انسانیت کے خلاف بی جے پی حکومت کی جنگ، مئی 2025کی بھارتی جارحیت میں خواتین ، بچوں سمیت 40 پاکستانی شہری شہید

جمعرات 30 اپریل 2026 16:50

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 اپریل2026ء) 6–7 مئی 2025 کو بی جے پی کے زیر اقتدار بھارت نے اسٹینڈ آف میزائلز کے ذریعے پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے چھ شہری مقامات پر بلا اشتعال حملے کیے۔کشمیر میڈیاسروس کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے رات کی تاریکی میں کی جانے والی بھارتی جارحیت کو بے نقاب کرتے ہوئے 13 مئی 2025 کو جو اعداد و شمار جاری کیے انکے مطابق 40 شہری شہید ہوئے جن میں 7 خواتین اور 15 بچے شامل تھے، جبکہ 121 افراد زخمی ہوئے جن میں 10 خواتین اور 27 بچے شامل تھے۔

قبل ازیں 7 مئی کی ابتدائی بریفنگ میں 26 شہادتیں اور 46 زخمی رپورٹ ہوئے تھے، تاہم ریسکیو اور نقصانات کے جائزے کے ساتھ تعداد میں اضافہ ہوا۔

(جاری ہے)

آئی ایس پی آر نے بارہا کہا کہ حملوں کا ہدف شہری انفراسٹرکچر، رہائشی علاقے، گھر اور عبادت گاہیں (مساجد) تھیں نہ کہ کوئی فوجی یا عسکری تنصیبات۔ مختلف مقامات پر پیش آنے والے واقعات کی تفصیلات بھی سامنے آئیں۔

احمد پور شرقیہ (بہاولپور) میں ایک مسجد پر حملے میں 13 افراد شہید ہوئے جن میں دو تین سالہ بچیاں اور ایک ہی خاندان کے دس افراد شامل تھے۔ مریدکے کی عمرہ مسجد میں 3 افراد شہید ہوئے۔ کوٹلی کی عباس مسجد میں ایک 16 سالہ لڑکی اور 18 سالہ لڑکا شہید ہوئے۔ مظفرآباد کی بلال مسجد میں 3 شہری جان سے گئے اور ایک بچہ زخمی ہوا۔ آزاد جموں و کشمیر کے خویرٹہ سیکٹر میں ایک 40 روزہ بچی اپنی والدہ کے ساتھ اس وقت شہید ہوئی جب ان کے گھر پر گولہ گرا۔

سات سالہ ارتضیٰ عباس طوری، جو لیفٹیننٹ کرنل ظہیر عباس طوری کے بیٹے تھے، داورانڈی میں شہید ہوئے اور ان کی نماز جنازہ 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں ادا کی گئی۔ بچوں کے نام جوابی الفتح میزائلوں پر بطور قومی عزم کی علامت درج کیے گئے۔یہ حملے مارچ 2025 واقعے اور 23 اپریل 2025 کو بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد سامنے آئے، جنہیں کشیدگی میں اضافے کا سبب قرار دیا گیا۔

پہلگام واقعے کے بعد چریکوٹ، تتہ پانی اور نیلم سیکٹرز میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں ہوئیں جن میں ایک سات سالہ بچی بھی شامل تھی، جبکہ کوٹلی، بھمبر اور لیپہ ویلی میں خاندان بے گھر ہوئے۔پاکستان نے جواب میں آپریشن بنیان المرصوص کے تحت محدود اور ہدفی کارروائی کی، جس میں صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنایاگیا۔ پاکستان ایئر فورس نے پانچ بھارتی طیارے (جن میں رافیل شامل تھے) اور 93 ڈرونز مار گرانے کا دعویٰ کیا، جبکہ بھارتی طیارے پاکستانی فضائی حدود میں داخل نہ ہو سکے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق جوابی کارروائی میں کسی پاکستانی شہری مقام کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ عالمی میڈیا اداروں جیسے سکائی نیوز ، الجزیرہ ، رائٹرز، بی بی سی، ایسوسی ایٹیڈ پریس، فرانس 24، ٹی آر ٹی ورلڈ اور سی این این وغیرہ نے متاثرہ مقامات کا دورہ کیا اور مختلف رپورٹس پیش کیں، جبکہ بعض حلقوں میں بھارتی میڈیا کی رپورٹس پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ پاکستان نے اپنے ردعمل کو ذمہ داری کے طور پر پیش کرتے ہوئے خودمختاری کے دفاع کے عزم کا اعادہ کیا۔