مڈل کلاس کی سیاست اور مظلوموں کے حقوق کیلئے جدوجہد ایم کیو ایم کا نصب العین ہے، گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری

ایم کیو ایم نے سابق وزیر اعظم سے کہا کہ صحافیوں کے حقوق کی پامالی ہرگز برداشت نہیں، میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی کھل کر مخالفت کی، سید امین الحق حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے پارلیمنٹ کے سامنے صحافیوں کے احتجاجی مظاہرے کے کیمپ میں ایم کیو ایم کی شرکت ہمارے لئے قابل فخر تھا، افضل بٹ

اتوار 3 اگست 2025 20:30

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 اگست2025ء)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے تحت پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے اعزاز میں گورنر ہاوس سندھ میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا، ظہرانے میں پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ کی سربراہی میں ملک بھر کے صحافیوں نے شرکت کی، تقریب کے میزبان *گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری، چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سینئر مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار، انیس قائمخانی اور سید امین الحق نے مہمانوں کا استقبال کیا*، سینئر مرکزی رہنما *ڈاکٹر فاروق ستار* نے کہا کہ صحافی برادری کی ملک میں جمہوریت اور آزادی اظہار کے سلسلے میں قربانیاں ناقابل فراموش ہیں، ایم کیو ایم ایک مڈل کلاس لوگوں کی جماعت ہے اور ہمارے اور صحافیوں کے مسائل کافی حد تک مشترک ہیں، یہ ماہ آزادی ہمارے لئے نیک شگون اور ترقی و کامیابی کا ستون ہے، انہوں نے سندھ کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 17 سالوں سے کراچی سمیت شہری سندھ کو یکسر نظر انداز کیا گیا، گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے عوامی سہولت کے جو کام کئے باقی صوبوں میں بھی یہ ماڈل اپنایا جاسکتا ہے، تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے *گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری* نے کہا کہ صحافیوں نے اس ملک میں جمہوریت کی بقا اور آزادی اظہار رائے کے تحفظ میں کوڑے کھائے اور شہادتیں دیں، انکی قربانیوں کے سبب آج اس ملک میں جمہوریت کے ثمرات نظر آرہے ہیں، انکا کہنا تھا کہ کراچی کا اس ملک کی معیشت میں کیا کردار ہے پورے ملک کو معلوم ہے، آپ سب خود دیکھ لیں یہ شہر گزشتہ 15 سال پہلے کہاں تھا اور آج کہاں ہی آپ اپنے شہروں سے کراچی کا موازنہ کر کے دیکھیں، جس نظریہ پر ایم کیو ایم بنی تھی آج بھی اسی نظریے پر موجود ہے، مڈل کلاس کی سیاست اور مظلوموں کے حقوق کیلئے جدوجہد ہمارا نصب العین ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ پورے پاکستان کے بچوں کو مفت آئی ٹی سکھائی جائے گی تو ملک ترقی کرے گا انہوں نے اعلان کیا کہ صحافیوں کے بچوں کو آئی ٹی کورسز اور اے آئی کی تعلیم مفت فراہم کی جائے گی اور مزید کہا کہ ایم کیو ایم کا بیانیہ یہ ہے کہ ہم نے 140اے کا کیس سپریم کورٹ سے جیتا اسکی رو سے پورے ملک میں لوکل گورنمنٹ کا نظام اور مالی و انتظامی اختیارات آئین میں وضع ہونے چائیے، اگلی آئینی ترمیم میں صحافیوں کو ایم کیو ایم کی اس آئینی ترمیم کو سپورٹ کرنا چاہئے جس سے ملک بھر میں مقامی سطح پر لوگ بااختیار ہوں، سینئر مرکزی رہنما *سید امین الحق* نے کہا کہ ہم نے سابق وزیر اعظم سے کہا کہ صحافیوں کے حقوق کی پامالی ہرگز برداشت نہیں اور ہم میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی مخالفت کریں گے، مشکل وقت میں ایم کیو ایم کی پوری رابطہ کمیٹی پی ایف یو جے اور افضل بٹ صاحب کے ساتھ تھی اور آگے بھی رہے گی، ایم کیو ایم نے ہمیشہ ایوانوں کے اندر اور باہر صحافیوں کے حقوق کی آواز بلند کی ہے ہماری کوششوں سے اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ ایڈوائزمنٹ کی مد میں آنے والی رقم سے پہلے صحافیوں کی تنخواہیں ادا کی جائیں، پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے کہا کہ حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرے کے کیمپ میں ایم کیو ایم کے آنا ہمارے لئے قابل فخر تھا، امین الحق صاحب کی کوششوں سے پیمرا کا ترمیمی بل منظور ہوا، آج اسکی وجہ سے یہ قانون موجود ہے کہ اگر چینل دو ماہ سے زیادہ کسی صحافی کی تنخواہ روکے گا تو اسکے سرکاری اشتہار بند ہو جائیں گے، پی ایف یو جے کے سیکریٹری جنرل ارشد انصاری اور کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر طاہر حسن خان نے ایم کیو ایم اور گورنر سندھ کا شکریہ ادا کیا، پروگرام میں سینئر مرکزی رہنما انیس قائمخانی، مرکزی رہنما ارشد حسن، ارشاد ظفیر، شریف خان، ایم کیو ایم کے مرکزی شعبہ اطلاعات کے انچارج احسن غوری و اراکین سمیت حق پرست ممبر قومی اسمبلی صبحین غوری اور رکن صوبائی اسمبلی عامر صدیقی بھی موجود تھے۔