Live Updates

ہنگامی بنیادوں پر نیشنل فلڈ مینجمنٹ اتھارٹی قائم کی جائی: الطاف شکور

جمعرات 28 اگست 2025 23:45

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 اگست2025ء) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے اسٹیئرنگ کمیٹی کی میٹنگ میں حالیہ بھارتی آبی جارحیت کے بعد آنے والے تباہ کن سیلابوں سے ہونے والے وسیع نقصانات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر ایک خودمختار نیشنل فلڈ مینجمنٹ اتھارٹی قائم کی جائے۔

حالیہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بعد پاکستان بدترین سیلابوں کی زد میں ہے جس سے قیمتی جانوں اور املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ رہا ہے۔ آئندہ برس22 فیصد زیادہ بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے جس کے لیے ابھی سے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ ملک کو نئے آبی ذخائر اور پانی کے رخ موڑنے والے ڈھانچوں کی ضرورت ہے۔ کم از کم ایک درجن بڑے ڈیم مختلف علاقوں میں تعمیر کیے جائیں۔

(جاری ہے)

مناسب تعداد میں مصنوعی جھیلیں بنائی جائیں تاکہ اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کو روکا جا سکے۔ ملک بھر میں ایسے نہری اور ڈائیورژن سسٹم کا جال بچھایا جائے جو سیلابی پانی کو محفوظ طریقے سے دوسری جانب موڑ سکے۔اس حوالے سے فلڈ کینالز اور صحرا کینالز ہنگامی بنیادوں پر کھودی جائیں تاکہ سیلابی پانی کو محفوظ طریقے سے بنجر اور صحرائی علاقوں میں منتقل کیا جا سکے اور آبادی یا زرعی اراضی کو نقصان نہ پہنچے۔

پاکستان،بھارت سرحدی دریا ئوںکے قدرتی بہاؤ کے روٹ کو بحال کیا جائے۔ آبی گزرگاہوں اور دریا کناروں پر تمام تجاوزات ختم کی جائیں اور متاثرین کو متبادل زمین اور رہائش فراہم کی جائے۔ پاکستان کے مختلف دریائوں کو جہاں ممکن ہو آپس میں لنک کینالز کے ذریعے جوڑا جائے۔ سیلابی پانی کے محفوظ بہاؤ کے لیے بڑے اور چھوٹے درجنوں صحرائی کینالز سندھ اور بلوچستان کے صحرائی علاقوں، بالخصوص تھل، چولستان اور تھر میں کھودے جائیں تاکہ وہاں اضافی پانی محفوظ طریقے سے منتقل کیا جا سکے۔

فوج قومی مفاد میں خصوصی سرمایہ کاری فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) کی طرز پر مجوزہ نیشنل فلڈ مینجمنٹ اتھارٹی کو ہنگامی بنیادوں پر قائم کرائے۔ تمام صوبے بارش اور سیلابی ہنگامی صورتحال سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے اپنے اپنے فلڈ مینجمنٹ ڈھانچے قائم کریں۔ڈیموں اور نہروں پر سیاست بند کی جائے کیونکہ ملک ہر مون سون میں سیلابی تباہ کاریوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

رین واٹر ہارویسٹنگ سے برسات کی تباہ کاریوں اور قحط سالیوں دونوں سے بچانے کی حکمت عملی بنائی جائے۔ سیاسی مفادات سے بالا تر ہوکر بڑے ڈیم بنانے کے مشکل فیصلے کئے جائیں۔سیاست دان اپنے ذاتی مفادات کے لئے وفاق کو کب تک بلیک میل کرتے رہیں گی پاکستان کو بیک وقت سیلاب اور خشک سالی کے مسائل درپیش ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے بہتر واٹر مینجمنٹ کی اشد ضرورت ہے۔

بارش کے پانی کو محفوظ کرنا ملک و قوم کے بہترین مفاد میں ہے۔ پانی کی تباہ کاریوں پر قابو پانے کے لئے دوسرے ممالک میں کئے گئے کام کا مطالعہ کیا جائے۔ پانی کی قلت اور کثرت خراب پلاننگ کا نتیجہ ہے بلکہ ملک میں پلاننگ نام کی کوئی شے سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ ایک طرف پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو اگلے دس سالوں میں قحط کا بد ترین شکار ہوگا اور دوسری جانب مون سون میں حکمرانوں کے سوا پورا ملک پانی پانی ہو جاتا ہے۔ ہندوستان کی آبی جارحیت کی وجہ سے پورا پنجاب زیر آب آگیا ہے۔ برآمد کا مرکز سیالکوٹ شہر ڈوب گیا ہے اور ملک مصلحت کی بھینٹ چڑھ رہا ہے
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات