پاکستان عالمی مسابقت میں پیش رفت کر رہا ہے مگر ابھی طویل سفر باقی ہے، وفاقی وزیر پروفیسراحسن اقبال
بدھ 14 جنوری 2026 14:37
(جاری ہے)
احسن اقبال نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 1980 میں چین کی فی کس آمدنی پاکستان سے کم تھی، آج وہ ہم سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔
اسی طرح ویتنام کی برآمدات 408 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ پاکستان اب بھی تقریباً 40 ارب ڈالر کے قریب کھڑا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چین کی فی کس آمدنی ساڑھے چودہ ہزار ڈالر جبکہ پاکستان کی محض سولہ سو ڈالر کے لگ بھگ ہے۔انہوں نے کہا کہ جاپان، کوریا، چین، ویتنام، ترکیہ اور بنگلہ دیش جیسے ممالک نے امن، استحکام اور پالیسی کے تسلسل کو ترجیح دی جبکہ پاکستان میں عدم استحکام اور بار بار حکومتی تبدیلیوں نے ترقی کے عمل کو متاثر کیا۔ ان کے مطابق امن اور پالیسی کے تسلسل کے بغیر مستحکم معاشی ترقی ممکن نہیں۔احسن اقبال نے واضح کیا کہ حکومت کا ہدف پاکستان کو دنیا کی ٹاپ 10 معیشتوں میں شامل کرنا ہے اور اس کے لیے چین پاکستان اقتصادی راہداری محض سڑکوں کا منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کا ایک جامع پروگرام ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر معاشی پالیسیوں میں تسلسل لانا ہوگا۔وفاقی وزیر نے نوجوانوں کو پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں جدید ٹیکنالوجی اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں جگہ بنانے کے لیے برآمدات پر خصوصی توجہ دینا ہوگی، کیونکہ صرف داخلی طلب پر انحصار سے وقتی طور پر چھ فیصد جی ڈی پی نمو تو حاصل کی جا سکتی ہے، مگر یہ دیرپا حل نہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قلت اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی بڑی وجہ برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہ ہونا ہے۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج کی 523 لسٹڈ کمپنیوں میں سے صرف 70 کمپنیوں کی برآمدات 10 ہزار ڈالر سے تجاوز کرتی ہیں جو تشویشناک امر ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ برآمدات کو قومی سلامتی اور خود مختاری کے ایک اہم ستون کے طور پر فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں کھجور پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے مگر برانڈنگ اور پیکجنگ کی کمی کے باعث عالمی منڈی میں اس کا بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہا۔ مقامی مارکیٹ کے غیر ضروری تحفظ نے بھی کمپنیوں کو عالمی مسابقت سے دور رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کے لیے مارکیٹ انٹیلی جنس، برانڈنگ اور مصنوعات کی مؤثر پروموشن ناگزیر ہے، اور ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر ہی ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔احسن اقبال نے مزید کہا کہ حکومت کا ہدف پائیدار ترقی، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور معیشت کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا ہے۔ اس مقصد کے لیے پالیسی اصلاحات، نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری، خواتین اور نوجوانوں کی شمولیت، اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو ترجیح دی جا رہی ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ درست سمت میں مربوط اقدامات کے ذریعے پاکستان نہ صرف اپنی صنعتی و دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرے گا بلکہ عالمی منڈی میں مسابقتی حیثیت بھی حاصل کرے گا۔مزید اہم خبریں
-
بجلی کی قیمت میں 1پیسہ کمی کا اعلان
-
وزیراعظم نے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور بجلی چوری میں ملوث افراد کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت کردی
-
پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش پر بھارت کے بگلیہار ڈیم کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے
-
آئینی ترامیم نے نظامِ انصاف کو کمزور کردیا، عمران خان کی قید سیاسی ہے انہیں جیل میں نہیں ہونا چاہیے
-
ایل پی جی کی قیمت میں 31 پیسے کمی کا اعلان
-
ایران: نوبیل انعام یافتہ نرگس محمدی کی گرتی صحت بارے تشویش
-
صحت کی سہولتوں اور طبی کارکنوں پر حملوں میں خطرناک اضافہ
-
افغان طالبان رجیم ایک پروپیگنڈا کے تحت پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کا جھوٹا الزام لگا رہی ہے
-
معرکہ حق عوام، حکومت اورافواجِ پاکستان کے درمیان غیر متزلزل ہم آہنگی کی علامت ہے
-
حکومت نے 2030ء تک ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے، مصطفی کمال
-
اسحق ڈار کی زیرصدارت اجلاس، کرشنگ سیزن کے اختتام پر چینی کی پیداوار کا جائزہ لیا گیا
-
میوچل فنڈ کا شعبہ بچتوں کو متحرک کرنے، مالیاتی ثالثی کو مضبوط بنانے اور پاکستان کی کیپٹل مارکیٹس کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، وزیرخزانہ
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.