کے ذریعے سلمان، تسلیم بلوچ اور سراج کے ناموں سے ہوگئی ہے. انہوں نے بتایا کہ تینوں کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ سے تھا‘ ایک دہشت گرد کو ان کی گاڑی سے 25 فٹ، دوسرے کو 26 فٹ، تیسرے کو 300 فٹ اور چوتھے کو 312 فٹ کی دوری پر ہلاک کیا گیا.

(جاری ہے)

راجہ عمر خطاب نے کہا کہ گاڑی سلمان نے پرانی سبزی منڈی سے نقد رقم دے کر خریدی تھی اور اپنا اصل شناختی کارڈ بھی جمع کرایا تھا جو ابھی ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کے پاس ہے‘انہوں نے کہا کہ دہشت گرد لیاری ایکسپریس وے کے غریب آباد انٹرچینج سے آئے تھے اور انہوں نے حملے کے لیے ماڑی پور روڈ استعمال کیا تھا. انہوں نے کہا کہ محکمہ انسداد دہشت گردی نے شواہد حاصل کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے‘واضح رہے کہ کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے قبول کی تھی.

کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے سوشل میڈیا کے ذریعے حملے کی ذمہ داری قبول کی لیکن ماہرین کے مطابق حملہ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“کے دہشت گردی کے طریقوں سے مماثلت رکھتا ہے ماہرین کی جانب سے واقعہ بھارتی ایجنسی”را“کی فرسٹریشن بھی قراردیا جارہا ہے . قومی سلامتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جس اندازسے حملہ کیا گیا ہے اس کے وسائل کی فراہمی ‘مقامی مدداور جدید ترین اسلحہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حملہ بیرونی مدد کے بغیر ممکن نہیں ہے‘یاد رہے کہ 29 جون کو دہشت گردوں نے کراچی میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت پر حملے کی کوشش کی دو دہشت گردوں کو مین گیٹ پر سیکورٹی گارڈزنے مارگرایا اور خود بھی شہید ہوگئے جبکہ باقی دو عمارت کے احاطے میں ڈیوٹی پر موجود پولیس کے سب انسپکٹر اور سیکورٹی گاڈزنے مارگرایا یہاں بھی پولیس افسر اور ایک سیکورٹی گارڈ شہید ہوئے مگر انہوں نے دہشت گردوں کو عمارت کے اندر داخل نہیں ہونے دیا.

بعدازاں اطلاع ملنے پر پولیس‘رینجرزاور دیگر سیکورٹی اداروں اور ریسکیو کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور دہشت گردوں کی لاشوں اور ان کے پاس موجود سازوسامان کو اپنے قبضہ میں لیا اور دھماکہ خیزمواد کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر عمارت کی مکمل تلاشی لی گئی. اسٹاک ایکسچینج میں صبح کاروبار کے آغاز کے وقت بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد و رفت جاری تھی جب 10 بجے سے کچھ دیر قبل دہشت گردوں نے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے فائرنگ کی اور داخلی دروازے پر دستی بم حملہ بھی کیا‘خیال رہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی عمارت کراچی کا معاشی حب سمجھے جانے والے علاقے میں آئی آئی چندریگر روڈ پر واقع ہے، اس کے ساتھ ہی پولیس ہیڈ کوارٹرز، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے علاوہ متعدد کاروباری دفاتر، بینک اور میڈیا ہاﺅسز کے دفاتر ہیں جبکہ سندھ رینجرز کا مرکزی دفتر بھی اس جگہ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے.

واضح رہے کہ بی ایل اے کے اسی گروپ کے دہشت گردوں نے 2018 میں کراچی کے علاقے کلفٹن میں قائم چینی قونصل خانے کے قریب فائرنگ سے 2 پولیس اہلکار شہید، 2 نامعلوم افراد جاں بحق اور ایک سیکیورٹی گارڈ زخمی ہوگیا تھا جبکہ جوابی کارروائی میں تینوں حملہ آور مارے گئے تھے.
چین اور بھارت میں سرحدی تنازعہ سے متعلق تازہ ترین معلومات