Live Updates

سندھ کے مختلف سرکاری محکموں میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین کے مسائل حل نہ ہو سکے

ملازمیں کی سروس اسٹرکچر اور دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے بجٹ سے قبل بڑی تحریک چلانے اور بجٹ کے دن سندھ سیکریٹریٹ کے سامنے دھرنے کی دھمکی

اتوار 19 اپریل 2026 17:00

شکارپور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 اپریل2026ء) سندھ کے مختلف سرکاری محکموں میں کام کرنے والے ہزاروں ملازمین کے مسائل حل نہ ہو سکے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے بھی ان کی کمر توڑ دی ہے۔ تنخواہوں، پنشن، سروس اسٹرکچر اور دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے بجٹ سے قبل بڑی تحریک چلانے اور بجٹ کے دن سندھ سیکریٹریٹ کے سامنے دھرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

صوبائی صدر کی جانب سے مختلف اجلاس جاری ہیں۔رپورٹ کے مطابق سندھ کے مختلف سرکاری محکموں کے ہزاروں ملازمین اپنے جائز مطالبات کی منظوری کے لیے سراپا احتجاج ہیں۔ سندھ حکومت کی جانب سے بار بار وعدے کرنے کے باوجود تنخواہوں، پنشن، سروس اسٹرکچر، میڈیکل الانس، ہاس رینٹ، ریٹائرڈ ملازمین کو گروپ انشورنس، ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کرنے اور دیگر مسائل پر نظرثانی نہ ہونے کے باعث ہزاروں ملازمین مایوسی کا شکار ہیں۔

(جاری ہے)

جبکہ روز بروز بڑھتی ہوئی پیٹرولیم مصنوعات اور دیگر ضروری اشیائے صرف کی مہنگائی نے بھی ان کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔اس سلسلے میں آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (آپکا)سندھ کے صدر مقبول احمد مہر نے جائز مطالبات کی منظوری کے لیے ایک بار پھر بھرپور احتجاجی تحریک چلانے اور بجٹ کے دن ہزاروں ملازمین کے ہمراہ سندھ سیکریٹریٹ کا گھیرا کرنے کی دھمکی دی ہے، جس کے لیے مختلف اضلاع میں اجلاس جاری ہیں۔

صوبائی صدر مقبول احمد مہر کی جانب سے جاری کردہ پریس بیان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو ملازم دشمن قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کیا گیا ہے اور حکومتی پالیسیوں کو عوام، مزدور اور ملازمین دشمن قرار دیتے ہوئے دفاتر کی تالہ بندی اور سڑکوں پر نکلنے کا اعلان کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دور میں 160 روپے فی لیٹر پیٹرول ہونے پر اسلام آباد تک مارچ اور سائیکل پر مظاہرے کرنے والے آج حکومت میں بیٹھے ہیں، جنہوں نے پیٹرول کی قیمتیں آسمان تک پہنچا دی ہیں۔

اقتدار میں آنے کے بعد انہیں نہ عوام کا احساس ہے اور نہ ہی تنخواہ دار طبقے کی مشکلات کا، جس کے باعث سفید پوش طبقہ شدید مہنگائی کا سامنا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملازمین اپنی تنخواہوں سے بچوں کی تعلیم، صحت، گھروں کے کرائے یا بجلی و گیس کے بھاری بل ادا کریں، یہ ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ سندھ کے سرکاری ملازمین اپنے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے ایک بار پھر باقاعدہ احتجاجی تحریک شروع کریں گے، جس کے لیے کراچی سمیت مختلف شہروں میں اجلاس کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے ساتھ کئی بار مذاکرات کیے گئے مگر ملازمین کے بنیادی مطالبات پر کوئی سنجیدہ پیش رفت نہیں ہوئی۔ ان مطالبات میں تنخواہوں میں اضافہ، پروموشن کا واضح نظام، سروس اسٹرکچر کی بہتری، مہنگائی کے تناسب سے 200 فیصد تنخواہوں میں اضافہ، ہاس رینٹ، میڈیکل الانس، ریٹائرمنٹ کے وقت گروپ انشورنس اور ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کرنا شامل ہیں، جو برسوں سے حل طلب ہیں۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات