اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 07 مئی 2026ء) جوہری ہتھیاروں سے لیس دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات گزشتہ سال اس وقت شدید خراب ہو گئے تھے، جب 22 اپریل کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ایک حملے میں 26 افراد ہلاک ہو گئےتھے، جن میں سے زیادہ تر ہندو سیاح تھے۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں کی بدترین کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔
بھارت
نے اس حملے کے پیچھے پاکستان کی حمایت کا الزام عائد کیا تھا، جسے اسلام آباد نے مسترد کر دیا تھا۔ اس کے بعد دونوں جانب سے سفارتی اقدامات اور شدید فوجی کشیدگی دیکھنے میں آئی تھی۔یہ تنازعہ اس وقت مزید بڑھ گیا تھا، جب بھارت نے 7 مئی 2025 کو پاکستان میں ان مقامات پر حملے کیے، جنہیں اس نے''دہشت گردوں کے کیمپ‘‘ قرار دیا تھا۔
(جاری ہے)
اس کے جواب میں اسلام آباد نے بھی فوری کارروائی کی، جس کے نتیجے میں دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان فضائی حملے، ڈرون حملے اور شدید مارٹر گولہ باری ہوئی تھی۔
نریندر مودی نے پاکستان کے خلاف فوجی کارروائیوں، جسے بھارت نے ''آپریشن سندور‘‘ کا نام دیا تھا، کا جمعرات کے روز ایک سال مکمل ہونے پر کہا، ''ہم دہشت گردی کو شکست دینے اور اس کے معاون نظام کو تباہ کرنے کے اپنے عزم پر پہلے کی طرح ثابت قدم ہیں۔
‘‘’آپریشن سندور‘
مودی
کی ہندو قوم پسند حکومت نے'سندور‘ کو ان خواتین کے انتقام کی علامت کے طور پر استعمال کیا، جن کے شوہر 22 اپریل کے حملے میں مارے گئے تھے۔ دراصل ہندو خواتین شادی شدہ ہونے کی علامت کے طور پر اپنے ماتھے پر سندور لگاتی ہیں۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا، ''بھارت نے ان لوگوں کو بھرپور جواب دیا، جنہوں نے پہلگام میں بے گناہ بھارتیوں پر حملہ کرنے کی جرأت کی۔
پوری قوم ہماری افواج کی بہادری کو سلام پیش کرتی ہے۔‘‘اس فوجی تنازعے میں دونوں جانب مجموعی طور پر 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پاکستان
کا دعویٰ ہے کہ اس نے اس جھڑپ کے دوران بھارت کے پانچ جنگی طیارے مار گرائے تھے، جن میں فرانس کے تیار کردہ تین جدید رافال جنگی طیارے بھی شامل تھے، اور یہ تمام طیارے اس وقت بھارتی فضائی حدود میں تھے۔ بھارت نے کسی بھی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔پاکستان کا ردعمل
ادھر جمعرات کو پاکستان نے ایک بیان میں، جس میں اس جھڑپ کی سالگرہ کا ذکر کیا گیا جسے اسلام آباد ''معرکہ حق‘‘ قرار دیتا ہے، کہا کہ وہ کسی بھی حملے کے خلاف اپنا بھرپور دفاع کرے گا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ اپنے وطن کو لاحق کسی بھی خطرے کا مقابلہ قومی اتحاد، غیر متزلزل عزم اور تمام دستیاب وسائل کی طاقت سے کیا جائے گا۔
‘‘بھارت
کا نام لیے بغیر اس بیان میں مزید کہا گیا، ''گزشتہ سال جب ہم پر جارحیت مسلط کی گئی تو پاکستان نے تحمل، عزم اور اخلاقی اصولوں کے ساتھ کارروائی کی۔ ہمارا جواب متوازن، ذمہ دارانہ اور درست تھا، جو جذبات نہیں بلکہ اصولوں کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔‘‘دونوں ہمسایہ ممالک نے 10 مئی کو چار روزہ تنازعہ ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا اور اس فائر بندی کا اعلان سب سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا۔
جب ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اس کا اعلان کیا، تو اس کے چند منٹ بعد اسلام آباد اور نئی دہلی کے حکام نے بھی فائر بندی کی تصدیق کر دی تھی۔
تاہم بھارت مسلسل یہ موقف اختیار کرتا رہا ہے کہ یہ فائر بندی براہ راست اسلام آباد کے ساتھ طے پائی تھی۔
جدید ترین بھارتی بیلسٹک میزائل تجربے کی تیاری
یہ اطلاعات بھی ہیں کہ بھارت اندرون ملک تیار کردہ بیلسٹک میزائل اگنی کے جدید ترین ماڈل کا تجرباتی فائر کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
'اگنی‘ سنسکرت زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب 'آگ‘ ہے، اور یہ میزائل متعدد جوہری وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔نریندر مودی کی ہندو قوم پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اگنی-6 میزائل کی مار 10,000 کلومیٹر (6,200 میل) تک ہے۔
بی جے پی کے مطابق یہ میزائل بھارت کو ان چند ممالک کی صف میں شامل کر دے گا، جن کے پاس اتنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل موجود ہیں۔
بیان میں کہا گیا، ''یہ میزائل بھارت کی سلامتی کو ناقابل شکست بنا دے گا اور ہمیں دنیا کی طاقتور ترین اقوام میں شامل کر دے گا۔‘‘
اس میزائل تجربے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
بھارتی
میڈیا کے مطابق خلیج بنگال کی فضا میں ایک وارننگ زون کے لیے 'نوٹس ٹو ایئر مشنز‘ جاری کر دیا گیا ہے۔ادارت: مقبول ملک