سابق فوجی افسر فیض حمید کو 14 سال قید بامشقت کی سزا، اطلاق شروع
فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل 15 ماہ تک جاری رہا، ملزم کے خلاف 4 الزامات پر کارروائی کی گئی ملزم کے سیاسی عناصر کے ساتھ ملی بھگت، سیاسی افراتفری اور عدم استحکام کے معاملات الگ سے دیکھے جا رہے ہیں، آئی ایس پی آ ر سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال، متعلقہ افراد کو ناجائز نقصان پہنچانا شامل فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے، ملزم کو دفاع کے لیے وکیلوں کی ٹیم منتخب کرنے سمیت تمام قانونی حقوق فراہم کیے گئے، اعلامیہ
جمعرات 11 دسمبر 2025 18:55
(جاری ہے)
انٹر سروسز پبلک ریلیشنز نے اپنے بیان میں کہا کہ طویل اور محنت طلب قانونی کارروائی کے بعد ملزم تمام الزامات میں قصور وار قرار پایا گیا۔
عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کا اطلاق 11 دسمبر 2025 سے شروع ہوگیا۔آئی ایس پی آر نے کہا کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل نے تمام قانونی تقاضے پورے کیے، ملزم کو دفاع کے لیے وکیلوں کی ٹیم منتخب کرنے سمیت تمام قانونی حقوق فراہم کیے گئے، ملزم کے سیاسی عناصر کے ساتھ ملی بھگت، سیاسی افراتفری اور عدم استحکام کے معاملات الگ سے دیکھے جا رہے ہیں۔یاد رہے کہ فیض حمید کو 12 اگست 2024 کو فوجی تحویل میں لیا گیا تھا، 12 اگست کو ان کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی گئی تھی۔ کارروائی سپریم کورٹ کی ہدایت پر نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے معاملے پر شکایات کے بعد شروع کی گئی تھی۔29 نومبر 2022 کو لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی تھی، سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں فیض حمید کے خلاف ایک تفصیلی کورٹ آف انکوائری ہوئی۔ پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت فیض حمید کے خلاف مناسب تادیبی کارروائی شروع کی گئی تھی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 12 اگست 2024ء کو پاکستان آرمی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی کارروائی شروع کی گئی ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ ان کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت مناسب انضباطی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ٹاپ سٹی کی کورٹ آف انکوائری شروع کی گئی، فیض حمید کے خلاف ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ کی کئی خلاف ورزیاں ثابت ہو چکی ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے تفصیلی کورٹ آف انکوائری کی گئی، انکوائری پاک فوج نے فیض حمید کے خلاف ٹاپ سٹی کیس میں شکایات کی درستگی کا پتہ لگانے کیلئے کی۔ یاد رہے کہ فیض آباد دھرنے سے متعلق فیض حمید کا نام اس وقت منظر عام پر آیا جب ان پر حکومت، ٹی ایل پی معاہدہ کروانے کی بات سامنے آئی، 27 نومبر2017 کو حکومت پاکستان، تحریک لبیک کے درمیان معاہدے کے آخر میں بوساطت میجر جنرل فیض حمیدلکھا گیا تھا۔2018 کے انتخابات کے بعد پی ٹی آئی حکومت نے 2019 میں فیض حمید کو سربراہ آئی ایس آئی مقرر کیا، فیض حمید دو سال سے زائد عرصہ کے لیے سربراہ آئی ایس آئی رہے۔بعدازاں تحریک لبیک سے معاہدے کے معاملے پر سپریم کورٹ نے فیصلے میں ایسے افسران کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا، فیض حمید پر سیاسی معاملات میں مداخلت کرتے ہوئے اپنے حلف کی پاسداری نہ کرنے کا الزام لگا، اسی دور میں سیاسی انتقام، گرفتاریوں، وفاداریوں کی تبدیلی کے الزامات سامنے آئے، سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی تقریروں میں فیض حمید پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے۔سابق فوجی افسر فیض حمید کے دور میں سیاسی مداخلت کے بھی الزامات سامنے آئے، کابل میں طالبان کی آمد کے 3 ہفتے بعد فیض حمید کی دورہ کابل میں کافی کپ کے ساتھ تصویر پر شدید تنقید ہوئی۔پی ٹی آئی دورِ حکومت میں فیض حمید پر پی ٹی آئی کے مخالفین کو جیلوں میں ڈالنے کے الزامات لگے، پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں قانون سازی کیلئے اسمبلی اجلاسوں میں اراکین کی حاضری پوری کروانے کا بھی الزام لگا، فیض حمید پر بجٹ منظور کروانے میں بھی ملوث رہنے کا الزام لگا۔ 2017 اور 2018 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے بھی فیض حمید پر مداخلت کے الزامات لگائے۔مزید قومی خبریں
-
لاہور: یتیم خانہ چوک میں کالعدم مذہبی تنظیم کے دفتر پر تعینات پولیس اہلکاروں پرفائرنگ
-
سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں ایک کروڑ 40لاکھ ڈالر کا اضافہ
-
پاکستان، قازقستان زرعی استعداد کو تجارتی مواقع میں تبدیل کرنے پر متفق
-
نوجوان پاکستان کا قیمتی اثاثہ، ملکی ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں، گورنر سندھ
-
آزادی کا دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے،گورنرسندھ
-
بلوچستان کے طلباء ملکی جامعات میں تعلیم حاصل کرکے ملک و صوبے کی ترقی میں کردار ادا کریں ، میرسرفرازبگٹی
-
ساہیوال ، مختلف وارداتیں، 7لاکھ سے زائد نقدی ،4موبائل فون لوٹ لئے گئے،4 ڈاکو گرفتار
-
ساہیوال ،ذخیرہ اندوزوں سے 20ہزار میٹرک ٹن سے زائد گندم تحویل میں لے لی گئی
-
گورنر خیبر پختونخوا سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے سندھ کی ملاقات
-
اینٹی کرپشن کوبھیجے گئے کرپشن مقدمات دوبارہ نیب عدالتوں کو منتقل ہوگئے
-
گورنر خیبر پختونخوا کی شہید ڈی ایس پی دیار خان کے گھر آمد، فاتحہ خوانی اور اہلخانہ سے تعزیت کی
-
بزرگوں کی قربانیوں، جدوجہد اور دعائوں کے ثمر سے آج ہم آزاد وطن میں فخر سے سانس لے رہے ہیں، فردوس عاشق اعوان
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.