وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی میڈیا بریفنگ، ملک کی سفارتی کوششیں "پاکستان کی حالیہ تاریخ میں سب سے متحرک دور" قرار

جمعہ 29 اگست 2025 21:50

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 اگست2025ء)نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ملک کی سفارتی کوششوں کو "پاکستان کی حالیہ تاریخ میں سب سے متحرک دور" قرار دیتے ہوئے خطے اور دنیا بھر میں ہونے والی اہم سفارتی کامیابیوں کا اعلان کیا ہے۔ جمعہ کو یہاں وزارت خارجہ میں میڈیا بریفنگ کے دوران نائب وزیراعظم نے جولائی اور اگست کے دوران ہونے والے اپنے اعلیٰ سطحی دوروں، پالیسی مباحثوں اور کثیرالجہتی مصروفیات کی تفصیلات پیش کیں اور علاقائی امن، عالمی رابطہ، تجارت کی بحالی اور اصولی بین الاقوامی حمایت میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا واضح بیانیہ پیش کیا۔

اقوام متحدہ میں تاریخی قیادت اور عالمی سفارتی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے سینیٹر اسحاق ڈار نے پاکستان کی سلامتی کونسل کی جولائی میں صدارت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران تین اہم ایونٹس منعقد ہوئے ، پاکستان نے متعدد اجلاسوں کی صدارت کی جن میں فلسطین پر ایک اجلاس بھی شامل تھا۔

(جاری ہے)

پاکستان کی قیادت میں تنازعات کے پرامن حل کے لئے ایک متفقہ قرارداد منظور کی جو ایک سفارتی سنگ میل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے اپنے مؤقف کو مؤثر طریقے سے پیش کیا۔ امریکہ اور یورپ کے ساتھ تعلقات میں نئی پیشرفت ہوئی ، واشنگٹن میں 28 جولائی کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ دو طرفہ، علاقائی اور عالمی امور پر تعمیری تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے اٹلانٹک کونسل جیسے تھنک ٹینکس سے بھی خطاب کیا جہاں عدالتی آزادی سے متعلق ان کے تبصرے کو مقامی سیاسی حلقوں نے غلط طریقے سے پیش کیا۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں عدلیہ آزادانہ طور پر کام کرتی ہے، انگریزی بیانات کو سیاسی فائدے کے لئے موڑنا افسوسناک ہے۔انہوں نے یورپی یونین اور برطانیہ کی فضائی پابندیوں کے خاتمے کو بھی سفارتی کامیابی قرار دیا۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز( پی آئی ای) پر یورپی یونین کی پابندی نومبر 2024 میں ہٹا لی گئی تھی اور اب برطانیہ کی پابندیاں بھی ختم ہو گئی ہیں۔

ستمبر میں مانچسٹر کے لئے پروازیں دوبارہ شروع ہوں گی۔ اسحاق ڈار نے فلسطین کے حوالے سے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کی توثیق کرتے ہوئے فرانس اور سعودی عرب کی مشترکہ میزبانی میں بین الاقوامی کانفرنس اور 25 اگست کو جدہ میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے ہنگامی اجلاس میں اپنی شرکت کا بھی تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی میں پاکستان نے نام نہاد 'گریٹر اسرائیل' کے منصوبے کو واضح طور پر مسترد کر دیا، اسے 'غیر قانونی اور ناقابل قبول' قرار دیا۔

انہوں نے ایران-اسرائیل تنازعہ کے دوران پاکستان کی خاموش سفارتی کوششوں کا بھی انکشاف کیا جس کے نتیجے میں ایران نے پاکستان کو حقیقی دوست تسلیم کیا۔ ایرانی پارلیمنٹیرینز نے اپنی پارلیمنٹ میں 'شکریہ پاکستان' کے نعرے لگائے،یہ خود ہمارے سفارتی اقدامات کی کامیابی کی داستان بیان کرتا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 20 اگست کو کابل کے دورے کو "مفید اورتذویراتی دورہ قرار دیا جہاں پاکستان، چین اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان مہاجرین، سرحدی سلامتی، تجارت اور انفراسٹرکچر پر سہ فریقی بات چیت ہوئی۔

"پاکستان-افغانستان-ازبکستان ریلوے کا معاہدہ بھی ہوا اور چین نے اصولی طور پر سی پیک کو افغانستان تک توسیع دینے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ پاکستان اور چین 2026 میں سفارتی تعلقات کے 75 ویں سالگرہ منائیں گے جس کے لئے ثقافتی اور اقتصادی تقریبات کا ایک سلسلہ ترتیب دیا گیا ہے۔ چین کی زراعت، کان کنی اور صنعتی سرمایہ کاری میں بڑھتی ہوئی دلچسپی ہے اور 1,000 پاکستانی گریجویٹس کو اعلیٰ زرعی تعلیم کے لئے چین بھیجا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش (23-24 اگست) کے دورے کے دوران بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) اور جماعت اسلامی سمیت تمام بڑی جماعتوں کے سربراہان کے ساتھ مکمل سفارتی رابطہ کیا۔ ویزا ختم کرنے، تجارتی تعاون، اور ثقافتی تبادلے سمیت متعدد شعبوں میں چھ یادداشت پر دستخط ہوئے۔ انہوں نے سارک کی بحالی کے لئے بھی زور دیا اور کہا کہ بنگلہ دیش پر زور حامی ہے لیکن ایک ملک کی مزاحمت ابھی بھی رکاوٹ ہے۔

برطانیہ کے اپنے دورے (17-19 اگست) کے دوران اسحاق ڈار نے ڈپٹی وزیر اعظم اینجلا رینر، پارلیمنٹیرینز، اور دولت مشترکہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کی۔ لندن میں پاکستان ہائی کمیشن میں ڈیجیٹل پنجاب لینڈ ریکارڈز اور 'ون ونڈو' پاسپورٹ جاری کرنے کے نظام سمیت پاکستانی کمیونٹی پر مرکوز بڑی خدمات متعارف کرائی گئیں۔نائب وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اقتصادی مفادات سے وابستہ ہے، ہم علاقائی بات چیت اور عالمی مکالمے کو تشکیل دے رہے ہیں، ہماری خارجہ پالیسی اصولوں پر مبنی ہے اور پاکستانی عوام کی خواہشات کے مطابق ہے۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ "برطانیہ-پاکستان بزنس ایڈوائزری کونسل" قائم کی گئی ہے تاکہ تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ میں اضافہ ہو سکے جس سے پاکستان کی اقتصادی سفارتکاری کے عزم کو مزید تقویت ملے گی۔ اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ چاہے عالمی امن فورمز میں مشغول ہونا ہو، علاقائی تجارتی اقدامات ہوں یا تنازعہ کی ثالثی، پاکستان ایک پراعتماد اور فعال سفارتی راستے پر واپس آ گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابیاں نہ صرف بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بنا رہی ہیں بلکہ ملک کے اندر بھی اقتصادی استحکام اور ترقی میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔