Live Updates

موسمیاتی تبدیلیوں سے بے حد متاثر ہونے کی وجہ سے ملک بھر میں بے انتہا نقصان ہوا ہے،محمد عبدالقادر

․بھارت کی جانب سے دریاں میں پانی چھوڑنے اور مسلسل طوفانی بارشوں کے بعد راوی, چناب اور ستلج میں سیلاب سے زیادہ تباہی مچائی، ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے حکومتی اداروں کی تیاری پہلے سے مکمل ہونی چاہئے تاکہ بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی سے بچا جا سکے،سینیٹر

جمعرات 28 اگست 2025 23:05

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 اگست2025ء) چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریاں میں پانی چھوڑنے اور مسلسل بارشوں کے بعد راوی‘ چناب اور ستلج میں سیلاب سے بے انتہا تباہی ہوئی ہے سیلابی پانی کے طوفانی بہاؤ کی وجہ سے بھارت سے پاکستان میں داخل ہونے والے دریابپھر گئے . پنجاب گنجان آباد صوبہ ہے اور اس کی آبادی 15 کروڑ کے لگ بھگ ہے،بھارت سے پاکستان میں داخل ہونے والے خوفناک ریلوں اور شدید بارشوں میں پنجاب کے سیکڑوں دیہات ڈوبنے سے سینکڑوں افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، وسیع رقبے پر کاشت شدہ فصلیں تباہ ہو گئیں , ہزاروں مویشی بہہ گئے ہیں . نارووال کرتارپورہ گردوارہ زیر آب آنے سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے،نارووال، شکر گڑھ، ظفر وال،سیالکوٹ،گوجرانوالہ،وزیر آباد، منڈی بہاؤالدین،حافظ آباد،لاہور،شیخوپورہ،سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں نمایاں ہیں،ہزاروں کلومیٹر طویل شاہراہوں اور پلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، سڑکوں کے بہہ جانے سے متعدد شہروں کے زمینی رابطے منقطع ہو گئے ہیں۔

(جاری ہے)

یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا کہ یوں تو شدید بارشوں نے پورے ملک میں تباہی مچا دی ہے لیکن پنجاب میں سیلابی ریلوں کی وجہ سے نقصان زیادہ ہوا ہے، دریائے راوی میں 38 برس بعد اس قدر شدید سیلاب آنے سے بہت زیادہ تباہی پھیلی ہے،این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے اتنے شدید سیلاب سے نمٹنے کیلئے بالکل تیار نہیں تھے خوفناک سیلاب سے نمٹنے کیلئے پیشہ ورانہ مہارت اور صلاحیتوں کے مالک افراد کی ایک تربیت یافتہ فورس تشکیل دی جانی چاہئے تھی تاکہ ہنگامی صورتحال میں شہریوں اور انکے مال مویشیوں کو نقصان سے بچایا جا سکی. پنجاب کے 8 اضلاع میں سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار نے کہا کہ سیلاب سے پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال سے نمٹنے کیلئے این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کو ایک تربیت یافتہ فورس کی طرز پر تیار کیا جائے تاکہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ہمارے ہاتھ پاؤں نہ پھولیں،موسمیاتی تبدیلیوں سے بے حد متاثر ہونے کی وجہ سے ملک بھر میں بے انتہا نقصان ہوا ہے،موسمیاتی تبدیلیوں کی مناسبت سے حکومت شہروں میں پانی کی نکاسی کا سسٹم فعال نہیں کر سکی محکمہ موسمیات کے ماہرین کے مطابق اگلے برس اس برس کی نسبت زیادہ بارشیں متوقع ہیں،ایسے ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے حکومتی اداروں کی تیاری پہلے سے مکمل ہونی چاہئے تاکہ بڑے پیمانے پر ہونے والی تباہی سے بچا جا سکے این ڈی ایم اے اور پی ڈی ایم اے کی محدود استعداد کے باعث فوج کو طلب کرنا پڑا تاکہ عوام کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔

Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات