حکمران جماعتیں دھاندلی زدہ انتخابی نتائج کے باعث اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی بنی ہوئی ہیں

ملک میں طاقت کے زور پر’’ہائبرڈ نظام‘‘بڑی خرابیوں کا باعث بن گیا ہے، فارم 47 کا فراڈ قومی سلامتی کے لیے خطرناک شکل اختیار کرگیا ہے، امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 11 فروری 2026 23:52

حکمران جماعتیں دھاندلی زدہ انتخابی نتائج کے باعث اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ ..
لاہور ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 11 فروری 2026ء ) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی صدارت میں منعقدہ اجلاس میں مرکزی مجلس شوریٰ نے ملک کے ہر آن بگڑتے بڑھتے بحرانوں کے گھمبیر ہونے پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہابے کہ ملک کے اسلامی نظریاتی کردار کو قرآن وسنت اور آئین سے متصادم قانون سازی اورانتظامی احکامات کے ذریعے مسخ کیا جارہا ہے، آئین اورعدلیہ کی پامالی سے عوام کو سیاسی، جمہوری انتخابی اور بلدیاتی حقوق سے محروم کرنے کا کھیل بنا دیا گیا ہے۔

سیاسی بحران ہر شعبہ ہائے زندگی میں عدم استحکام کی جڑ ہے،
مرکزی شوریٰ نے متفقہ قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ عورت کے تحفظ کو ریاستی ذمہ داری کے طور پر مؤثر قانون سازی اور فوری و شفاف انصاف کے نظام کے ذریعے یقینی بنایا جائے۔

(جاری ہے)

تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں کہا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا، بلوچستان میں دہشت گردی اور اسلام آباد میں خودکش دھماکے انتہائی تشویشناک ہیں، دہشت گردی کے پے در پے اورمسلسل واقعات، بیرونی قوتوں کے آلہ کار دہشت گرد اپنے ا ہداف حاصل کر رہے ہیں جبکہ وفاقی و صوبائی حکومتیں اور سیکورٹی فورسز بے بس اور عوام کو جان مال عزت کا تحفظ دینے میں ناکام ہیں،معاشی حالات کی بہتری کے حکومتی دعوے سفید جھوٹ ہیں جبکہ غریب، بے روزگار اور معاشی حالات سے تنگ افراد کی خودکشیاں، نوجوانوں کو ملک چھوڑنے کے ہتھکنڈے اور جرائم و منشیات کی دُنیا میں دھکیلنے کامکروہ دھندہ عروج پرہے۔

سود، رشوت، کرپشن، قومی خزانہ کی لوٹ مار اور عیاشیاں، غیر ترقیاتی اخراجات میں بے دریغ اضافہ قومی معیشت کے لئے کینسر بن گیا ہے۔
 2024 کے قومی انتخابات میں انتخابی نتائج کی انجینئرنگ، عوامی مینڈیٹ کو تبدیل کر دینے کے لئے فارم 47 کا فراڈ قومی سلامتی کے لیے خطرناک شکل اختیار کر گیاہے، معرکہ حق میں عظیم کامیابی ملک کے اندرونی استحکام کا ذریعہ بننے کی بجائے طاقت کے زور پر’’ہائبرڈ نظام‘‘بڑی خرابیوں کا باعث بن گیا ہے۔

ملک وملت کو درپیش بحرانی صورت حال کا تقاضا ہے کہ سیاسی، جمہوری، ریاستی قیادت سنجیدگی سے بحرانوں کے خاتمہ کے لئے اقدامات کرے، حکومت میں شامل جماعتیں چونکہ دھاندلی زدہ انتخابی نتائج کی ذلت میں ڈوبنے کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی بنی ہوئی ہے، عوام پر تاریخ کا بدترین جبر مسلط ہے اور شہریوں کو بااختیار بلدیاتی مقامی حکومتوں کے نظام سے بھی محروم کردیا گیا ہے، جو سنگین آئینی جرم ہے۔

مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس نے حکومت کے کشمیروفلسطین مسئلہ پر قومی امنگوں سے انحراف پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کے’بورڈ آف پیس‘ کا حصہ بننا پاکستان کے اصولی موقف اور بانی پاکستان قائد اعظم کی اصولی پالیسی سے صریحاً انحراف ہے جبکہ امریکہ کا واضح ہدف فلسطینیوں کو ان کے حق سے محروم کرنا اور اسرائیل کے ناجائز وجود کو تحفظ دیناہے۔

وزیراعظم نے اس اہم ترین اقدام اور پاکستان کے لیے دوررَس اثرات کے حامل فیصلہ پر قومی اتفاق رائے پیدا نہیں کیا۔ جماعت اسلامی امریکی صدر ٹرمپ کے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے ڈھونگ کو مسترد کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ فلسطین وکشمیر پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز پر مبنی قومی کانفرنس طلب کی جائے، حکومت بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ واپس لے کیونکہ یہ حکومت ایک غیر نمائندہ و ناجائز حکومت ہے۔

جسے اتنے بڑے اور بنیادی فیصلے کاکوئی حق حاصل نہیں ۔
مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس نے ملک کو سیاسی، آئینی، عدالتی، جمہوری اور امن عامہ کے بحرانوں سے نجات دلانے کے لئے قومی ایجنڈا تجویز کیا ہے۔ سیاسی استحکام کے لئے تجویز کردہ قومی ایجنڈا کے اہم نکات کی روشنی میں جماعت اسلامی تمام سیاسی، ریاستی، سول سوسائٹی کے تمام اسٹیک ہولڈرز سے رابطہ کرے گی۔

شوریٰ کی متفقہ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئین پاکستان کی حفاظت اور پابندی کی جائے، متفقہ قومی دستاویز دستورِپاکستان میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کو ختم کرنے پر اتفاق کیاجائے۔عدلیہ کی آزادی اور غیر متنازع حیثیت کی بحالی یقینی بنائی جائے۔ شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات کو یقینی بنایا جائے، کوئی بھی سیاسی جمہوری پارٹی اقتدار کے حصول کے لئے اسٹیبلشمنٹ کے غیر آئینی ہتھکنڈوں کا آلہ کار نہ بنے، الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بااختیار بنایاجائے اور تما م جماعتیں جو انتخابات میں حصہ لیں وہ عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کریں۔

نیز جمہوریت اور پارلیمانی نظام کو بااعتماد ومستحکم بنانے کے لئے متناسب نمائندگی کے طرز انتخاب پر اتفاق کیاجائے۔ وفاق اور صوبے عوام کو بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام دیں۔کراچی میں ناجائزبنیادوں پر میئر شپ پر سندھ حکومت کا قبضہ کراچی کے عوام کی تذلیل اور پریشانیوں کا سبب بن گیا ہے۔ سیاسی جمہوری جماعتیں نوجوانوں کو جمہوری اعتماد دینے کے لئے طلبہ یونینز کی بحالی پر اتفاق کریں۔

بلوچستان، خیبر پختونخوا کی صورت حال مسلسل دہشت گردی کے واقعات ملکی سلامتی کے نقطہ نظر سے انتہائی تشویشناک ہیں اور سندھ میں انتہائی بری گورننس ،کرپشن اوربدامنی بڑا المیہ ہے، بلوچستان کے 12اضلاع میں بیک وقت بی ایل اے کا اعلانیہ حملہ ،لوٹ مار،قتل و غارت گری اور  اسلام آباد میں خود کش دھماکوں کے المناک واقعات عوام میں گہرا تذبذب اور شکوک و شبہات پیدا کررہے ہیں کہ اندرونی سیکورٹی دہائیوں سے فوج کے ہاتھ میں ہے جس کے نتیجے میں فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیتیں بُری طرح متاثر ہوتی رہی ہیں ۔ ناراض عوام اور نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے از سر نو قومی ایکشن پلان پر قومی اتفاق رائے پیدا کیاجائے۔