معرکہ حق، بھارتی پروپیگنڈا کی شکست اور پاکستان کے قومی بیانیے کی فتح
ہفتہ 9 مئی 2026 12:53
(جاری ہے)
بھارتی ٹی وی چینلز پر بیٹھے اینکرز اور نام نہاد دفاعی تجزیہ کار مسلسل یہ الزامات عائد کرتے رہے کہ پاکستان خطے میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے اور بھارت کو ’’فیصلہ کن جواب‘‘ دینا ہوگا۔
اس دوران بھارتی میڈیا میں ایسی غیر حقیقی اور مضحکہ خیز خبریں بھی نشر کی گئیں جنہوں نے بعد میں خود بھارتی صحافت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔بھارتی میڈیا کا سب سے زیادہ مذاق اڑایا جانے والا دعویٰ وہ تھا جس میں یہ اعلان کیا گیا کہ بھارتی بحریہ نے ’’لاہور کی بندرگاہ‘‘ کو تباہ کر دیا ہے۔ دنیا بھر میں سوشل میڈیا صارفین اور عام مبصرین بھی اس دعوے پر حیران رہ گئے کیونکہ لاہور ساحل سمندر سے 1200 کلومیٹر سے زائد فاصلے پر واقع ایک اندرونی شہر ہے اور وہاں کسی بندرگاہ کا وجود ہی نہیں۔ اس ایک خبر نے بھارتی گودی میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ صحافت، زمینی حقائق سے لاعلمی اور جنگی جنون کو پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ اسی طرح بھارتی میڈیا نے کئی مرتبہ فرضی اہداف تباہ کرنے، پاکستانی شہروں میں خوف و ہراس پھیلنے اور پسپا ہونے جیسے دعوے بھی کیے، مگر یہ تمام خبریں مکمل جھوٹ ثابت ہوئیں۔بھارتی میڈیا کی جانب سے جھوٹے دعوئوں، ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن کا سلسلہ اتنا شدت اختیار کر گیا کہ بعض بھارتی چینلز سوشل میڈیا پر طنز و مزاح کا موضوع بن گئے۔ غیر مصدقہ ویڈیوز، پرانی جنگی فوٹیجز، ویڈیو گیمز کے کلپس اور مصنوعی گرافکس کو ’’بریکنگ نیوز‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت تھی کہ بھارتی میڈیا کا بڑا حصہ صحافت کے بجائے جھوٹے بیانیے اور جنگی پروپیگنڈے کا آلہ بن چکا تھا۔بھارتی حکومت نے میڈیا کنٹرول کے ذریعے اپنی عوام کو اصل صورتحال سے دور رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔ ابتدا میں بھارتی حکام مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ’’آپریشن سندور‘‘ مکمل کامیابی سے جاری ہے اور پاکستان کو بھاری نقصان پہنچایا جا رہا ہے، مگر جیسے جیسے حقائق سامنے آئے، بھارتی حکومت اور فوجی قیادت کو شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی جنگی طیاروں کی تباہی کی اطلاعات سامنے آنے پر پہلے مکمل انکار کیا گیا، پھر عالمی ذرائع ابلاغ، آزاد دفاعی مبصرین اور سیٹلائٹ شواہد سامنے آنے کے بعد رفتہ رفتہ نقصان تسلیم کرنا پڑا۔ رافیل سمیت جدید جنگی طیاروں کے گرنے کی خبروں نے بھارتی عسکری دعوئوں کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچایا اور پوری دنیا میں بھارتی بیانیہ تنقید کی زد میں آ گیا۔اسی دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے اس بیان نے بھی عالمی سطح پر توجہ حاصل کی جس میں انہوں نے شکوہ کیا کہ بھارت نے پاکستان میں کارروائی کی لیکن پاکستان نے ’’جوابی حملہ‘‘ کر دیا جس کی بھارت کو توقع نہیں تھی۔ اس بیان کو کئی عالمی مبصرین نے بھارت کی غلط عسکری اندازہ بندی اور حد سے زیادہ ’’اعتماد‘‘ کا اعتراف قرار دیا۔ سنجیدہ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت نے یہ تصور کیا تھا کہ پاکستان محدود کارروائی کے بعد خاموش رہے گا، مگر ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ نے اس اندازے کو مکمل طور پر غلط ثابت کر دیا۔پاکستان نے بھارتی جارحیت کے جواب میں نہ صرف عسکری میدان میں بھرپور جواب دیا بلکہ اطلاعاتی جنگ میں بھی ذمہ دارانہ حکمت عملی اختیار کی۔ پاکستانی میڈیا نے مصدقہ معلومات، عسکری ترجمانوں کی بریفنگز، سیٹلائٹ شواہد اور زمینی حقائق کی بنیاد پر رپورٹنگ کی۔ پاکستان نے جن اہداف کو نشانہ بنایا ان کے شواہد، ویڈیوز، جغرافیائی کوآرڈینیٹس اور تکنیکی تفصیلات عالمی سطح پر پیش کی گئیں جس سے پاکستان کے موقف کو مزید تقویت ملی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان نے اس معرکے کے دوران جدید معلوماتی جنگ میں ’’ثبوت پر مبنی بیانیہ‘‘ کامیابی سے دنیا کے سامنے رکھا۔پاکستانی میڈیا نے نہ صرف پاک افواج کی کامیابیوں کو اجاگر کیا بلکہ بھارتی فالس فلیگ آپریشن، میڈیا پروپیگنڈے اور جنگی جنون کے پسِ پردہ عزائم کو بھی بے نقاب کیا۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ نے اشتعال انگیزی کے بجائے ذمہ دار صحافت کو ترجیح دی جس کے باعث عالمی حلقوں میں پاکستان کا موقف زیادہ معتبر اور متوازن سمجھا گیا۔دوسری طرف بھارت کو جنگ بندی کے معاملے پر بھی سفارتی سطح پر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ عالمی ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی مبصرین نے بھی اس تاثر کو تقویت دی کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے زیادہ ذمہ دارانہ کردار ادا کیا۔اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت مختلف عالمی شخصیات کے بیانات بھی توجہ کا مرکز بنے جن میں پاکستان کے وقف، جنگ بندی اور خطے میں استحکام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ بین الاقوامی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پاکستان نے نہ صرف عسکری میدان میں موثر دفاع کیا بلکہ سفارتی اور اطلاعاتی محاذ پر بھی زیادہ پختہ حکمت عملی اختیار کی۔معرکہ حق کے دوران پاکستان نے صرف دشمن کے حملوں کا جواب نہیں دیا بلکہ ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست کے طور پر اپنے تحمل، تزویراتی بصیرت اور قومی اتحاد کا عملی مظاہرہ بھی کیا۔ اس جنگ میں پاکستانی قوم، سیاسی و عسکری قیادت، سفارت کاری، میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ایک مشترکہ قومی بیانیے کے تحت متحد نظر آئے۔ یہی قومی ہم آہنگی پاکستان کی اصل طاقت بن کر ابھری۔معرکہ حق نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ جدید جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ میڈیا، معلومات، سفارت کاری اور قومی بیانیے کے میدان میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ بھارتی گودی میڈیا نے جھوٹ، وار ہسٹیریا، فیک نیوز اور اشتعال انگیزی کے ذریعے مصنوعی فتح کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی، مگر پاکستان نے ذمہ دار صحافت، مصدقہ معلومات، قومی اتحاد اور موثر سفارت کاری کے ذریعے نہ صرف دشمن کے پروپیگنڈے کو ناکام بنایا بلکہ عالمی سطح پر اپنے موقف کو مضبوط اور قابل اعتماد بھی ثابت کیا۔آج ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ اور ’’معرکہ حق‘‘ کو صرف عسکری کامیابی کے طور پر نہیں دیکھا جاتا بلکہ یہ پاکستان کے قومی بیانیے، ذمہ دار میڈیا، اطلاعاتی حکمت عملی اور قومی وحدت کی ایسی مثال بن چکے ہیں جنہوں نے ثابت کیا کہ حقائق، پیشہ ورانہ صحافت اور قومی اعتماد بالآخر جھوٹ، پروپیگنڈے اور مصنوعی بیانیوں پر غالب آتے ہیں۔آج دنیا یہ تسلیم کر رہی ہے کہ ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھا بلکہ یہ پاکستان کی دفاعی خود اعتمادی، سفارتی بلوغت، معلوماتی برتری اور قومی یکجہتی کا ایک جامع اظہار تھا۔ معرکہ حق نے ثابت کیا کہ جھوٹا پروپیگنڈا وقتی شور تو پیدا کر سکتا ہے، مگر بالآخر سچ، شواہد اور ذمہ دارانہ طرز عمل ہی تاریخ کا رخ متعین کرتے ہیں۔مزید اہم خبریں
-
پاکستان آنے والے ناروے کے وزیر خارجہ نے اپنا سامان خود اٹھایا، سادگی نے توجہ حاصل کرلی
-
رجب بٹ اپنی دوسری شادی سسٹرولوجی کے خاندان میں کریں گے، ماہر نجوم کی پیشگوئی
-
سہیل آفریدی اڈیالہ پہنچے تو پولیس نے راستہ روک لیا، ملاقات نہ ہونے پر کارکنوں کیلئے اہم اعلان
-
بلوچستان کے طلبہ ملکی جامعات میں تعلیم حاصل کرکے ملک و صوبے کی ترقی میں کردار ادا کریں، وزیراعلیٰ
-
نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت گندم سے متعلق امور کی سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس
-
فیلڈ مارشل سید عاصم منیرسے ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایرڈے کی ملاقات
-
مبینہ ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کی درخواست منظور، عدالت نے ایک مقدمے میں بری کردیا
-
وزیراعلیٰ مریم نواز کا سپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی کے بیٹے کے انتقال پر اظہارافسوس
-
پنجاب ’’اینڈ ٹو اینڈ‘‘پیپرلیس اینڈ آٹو میشن ٹیکنالوجی دورمیں داخل
-
6،6 لاکھ پر سینیٹ کے آزاد امیدواروں کو ووٹ ملا ہے، فواد چوہدری کا دعویٰ
-
یوم آزادی ہمیں اپنی تاریخ سے وابستگی، قومی ذمہ داریوں کے احساس اور مستقبل کے لیے اجتماعی عزم کی تجدید کا درس دیتا ہے، سپیکر قومی اسمبلی
-
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی گلبہار پشاور میں جاوید آفریدی کے گھر آمد، والدہ کے انتقال پر تعزیت کی
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.