کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 فروری2026ء) امیر
جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے اپوزیشن لیڈر کے ایم سی و نائب امیر
کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ ، امیر ضلع کورنگی مرزا فرحان بیگ اور ٹاؤن چیئرمین لانڈھی عبدالجمیل کے ہمراہ
جماعت اسلامی و لانڈھی ٹاؤن کے تحت ’’سنورتا لانڈھی، بدلتا لانڈھی‘‘کے عنوان سے جاری تعمیراتی و ترقیاتی پروگرام کے سلسلے میں 600 پیور بلاک گلیوں کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا اور ماڈل محلے کا افتتاح کیا۔
اس موقع پر اہلِ لانڈھی و کورنگی کی جانب سے حافظ نعیم الرحمن کا شاندار اور فقید المثال استقبال کیا گیا، پھولوں کی پتیاںنچھاور کی گئیں ، اس موقع پر مردو خواتین سمیت علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد بھی موجود تھی جنہوں نے
جماعت اسلامی کی
بلدیاتی قیادت کی عوامی خدمات اور کوششوں کو سراہا ، افتتاحی تقریب میں ہزاروں افراد نے شرکت کی، حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے لانڈھی ٹائون کی پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ جتنے بھی اختیارات و وسائل موجود ہیں ان کے ذریعے ہم عوامی فلاح و بہبود کے کام کرتے رہیں گے ،
جماعت اسلامی کے
بلدیاتی نمائندوں نے ثابت کیا ہے کہ کم وسائل میں بھی ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ عوام کی خدمت کی جا سکتی ہے ۔
(جاری ہے)
رمضان المبارک کے بعد آئی پی پیز ‘بجلی میں فکسڈ چارجز کے ظالمانہ فیصلے اور آٹاو چینی مافیا کے خلاف بھی بھرپور تحریک چلائی جائے گی، قبضہ مافیا چند ہاتھوں میں محدود ہے جبکہ عوام کی تعداد بہت زیادہ ہے، اگر عوام متحد ہو جائیں تو کوئی طاقت ان کے حقوق نہیں چھین سکتی۔افتتاحی تقریب سے اپوزیشن لیڈر کے ایم سی و نائب امیر
کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ ،امیر
جماعت اسلامی ضلع کورنگی مرزا فرحان بیگ ،ٹاؤن چیئرمین لانڈھی عبد الجمیل نے بھی خطاب کیا ، حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ
نعمت اللہ خان کے دور میں
بلدیاتی نمائندوں کو کچھ نہ کچھ اختیارات حاصل تھے لیکن آج منتخب نمائندوں سے اختیارات مکمل چھین لیے گئے ہیں۔
ایم کیو ایم
پیپلز پارٹی کے ساتھ شریک اقتدار رہی ہے اور تمام ترامیم میں شامل رہی ہے، موجودہ حکومت کے
گورنر بھی انہی کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
گورنر کہتے ہیں کہ
جماعت اسلامی کے پاس 9 ٹاؤنز ہیں، پھر بھی اختیار ات کی بات کیوں کی جاتی ہے جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ تمام اختیارات
سندھ حکومت نے اپنے قبضے میں لے رکھے ہیں اور دینے کو تیار نہیں ، عوام کے منتخب چیئرمین کو اپنی ٹیم تک مقرر کرنے کا اختیار نہیں، تمام تقرریاں
سندھ حکومت کرتی ہے جو
کرپشن کے ذریعے کی جاتی ہیں۔
سالڈ ویسٹ مینجمنٹ
،پانی و سیوریج کا نظام بھی منتخب نمائندوں کے ماتحت نہیں ، واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے چیئرمین قابض میئر مرتضیٰ وہاب ہیں جو گٹروں کے ڈھکن تک نہیں لگواتے جس کے باعث معصوم بچے گٹروں میں گر کر
جاں بحق ہو رہے ہیں
۔جماعت اسلامی وہ کام بھی انجام دے رہی ہے جو اس کے دائرہ اختیار میں بھی نہیں آتے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
نیو
کراچی ٹاؤن میں ایک ہزار گلیوں کی تعمیر جاری ہے جبکہ لانڈھی ٹاؤن میں تقریبا600 گلیوں پر کام ہو رہا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ بنو قابل کے تحت
کراچی میں 70 ہزار سے زائد طلباء و طالبات کو فری آئی ٹی کورسز کروائے جا چکے ہیں اور پورے
پاکستان میں نوجوانوں کے لیے فری آئی ٹی کورسز جاری ہیں،جب
جماعت اسلامی اور الخدمت
تعلیم کے میدان میں اتنا کام کر سکتی ہے تو حکومت اور ریاست کیوں نہیں کر سکتیں۔
کے الیکٹرک مافیا کو وفاقی اور صوبائی حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔
پاکستان میں 48 ہزار میگاواٹ
بجلی موجود ہے لیکن عوام
لوڈشیڈنگ کا شکار ہیں ،عوام
لوڈشیڈنگ سے تنگ آ کر سولر سسٹم لگا رہے ہیں ، اب نیٹ میٹرنگ ختم کر کے سولر کے خلاف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔مسلم لیگ ن،
پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور
ایم کیو ایم سب آئی پی پیز مافیا کے ساتھ ملی ہوئی ہیں۔
سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہا کہ
سندھ حکومت3500 ارب روپے لے کر بیٹھی ہوئی ہے اور ٹاؤن و یوسی کو ترقیاتی
بجٹ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔
کراچی کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق نہیں دیئے جارہے۔ گزشتہ ایک سال میں سڑکیں نہ ہونے کے باعث سینکڑوں لوگ
ٹریفک حادثات میں
شہید ہوئے۔ ہم حکمرانوں سے اپناپورا حق لیں گے اور کرپٹ مافیا کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔
مرزا فرحان بیگ نے کہا کہ قابض مئیر مرتضیٰ وہاب بتائیں کہ 18 سال سے
سندھ پر حکومت
پیپلز پارٹی کی ہے ‘کے فور منصوبہ کیوں مکمل نہیں کیاگیا،پورا
کراچی پانی کی بوند بوند کو ترس رہا ہے،
پانی کی لائنیں پھٹ جاتی ہیں لیکن ٹینکر کے ذریعے باقاعدہ
پانی بیچا جاتا ہے، کورنگی ٹاؤن میں انڈسٹریل ایریا ہے اور صنعت کار
پانی کی پریشانی کا شکار ہیں۔
ایم کیو
ایم کے سابق مئیر کے پاس جتنے وسائل اور اختیارات تھے آج بھی اتنے ہی ہیں اس کے باوجود
جماعت اسلامی کے ٹاؤنز میں کام ہورہے ہیں،وسیم اختر فائل پھینک کر چلے گئے لیکن
کراچی کو کچھ نہیں دیا، اختیارات اور وسائل نہ ہونے کے باوجود
جماعت اسلامی کی امانت دار قیادت عوام کے لیے کام کررہی ہیں، اگر
جماعت اسلامی کی قیادت کو ترقیاتی فنڈ دیا جائے تو ایک ماڈل محلے کی جگہ پورے لانڈھی کو ماڈل ٹاؤن بنا دیں گے ،
پیپلز پارٹی کے 3 یوسی چیئرمینز نے استعفیٰ صرف اسی وجہ سے دیا کہ کورنگی ٹاؤن کا چیئرمین کرپٹ ہے، کورنگی ٹاؤن نے 700 ملازمتیں فروخت کی ہیں ،
پیپلز پارٹی کے ٹاؤن چیئرمین اپنے ٹاؤن کے لوگوں کا استحصال کررہے ہیں۔
عبد الجمیل نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن
پاکستان کے عوام کی امید ہیں اور 25کروڑ عوام کے حقوق کی
جنگ لڑرہے ہیں، مایوسی کے اندھیرے جتنے بھی ہوں وہ ایک نہ ایک دن چھٹ جائیں گے، لانڈھی ٹاؤن میں 30 پارکس بحال کیے جاچکے ہیں اور ماڈل محلے بنا ئے جا رہے ہیں ، ہزاروں گھروں میں
پانی پہنچایا جاچکا ہے اور مزید گھرانوں میں بھی
پانی پہنچائیں گے، وسائل کی کمی کے باوجود تعمیر و ترقی کے قدم آگے بڑھ رہے ہیں، ہم ہر یوسی کو برابر فنڈز دے رہے ہیں۔