کلیبری فونٹ کی شہرت یافتہ خاتون، جن کی لندن میں کیا پاکستان میں بھی پراپرٹی نہیں، اُس عمران خان کو ماں کی محبت کا طعنہ دے رہی ہے، جس نے والدہ کی یاد میں 3 کینسر ہسپتال بنا دیے

شوکت خانم کے بیٹے کی عقیدت کےگواہ وہ لاکھوں خاندان ہیں جن کے پیاروں کا شوکت خانم ہسپتال میں مفت علاج ہوا، کچھ بھی کرلو، عمران خان سے این آراو نہیں ملے گا:مشیر برائے قانون و انصاف بابراعوان کا ٹویٹ

muhammad ali محمد علی پیر نومبر 22:30

کلیبری فونٹ کی شہرت یافتہ خاتون، جن کی لندن میں کیا پاکستان میں بھی ..
لاہور(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 30 نومبر2020ء) بابر اعوان کا کہنا ہے کہ مریم اُس عمران خان کو ماں کی محبت کا طعنہ دے رہی ہے جس نے والدہ کی یاد میں 3 کینسر ہسپتال بنا دیے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے قانون و انصاف بابر اعوان نے پی ڈی ایم جلسے میں مریم نواز کی جانب سے لگائے الزامات پر ردعمل دیا ہے۔ ان کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری پیغام میں کہا گیا کہ کلیبری فونٹ کی شہرت یافتہ خاتون، جن کی لندن میں کیا پاکستان میں بھی پراپرٹی نہیں، اُس عمران خان کو ماں کی محبت کا طعنہ دے رہی ہے، جس نے والدہ کی یاد میں 3 کینسر ہسپتال بنا دیے، شوکت خانم کے بیٹے کی عقیدت کےگواہ وہ لاکھوں خاندان ہیں جن کے پیاروں کا شوکت خانم ہسپتال میں مفت علاج ہوا۔

انہوں نے کہا کہ قوم کے پیسے سے بننے والی سرکاری املاک توڑنا، قانون توڑنا، ڈیوٹی پر موجود سرکاری اہلکاروں اور شہریوں کی زندگی خطرے میں ڈالنا، سپریم کورٹ کی فیصلے کی توہین کرنا۔

(جاری ہے)

کچھ بھی کرلو، عمران خان سے این آراو نہیں ملے گا۔ دوسری جانب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے پیغام میں فیصل واوڈا نے کہا کہ اگر اس چور کی بیٹی چورنی مریم نواز نے اپنی گھٹیا زبان وزیراعظم کی والدہ یا کسی اور کی والدہ کے لئے بند نہ کی تو ہم بھی مجبور ہونگے اس کے گھٹیا کچھے چٹھے کھولنے کے لئے جس سے یہ خود اور اس کا باپ خودکشی کرنے کے قابل بھی نہیں رہیں گے جس سیاست کے ہم خلاف ہیں۔

اس سے قبل ملتان میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے نواز شریف کے والدہ کے جنازے میں شرکت نہ کرنے کے معاملے پر جوابی وار کرتے ہوئے وزیراعظم پر طنز کر ڈالا۔ مریم نواز نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف لندن میں کاونٹی کرکٹ کھیلنے میں مصروف نہیں ہیں جو مرتی ہوئی ماں کے پاس نہ آتے۔ ایک وزیر نے کہا کہ انہوں نے اپنی ماں کی میت کو پارسل کردیا ہے۔

میں ان کو کہتی ہوں کہ نوازشریف جیسا بیٹا پورے پاکستان سے ڈھونڈ کرلاکر دکھاؤ، آخری وقت تھا تو میری دادی ان کی گود میں تھی، وہ دعائیں دیتی جان دے دی، لیکن وہ کاؤنٹی کرکٹ نہیں کھیل رہے تھے کہ وہ ماں کے پاس نہ پہنچ سکا؟ آپ سب جانتے ہو،نوازشریف پر آج پھر مشکل وقت ہے، شریف فیملی پر ایک اور قیامت ٹوٹی ہے، نوازشریف اور شہبازشریف کی ماں اللہ کو پیاری ہوگئی۔

لیکن نوازشریف نے ٹیلی فون پر کہا کہ اپنے دکھوں کو گھر پر چھوڑ کرجانا، ہمارا دکھ چھوٹا، عوام کے دکھ بڑے ہیں۔نوازشریف نے مجھے کہا کہ ملتان کے عوام کے پاس جاکر اپنے دکھوں کا ذکر مت کرنا، کیونکہ تکلیف میں ہم ہیں اس سے زیادہ عوام تکلیف میں ہیں۔ عوام پر روز دکھوں اور غموں کے پہاڑ ٹوٹتے ہیں، ہم جانتے ہیں، کاروبار کو تالا لگ گیا، روٹی 30کی ، چولہے ٹھنڈے ہونے اور ادویات ، بجلی گیس کی قیمتیں پہنچ سے باہر ہوجانے کا غم ہے۔

دوباتیں کروں گی ،اللہ کی قسم کھا کر کہتی ہوں،ان کا میرے غموں سے کوئی تعلق نہیں، کہتے ہیں دشمن بھی ظرف والا ہونا چاہیے، لیکن ہمیں دشمن بھی کم ظرف ملا، میری دادی کا انتقال ہوا تو میں پشاور جلسے میں تھی، لیکن مجھے اڑھائی گھنٹے گزر گئے، مجھے جان بوجھ کر اطلاع نہیں دی گئی، جبکہ ان کو پتا تھا کہ انٹرنیٹ سروس بند ہے، میرے بھائی اور میرے بچے مجھے پاگلوں کی طرح فون کرتے رہے، جب میری ماں بسترمرگ پر تھیں، تو یہ پی ٹی آئی والے آئی سی یو کا دروازہ توڑ کر گھس گئے اور تصاویر بنائیں۔