پاکستان عالمی مسابقت میں پیش رفت کر رہا ہے مگر ابھی طویل سفر باقی ہے، وفاقی وزیر پروفیسراحسن اقبال

بدھ 14 جنوری 2026 14:37

پاکستان عالمی مسابقت میں پیش رفت کر رہا ہے  مگر ابھی طویل سفر باقی ہے، ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 جنوری2026ء) وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اورخصوصی اقدامات پروفیسراحسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت ہونے کے ساتھ ساتھ آج دنیا بھر میں جے ایف-17 طیارے بھی فروخت کر رہا ہے جبکہ ٹریکٹر سازی، آٹوموبائل اور انجینئرنگ کے شعبوں میں بھی نمایاں ترقی دیکھنے میں آئی ہے، تاہم عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1947 سے 2025 تک پاکستان نے متعدد کامیابیاں سمیٹی ہیں، ملک میں یونیورسٹیوں اور شاہراہوں کا وسیع نیٹ ورک قائم ہوا اور دفاعی و صنعتی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا، مگر دنیا سے موازنہ کیا جائے تو ہماری کامیابیاں ماند پڑ جاتی ہیں، اس لیے اب اگلی منزل کو دیکھنا ہوگا ۔

(جاری ہے)

احسن اقبال نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ 1980 میں چین کی فی کس آمدنی پاکستان سے کم تھی، آج وہ ہم سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔

اسی طرح ویتنام کی برآمدات 408 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں، جبکہ پاکستان اب بھی تقریباً 40 ارب ڈالر کے قریب کھڑا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چین کی فی کس آمدنی ساڑھے چودہ ہزار ڈالر جبکہ پاکستان کی محض سولہ سو ڈالر کے لگ بھگ ہے۔انہوں نے کہا کہ جاپان، کوریا، چین، ویتنام، ترکیہ اور بنگلہ دیش جیسے ممالک نے امن، استحکام اور پالیسی کے تسلسل کو ترجیح دی جبکہ پاکستان میں عدم استحکام اور بار بار حکومتی تبدیلیوں نے ترقی کے عمل کو متاثر کیا۔

ان کے مطابق امن اور پالیسی کے تسلسل کے بغیر مستحکم معاشی ترقی ممکن نہیں۔احسن اقبال نے واضح کیا کہ حکومت کا ہدف پاکستان کو دنیا کی ٹاپ 10 معیشتوں میں شامل کرنا ہے اور اس کے لیے چین پاکستان اقتصادی راہداری محض سڑکوں کا منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کا ایک جامع پروگرام ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر معاشی پالیسیوں میں تسلسل لانا ہوگا۔

وفاقی وزیر نے نوجوانوں کو پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں جدید ٹیکنالوجی اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں جگہ بنانے کے لیے برآمدات پر خصوصی توجہ دینا ہوگی، کیونکہ صرف داخلی طلب پر انحصار سے وقتی طور پر چھ فیصد جی ڈی پی نمو تو حاصل کی جا سکتی ہے، مگر یہ دیرپا حل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈالر کی قلت اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی بڑی وجہ برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہ ہونا ہے۔ کراچی اسٹاک ایکسچینج کی 523 لسٹڈ کمپنیوں میں سے صرف 70 کمپنیوں کی برآمدات 10 ہزار ڈالر سے تجاوز کرتی ہیں جو تشویشناک امر ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ برآمدات کو قومی سلامتی اور خود مختاری کے ایک اہم ستون کے طور پر فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا میں کھجور پیدا کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے مگر برانڈنگ اور پیکجنگ کی کمی کے باعث عالمی منڈی میں اس کا بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہا۔

مقامی مارکیٹ کے غیر ضروری تحفظ نے بھی کمپنیوں کو عالمی مسابقت سے دور رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کے لیے مارکیٹ انٹیلی جنس، برانڈنگ اور مصنوعات کی مؤثر پروموشن ناگزیر ہے، اور ماضی کی غلطیوں سے سیکھ کر ہی ایک مستحکم اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔احسن اقبال نے مزید کہا کہ حکومت کا ہدف پائیدار ترقی، روزگار کے مواقع میں اضافہ اور معیشت کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا ہے۔

اس مقصد کے لیے پالیسی اصلاحات، نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری، خواتین اور نوجوانوں کی شمولیت، اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو ترجیح دی جا رہی ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ درست سمت میں مربوط اقدامات کے ذریعے پاکستان نہ صرف اپنی صنعتی و دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرے گا بلکہ عالمی منڈی میں مسابقتی حیثیت بھی حاصل کرے گا۔