چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت ادارہ برائے پارلیمانی خدمات کے بورڈ آف گورنرز کا اجلاس

جمعرات 14 مئی 2026 19:01

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت ادارہ برائے پارلیمانی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 مئی2026ء) چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پارلیمانی سروسز (پی آئی پی ایس)کے بورڈ آف گورنرز کے صدر کی حیثیت سے ادارے کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ، سپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق خان، سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان، سپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ بذریعہ زوم، سینیٹ و قومی اسمبلی کے اراکین، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلیوں کے سپیکرز، سینیٹ و قومی اسمبلی سیکرٹریٹس کی سینئر قیادت اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر پی آئی پی ایس نے شرکت کی۔

چیئرمین سینیٹ نے تمام معزز شرکاء کو خوش آمدید کہا اور پی آئی پی ایس کو ملک کے ایک ممتاز پارلیمانی ادارے کے طور پر مستحکم بنانے میں بورڈ کے سابقہ اور موجودہ اراکین کی گراں قدر خدمات کو سراہا۔

(جاری ہے)

انہوں نے نومنتخب رکن بورڈ و رکن قومی اسمبلی شیر علی ارباب کی شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کی مثبت اور تعمیری خدمات کے حوالے سے نیک توقعات کا اظہار کیا۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پی آئی پی ایس نے عالمی سطح پر ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے اور 24 مارچ 2026ء کو اکرا، گھانا میں بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو )کے زیر اہتمام منعقدہ افتتاحی کانفرنس میں پانچ دیگر ممالک کے ساتھ ’’گلوبل نیٹ ورک آف پارلیمانی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹس‘‘ کی سٹیئرنگ کمیٹی کے بانی رکن کی حیثیت حاصل کی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ آئی پی یو نے پی آئی پی ایس کو 3 تا 5 فروری 2027ء منعقد ہونے والی پارلیمانی تربیتی اداروں کی دوسری عالمی کانفرنس کی میزبانی بھی سونپی ہے جو پاکستان کے لئے اعزاز اور ادارے کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی ساکھ کا واضح اعتراف ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ جولائی 2025ء سے اب تک پی آئی پی ایس نے مختلف اورینٹیشن پروگرامز، ورکشاپس، سیمینارز اور راؤنڈ ٹیبل مباحثوں کا انعقاد کیا جن سے 540 سے زائد پارلیمنٹیرینز اور 798 افسران نے استفادہ کیا جبکہ 525 سے زائد اراکین پارلیمنٹ کو تکنیکی معاونت اور پارلیمانی خدمات بھی فراہم کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس عرصے کے دوران ادارے نے 50 سے زائد پیشہ وارانہ پروگرامز منعقد کئے، 224 تحقیقی مقالے تیار کئے، تین کتب شائع کیں اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو آڈٹ تجزیہ و جانچ پڑتال سے متعلق 28 سے زائد اجلاسوں میں خصوصی تکنیکی معاونت فراہم کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی پی ایس نے سول سوسائٹی، جامعات، طلبہ اور عوامی حلقوں کے ساتھ بھی فعال روابط استوار کئے اور پارلیمانی مطالعاتی سرگرمیوں میں 918 سے زائد افراد کی شمولیت کے ذریعے جمہوری شعور اور پارلیمانی آگاہی کو فروغ دیا۔چیئرمین سینیٹ نے صوبائی اسمبلیوں کے لئے خصوصی تربیتی پروگرامز کے انعقاد کو بھی سراہا جن میں سندھ اسمبلی کے افسران کے لئے تاریخی سی پی اے کانفرنس سے قبل بین الاقوامی کانفرنسوں کے انعقاد اور پارلیمانی پروٹوکول سے متعلق تربیت شامل ہے۔

انہوں نے بلوچستان اور سندھ اسمبلیوں کے لائبریری سٹاف کے لئے عملی تربیت جبکہ سینیٹ، قومی اسمبلی اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے افسران کے لئے قومی پارلیمانی ترقیاتی فریم ورک کے تحت پیشہ وارانہ تربیتی کورسز کو بھی قابل تحسین قرار دیا۔چیئرمین سینیٹ نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پی آئی پی ایس عاصم خان گورائیہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی بدولت تمام صوبائی اسمبلیوں، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلیوں اور خود پی آئی پی ایس کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے تحت سینئر مینجمنٹ کورس اور نیشنل مینجمنٹ کورس میں شامل کیا گیا جس سے گریڈ 19 اور 20 کے افسران کو اعلیٰ سطح کی پیشہ وارانہ تربیت کے مواقع میسر آئیں گے۔

چیئرمین سینیٹ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ بورڈ میں شامل تجربہ کار قانون سازوں کی رہنمائی میں پی آئی پی ایس اپنی آئینی و ادارہ جاتی ذمہ داریاں مزید مؤثر انداز میں ادا کرتا رہے گا اور قانون سازی، تحقیق، تربیت اور ادارہ جاتی ترقی کے شعبوں میں جدید اقدامات کے ذریعے پارلیمانی جمہوریت کو مزید مضبوط بنائے گا۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پی آئی پی ایس عاصم خان گورائیہ کی جانب سے پیش کردہ مختلف ایجنڈا نکات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ بورڈ نے آئندہ مالی سال کے مجوزہ بجٹ تخمینوں کی منظوری دی جبکہ سالانہ رپورٹ 2024-25ء کو بھی متفقہ طور پر منظور کر لیا۔