سی پیک منصوبے بلوچستان میں ترقی کی رفتار تیز کر رہے ہیں، بنیادی ڈھانچے، توانائی اور سماجی اقدامات میں تیزی سے پیشرفت

جمعہ 12 دسمبر 2025 21:33

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 دسمبر2025ء) بلوچستان کا ترقیاتی منظرنامہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت بڑی تبدیلی کا مشاہدہ کر رہا ہے جس میں توانائی کی پیداوار، سڑکوں کی کنیکٹیویٹی، صنعتی زونز اور کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں نمایاں پیشرفت ہو رہی ہے۔گوادر پرو کے مطابق متعدد بڑے پیمانے پر منصوبے جو کہ گرانٹس، بلڈ آپریٹ ٹرانسفر (BOT) ماڈلز، پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) فنڈنگ اور چینی سرمایہ کاریوں کے ذریعے فنڈ کیے گئے ہیں، مکمل ہو چکے ہیں یا تیز رفتار سے ترقی کر رہے ہیں، جس سے سی پیک کی اہمیت علاقائی ترقی کے محرک کے طور پر مزید مستحکم ہوئی ہے۔

توانائی کے شعبے میں نمایاں کامیابیوں میں 1,320 میگاواٹ چین حب کول پاور پلانٹ کا کامیاب تکمیل شامل ہے، جو 1.9 ارب امریکی ڈالر کا آزاد پاور پروڈیوسر (IPP) منصوبہ ہے اور یہ قومی گرڈ کو ضروری بیس لوڈ بجلی فراہم کر رہا ہے۔

(جاری ہے)

اس کے ساتھ ساتھ 300 میگاواٹ گوادر کول پاور منصوبہ بھی جاری ہے جس کی لاگت 542 ملین امریکی ڈالر ہے اور یہ گوادر اور اس کے ارد گرد کے اضلاع کو بجلی کی فراہمی کو مستحکم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

کنیکٹیویٹی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی، جو تجارت، لاجسٹکس اور سماجی و اقتصادی انضمام کو فروغ دینے کے لیے ضروری ہے، ایک اور شعبہ ہے جس میں تیز رفتار ترقی ہو رہی ہے۔ صوبے بھر میں مکمل ہونے والے منصوبوں میں ایسٹ بے ایکسپریس وے فیز-I (179 ملین امریکی ڈالر) شامل ہے، جو گوادر پورٹ کی کنیکٹیویٹی کو بہتر بناتا ہے، خضدار-بسیمہ روڈ (110 کلومیٹر) جس کی قیمت 118 ملین امریکی ڈالر ہے، نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ (230 ملین امریکی ڈالر کا چینی گرانٹ) اور گوادر پورٹ و فری زون (300 ملین امریکی ڈالر کا بی او ٹی سرمایہ کاری) شامل ہیں، جس سے پاکستان کی سمندری تجارت کی صلاحیتوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

گوادر پرو کے مطابق سماجی و اقتصادی فلاح و بہبود سی پیک کی ترقیاتی حکمت عملی کا مرکزی جزو ہے۔ مکمل ہونے والے گرانٹ پر مبنی منصوبوں میں گوادر اسمارٹ پورٹ سٹی ماسٹر پلان (4 ملین امریکی ڈالر)، تازہ پانی کی فراہمی اور علاج کے منصوبے (130 ملین امریکی ڈالر)، پاک چین فرینڈشپ ہسپتال (100 ملین امریکی ڈالر)، ٹیکنیکل اور ووکیشنل انسٹیٹیوٹ گوادر (10 ملین امریکی ڈالر)، 1.2 ایم جی ڈی گوادر ڈیسلی نیشن پلانٹ (13.97 ملین امریکی ڈالر) اور کم ترقی یافتہ علاقوں کے لیے 15,000 سولر لائٹنگ یونٹس کی فراہمی شامل ہیں۔

زیر تعمیر کنیکٹیویٹی کے منصوبے، جو بلوچستان کی اقتصادی صلاحیت کو کھولنے کیلئے ضروری ہیں، ان میں آواران-نال روڈ (168 کلومیٹر)، جس کی لاگت 107 ملین امریکی ڈالر ہے، نوکندی-میشخیل روڈ (103 کلومیٹر)، جس کی لاگت 47 ملین امریکی ڈالر ہے، ہوشاب-آواران سیکشن M-8 (146 کلومیٹر)، جس کی لاگت 161 ملین امریکی ڈالر ہے اور ڑوب-کوئٹہ روڈ (298 کلومیٹر)، جس کی لاگت 391 ملین امریکی ڈالر ہے۔

اس کے علاوہ گوادر فری زون فیز-II پر کام جاری ہے، جس میں 285 ملین امریکی ڈالر کی BOT سرمایہ کاری کی توقع ہے۔صنعتی ترقی بوسٹان اسپیشل اکنامک زون (SEZ) کے ذریعے ہو رہی ہے، جس میں 9 ملین امریکی ڈالر کی PSDP فنڈنگ فراہم کی گئی ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر سماجی منصوبوں میں ایک برن سینٹر اور 36,000 سیلاب سے متاثرہ گھروں کی بحالی شامل ہے۔گوادر پرو کے مطابق آنے والے میگا منصوبوں میں کوئٹہ ماس ٹرانزٹ پروجیکٹ اور گوادر پورٹ کے بنیادی ڈھانچے کی بڑی توسیعات شامل ہیں، جو صوبے کی اقتصادی تبدیلی کو مزید تیز کریں گے اور بلوچستان کو سی پیک فیز-II کا ایک مرکزی ستون بنا دیں گے۔