Live Updates

وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے دن گنےجاچکےہیں، بلاول بھٹو

ایک دن چین سے نہیں بیٹھیں گے، حکومت کےخلاف تحریک کیلئے نکل رہے ہیں، ملک میں شفاف انتخابات یقینی بنائےجائیں گے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کی صدر ن لیگ میاں شہباز شریف، سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان ودیگر قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار ستمبر 23:47

وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے دن گنےجاچکےہیں، بلاول بھٹو
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔20 ستمبر2020ء) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے دن گنےجاچکےہیں، ایک دن چین سے نہیں بیٹھیں گے، حکومت کےخلاف تحریک کےلیےنکل رہے ہیں، ملک میں شفاف انتخابات یقینی بنائےجائیں گے۔ انہوں نے اے پی سی کے بعد مسلم لیگ ن کےصدر میاں شہباز شریف، سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان ودیگر قائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت ہمارا مقصد ہے۔

حکومت کےخلاف تحریک کیلئے نکل رہے ہیں۔ اب ایک دن بھی چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے دن گنےجاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم آرڈی اور اے آرڈی کی طرح جمہوری قوتیں متحد ہیں۔پی ڈی ایم کی صورت میں تمام جمہوری قوتیں متحد ہوچکی ہیں۔

(جاری ہے)

عوام، پارلیمان اور جمہوریت کی آزادی و وقار کو بحال کرنا ہے۔ پاکستان جمہوری تحریک جمہوری پاکستان کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

 اے پی سی کے بعد اپوزیشن نے اے پی سی کا 4صفحات پر مشتمل اعلامیہ جاری کردیا ہے، سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان نے اعلامیہ پڑھ کرسنایا، اعلامیہ میں کہا گیا کہ کل جماعتی کانفرنس کی قرارداد میں کہا گیا کہ نئے اتحاد کو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نام دیا گیا ہے، یہ اتحادی ڈھانچہ ملک گیر تحریک کو لے کرچلے گا۔ملک میں آزادانہ شفاف انتخابات کا انعقاد کیا جائے ۔

انتخابات کیلئے فوری اصلاحات کی جائیں۔ان اصلاحات میں مسلح ایجنسیوں کا کوئی عمل دخل نہ ہو، یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ آٹا چینی ، گیس ، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فوری کم کی جائیں۔موجودہ حکومت کو مصنوعی استحکام اس اسٹیبلشمنٹ نے بخشا ہے جس نے الیکشن میں دھاندلی کے عوام پر مسلط کیا۔ملک میں صدارتی نظام رائج کرنے کے مذموم ارادوں کو مسترد کیا جاتا ہے۔

وفاقی پارلیمانی جمہوریت کو پاکستان کا تحفظ سمجھتا ہے۔اجلاس نے مطالبہ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں فوری مداخلت بند کرے۔تمام ادارے آئین کے تحت اپنے حلف اور پابندیوں کی پاسداری کرتے ہوئے سیاست میں مداخلت سے باز رہیں۔سلیکٹڈ حکومت کی ناکام پالیسیوں کے نتیجے میں ایٹمی صلاحیت اور ملکی دفاع کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔1973کا آئین ، 18ویں ترمیم ، ایف سی ایوارڈ قومی مفادات کا مظہر ہے، ان کا تحفظ کیا جائے۔

یہ سلیکٹڈ حکومت سقوط کشمیر کی ذمہ دار ہے۔اجلاس حکومت کی افغان پالیسی کی مکمل ناکامی پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔میڈیا پر پابندیاں اورسنسرشپ کی مذمت کرتا ہے۔میر شکیل الرحمان سمیت تما م صحافیوں کو رہا کیاجائے اور ان پر مقدمات ختم کیے جائیں۔سیاسی انتقام کا سامنا کرنے والے قائدین کی جرات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے، نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں ہورہا، جس سے امن وامان کی صورتحال بگڑ گئی ہے، حکومت عوام کے تحفظ میں ناکام ہوچکی ہے۔

نیشنل ایکشن پلان پر فوری عمل کیا جائے۔سی پیک قومی معیشت کیلئے شہہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے، موجودہ نااہل حکومت نے سی پیک کو رول بیک کرکے وجود خطرے میں ڈال دیا ہے، سی پیک کے منصوبوں میں تیزی لائی جائے۔پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی آواز دبائی جارہی ہے ، آج کے بعد ربڑ سٹمپ پارلیمنٹ سے اپوزیشن کوئی تعاون نہیں کرے گی۔غیرآئینی غیرجمہوری قانون سازی کو واپس لیا جائے۔گلگت بلتستان میں شفاف انتخابات کروائے جائیں، انتخابات کے بعد گلگت کو الگ حیثیت دی جائے، گلگت میں انتخابات پر کڑی نظر رکھی جائے گی۔
اپوزیشن اتحاد کی تحریک سے متعلق تازہ ترین معلومات