Live Updates

حکومت نے مشکل معاشی حالات کے باوجود متوازن بجٹ پیش کیا‘وزیرخزانہ پنجاب

بدھ 24 جون 2026 18:55

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جون2026ء) صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بجٹ 2026-27پر عام بحث سمیٹتے ہوئے حکومت کی معاشی کارکردگی، ترقیاتی منصوبوں اور ریونیو اہداف کا دفاع کرتے ہوئے حکومت نے مشکل معاشی حالات کے باوجود متوازن بجٹ پیش کیا ،پنجاب حکومت نے صوبے کے ذمے 760ارب کا قرضہ ختم کیا ،رواں مالی سال کا ترقیاتی بجٹ 1240ارب تھا جس میں سی1153ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں جو 93فیصد بنتا ہے،پی ٹی آئی والے کبھی بابا رحمتے ، کبھی جنرل باجوہ اور کبھی جنرل فیض سے فیضیاب ہوئے لیکن اب آپ کے لئے کوئی نہیں آئے گا ، اگلی بار جب آپ میدان میں آئیں گے تو آپ کو لگ پتہ جائے گا، بار بار کہتے ہیں یہ ہمارا آخری بجٹ ہے یہ یہی کہتے رہیں گے اور ہم پانچواں بجٹ پیش کر کے دوبارہ انتخابی میدان میں ہوں گے ،عوام اتنے بیوقوف نہیں جتنا یہ عوام کو سمجھتے ہیں۔

(جاری ہے)

وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بجٹ پر عام بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو جوعزت دی ہے میں اس پر وزیر اعظم شہباز شریف ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ،ان کی وجہ سے آج ساری قوم کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے،اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو سر خرو کیاہے اور ساری دنیا میں پاکستان کا نام بلند ہوا ہے ، ساری دنیا میں سبز پاسپورٹ کی عزت ہورہی ہے ، اوورسیز پاکستانی سبز پاسپورٹ پر فخر کر رہے ہیں۔

انہوں ے کہا کہ میں پانچ روز تک اپوزیشن کے دوستوں کی باتیں سنتا رہا ، اگر انہیں شہباز شریف کا نام لیتے ہوئے ،اسحاق ڈار کا نام لیتے ہوئے مسئلہ ہو رہا تھا لیکن کسی نے فیلڈ مارشل کا بھی نام نہیںلیا جن کی وجہ سے پاکستان کو یہ غیر معمولی عزت ملی ہے ۔ یہاں ایک ایسا وزیر اعظم بھی تھا جو کہتا تھاکہ امریکہ کے صدر کوفون کرتا ہوں وہ فون نہیں سنتا ، بار بار مس کال کرتا تھا ،آج وہ وقت ہے کہ امریکہ کے صدر نے جتنی مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام لیا ہے یہ بھی ایک عالمی ریکارڈ ہو گیا ہے ۔

وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ میںسب سے پہلے معزز اراکین کا شکریہ اد اکرتا ہوں جنہوںنے بجٹ پر اپنی قیمتی آراء اور تجاویز پیش کیں ، میںعوامی مسائل کی نشاندہی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں،یہی جمہوری عمل ہے کہ عوام کی ضروریات کو پالیسی ساز ی کا حصہ بنایا جائے ،بہت سارے معزز ممبران نے اپنے حلقوں میں نئے ہسپتالوں کی تعمیر ، پہلے سے موجود ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن کی بات کی ،سکولز ، کالجز ،یونیورسزٹیز کے کیمپسز کی بات کی ، اپ گریڈیشن کی بات کی، نئی شاہراہوں کی تعمیر کی بات کی ، ہم نے تمام تجاویز اور مطالبات کو غور سے سنا ہے اور پوری کوشش کریں گے کہ محدود وسائل میں رہتے ہوئے ان کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ امر قابل ذکر ہے مشکل ترین معاشی حالات میں متوازن بجٹ ترتیب دیاگیا ہے ، پنجاب نے قرضوں کی ادائیگی،دفاع اور آبی ذخائر کی تعمیر کی مد میںوفاقی حکومت546ارب روپے کی گرانٹ دی ہے ،ہم فخر سے کہتے ہیں اگر پاکستان مضبوط ہوگا تو صوبے مضبوط ہوں گے،ہمارے بہت سارے دوستوںنے اعتراض کیا پنجاب نے وفاق کو 546ارب کی گرانٹ کیوں دی ہے ، ہم فخرسے کہتے ہیں کہ ہم نے پاکستان کی بقاء ، سلامتی ،روشن مستقبل کے لئے یہ فیصلہ کیاہے اور مستقبل میں فیصلے کرنے پڑے تو پنجاب بڑا صوبہ ہونے کے ناطے اپنا حق ادا کرتا رہے گا۔

اس کے باوجود مالی نظم و ضبط ،ترقیاتی ترجیحات اورمتوازن راستہ اختیا ر کرتے ہوئے معاشی استحکام کو مضبوط بنایا جائے گا جوپنجاب کی عوام کو سہولیات کی فراہمی کی بنیاد بنائے گا۔انہوںنے کہا کہ اچھا ہوتا کہ آج قائد حزب اختلاف یہاں تشریف فرما ہوتے ۔انہوںنے کہاکہ حکومت نے نواز شریف میڈیکل سٹی کے لئے 169ارب روپے رکھے ہیں جبکہ قائد حزب اختلاف نے کہا کہ حکومت نے 1690ارب روپے رکھے ہوئے ہیں یہ تو ترقیاتی بجٹ کے حجم سے بھی زیادہ رقم بنتی ہے ، اسی طرح قائد حزب اختلاف نے کہا کہ حکومت نے مریم نواز شریف ہیلتھ کلینک کے لئی98ارب40کروڑ روپے رکھے ہیں جبکہ اس کی اصل لاگت 9ارب80کروڑ ہے ،یہ کہا گیا کہ مریم نواز سپورٹس سٹی کے لئے 502ارب مختص کئے گئے ہیں ،اصل میںاس منصوبے کے لئی50ارب روپے رکھے ہیں ۔

وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہاکہ اپوزیشن کے ایک رکن نے کہا کہ جب ہمارا دور آئے گا تو ہم ایسا پھینٹا لگائیں گے کہ تم یاد کرو گے، سپیکر صاحب آپ گواہ ہیں ،حالا ت گواہ ہیں لیکن ان دوستوں کو ہمارے ماضی کا پتہ نہیں ہے ،ہم نے پرویز مشرف کی آمریت کا دور دیکھا ہے ،جیلیں کاٹیں ،سختیاں برداشت کیں ، کبھی گھر سے گرفتارنہیں ہوا ، یہ مک مکا کر کے گھروں سے گرفتار ہوئے ہیں،میں ہمیشہ گریبان پکڑ کر گرفتار ہوا ہوں،میں نے دہشتگردی ،غداری کے مقدمے بھگتے ہیں،ہم روتے نہیں تھے لڑتے تھے،ہماری جدوجہد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں کامیاب کیا ، ہم نے ان کا دور بھی دیکھا ہے ،آج پیپلز پارٹی ہماری اتحادی ہیں ہم نے ان کے دور میں بھی ماریں کھائیں جیلیں کاٹی ہیں، ہم کبھی اسمبلی میں نہیں روئے ،سپیکر صاحب آپ تو ان کی بات سنتے ہیں ،ان کے دور میں ہماری بات سنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا تھا،آپ کی جگہ پر ایک صاحب بیٹھے ہوتے تھے جب ہم بات کرتے تھے وہ دوسری طرف منہ کر لیتے ہیں،میں آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں آپ ان کی بات بھی سنتے ہیں ان کے زخموں پر مرہم ہھی رکھتے ہیں اور ان کے دکھوں کا مداوا بھی کرتے ہیں،میں آپ کو سلیوٹ پیش کرتا ہوں ۔

ہم ان کا دکھ سمجھتے ہیں ،یہ بار بار کہتے ہیں ہمیںجیلوں میں ڈال دیا ،ہمارے خلاف کیسز بنائے گئے ہیں۔ میں اس کلمہ کے نیچے کھڑا ہو کر کہہ رہاہوں میرے پاس اپوزیشن کی کوئی بات آئی بھی ہے تو میں نے کہا جانے دیں ہمارے بھائی ہیں۔ آپ نے ریاست پر حملے کئے ، ہماری آپ سے مقبول اور بڑی سیاسی جماعت ہے ہم بھی حملہ کر سکتے تھے لیکن ہم نے ریاست پر حملہ نہیں کیا ۔

آپ جی ایچ پر حملہ کرتے ہیں،کور کمانڈر پر حملہ کرتے ہیں،شہیدوں کی یادگار کو آگ لگاتے ہیں،پھر اس پر فخر کرتے ہیں، جب آپ ریاست پر حملہ کریں گے قانون تو حرکت میں آئے گا،ان پر جتنے بھی کیسز ہیں ہم نے ان پر کوئی کیس نہیں بنایا جنہوںنے بنائے ان کو معلوم ہے ، جب تک اپنی غلطیوں کی ،پاکستان کو نقصان پہنچانے پر معافی نہیں مانگیں گے حالات ٹھیک نہیں ہوں گے،آپ نے نو مئی کو جو کیا اس پر بھارت خوش ہوا ، پاکستان کے کسی ذی شعور شہری نے اس پر خوشی کا اظہار نہیں کیا، سیاسی جماعتیں ایسی نہیں ہوتیں کہ ملک کے اداروں پر حملہ کر دیں ، ہم نے 2002پرویز مشرف کی آمریت کو للکارا تھا،آپ ہمیںکیا ڈراتے ہیں ،ہم خاردار دار سے گزر کر آئے ہیں، ہمیںآپ کے دور میں تو ڈر ہی نہیں لگتا تھا۔

وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بجٹ پر عام بحث کو سمیٹتے ہوئے کہا کہ یہ کہتے ہیں ہمارے دور میں ترقیاتی بجٹ کا استعمال کم ہوا ہے ،2017-18میں شہباز شریف جب وزیراعلیٰ تھے تو اس وقت ترقیاتی بجٹ کی مد میں635ارب روپے مختص کئے گئے ،اس وقت بابا رحمتے نے ہمارے ترقیاتی کام روک دئیے تھے اس کے باوجود ہم نے 77فیصد کے تناسب سی488ارب روپے کا بجٹ استعمال کیا،اس کے بعد وسیم اکرم پلس کا دور آ گیا ،2018میں آپ کے دور میںترقیاتی بجٹ635ارب روپے سے سکڑ کر 238ارب روپے پر آگیا اور پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہو،اس میں سے بھی 212ارب روپے استعمال ہوئے،2019-20میںترقیاتی بجٹ کے لئی350ارب روپے مختص کئے گئے اور صرف 233ارب روپے استعمال ہوا،2020-21میں337ارب کا بجٹ رکھا گیا لیکن استعمال326ارب روپے ہوا،2021-22میں560ارب بجٹ رکھا گیا تاہم اس سال 583ارب استعمال ہوا ۔

صوبائی ریو نیو کلیکشن میںشہباز شریف کے دور میں2017-18میں321.8ارب اکٹھے ہوئے ،بزدار دور میں 2018-19میں صوبہ سکڑ کر273اربپر آ گیا،2019-20میں 300 ارب اور 2020-21میں353ارب صوبائی ریو نیو آیا، ا س کے بعد یہ 429ریو نیو اکٹھا ہوا جبکہ نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی کے دور میں 494اب تک اکٹھے ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ جب 2024-25میں ہماری حکومت آئی تو ہم نے 842ارب کا ترقیاتی بجٹ رکھا جس میں سے 988.2ارب روپے استعمال ہوا ،117فیصد زائد بجٹ استعمال ہوا ، یہ کہتے ہیں ترقیاتی بجٹ استعمال نہیں کیا ،معلوم نہیں یہ کون سی کتاب پڑھتے ہیں،ہم نے اپنے پہلے سال میں صوبے کی ریو نیو کلیکشن میں53فصد اضافہ کیا اور885.2رب روپے ٹیکس او رنان ٹیکس کی مد مین اکٹھا ہوا ، رواں مالی سال کے لئے جو ہد ف رکھا گیا ہے اس کا 99فیصد حاصل کر لیا ہے حالانکہ سیلاب اور جنگ کی وجہ سے حالات سب کے سامنے تھے ، پنجاب ریو نیو اتھارٹی نے گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال میں38فیصد گروتھ دکھائی ہے، ایف بی کی 13،14فیصد اورسندھ کی 16فیصد گروتھ ہے ، ہم نے اس دوران کوئی نیا ٹیکس نہیں بلکہ ٹیکس نیٹ بڑھایا ہے ،ان کے دور میں پی آر اے بارہ اضلا ع تک تھی ،ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے ریو نیو میں پچھلے سال کے مقابلے میں رواں سال میں40فیصد گروتھ ہے۔

رواں مالی سال کا ترقیاتی بجٹ 1240ارب تھا جس میں سی1153ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں جو 93فیصد بنتا ہے ۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ ہماری حکومت نے صوبے کے ذمے 760رب کا قرض ختم کر دیا ہے ، ہم ہر سال سر پلس بجٹ رکھتے رہے ہیں، اس سال 910ارب کا سر پلس رکھا ہے اس کو حاصل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے حوالے سے بہت بات کی گئی ، جنوبی پنجاب کی عوام کے لئے 556ارب کی لاگت سے 386منصوبوں کو بجٹ دستاویز کا حصہ بنایا گیا ہے،بہاولپور میں چلڈرن ہسپتال ،ڈی جی خان میں کینسر ہسپتال بنے گا، مظفر گڑھ میں شرمپ فارمنگ کے منصوبے پر کام ہو رہا ہے ، کچے کے علاقے کے لئی38رب86کروڑ روپے رکھے گئے ہیں،وزیر اعلی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ کچے کے علاقے پر توجہ دی ، وہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید آلات ، اسلحہ دیا گیا ،تھرمل ڈرون دئیے گئے ۔

پہلے کچے کا علاقہ نو گو ایریا تھا آ ج وہاں ترقی و خوشحالی آرہی ہے ۔ تعلیم کے لئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں750رب تعلیم کے رکھے ہیں۔ستھرا پنجاب صوبائی حکومت کا فلیگ شپ پروگرام ہے جسے ساری دنیا میں سراہا جارہا ہے ، یہ ستھرا پنجاب پروگرام میں کرپشن کی بات کرتے ہیں،ستھرا پنجاب پروگرام کو ایک سال ہوا ہے ، ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کرپشن ہم نے پکڑی ہے اورسزا بھی دی ہے، ان کے دور میں تو کرپشن پکڑی ہی نہیں جاتی تھی۔

2013 میں کرپشن انڈیکس میں177ممالک میںپاکستان 127ویں نمبر پر تھا،نواز شریف کے دور میں2017میں کرپشن انڈیکس میں180ممالک میں پاکستان 117ویں نمبر پر آ گیا ،ان کے دور میں 2022میںکرپشن انڈیکس180ممالک میں پاکستان140پر چلا گیاتھا۔ہم ان کے دور کی کرپشن کو آج تک روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کا نظام خراب کر دیا ہم اس نظام کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

2025میں کرپشن انڈیکس182ممالک میںپاکستان 136ویں پر آ گیا ہے، پانچ سال پورے کریں گے تو کرپشن انڈیکس میں پاکستان مزید نیچے آ جائے گا۔یہ صرف ہوا میں باتیں کرتے ہیں، پی ٹی آئی کے قائد جھوٹ بولتے تھے او ریہ بھی جھوٹ بولتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2017میں ن) کی حکومت میں مہنگائی کی شرح4.7پر تھی ، پھر ایک مہاتما حکومت آئی جس نے کہا کہ میں آئی ایم ایف سے قرضہ نہیں لوں گا بلکہ خود کشی کر لوں گا پھر اس نے اتنے قرضے لئے کہ 70سال میں آنے والی حکومتوں نے اتنا قرض نہیں لیا تھا جتنا چار سال میں اس کی حکومت نے لے لیا اورملک کا دیوالیہ نکال دیا گیا، 2023میں مہنگائی کی شرح37.97تھا،یہ بارودی سرنگیں بچھا کر گئے تاکہ آنے والی حکومت نہ چلے ۔

انہوں نے کہا کہ عالمی حالات کی وجہ سے 2026میں مہنگائی ڈبل فگر میں گئے لیکن اب دوبارہ 8.9فیصد پر آ گئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ صحت کارڈ کو یہ اپنا منصوبہ قرار دیتے ہیں جبکہ دسمبر2015میں وزیر اعظم نواز شریف نے ہیلتھ کارڈ لانچ کیا ، اس کا پہلے 15اضلاع میں آغاز کیا گیا جس کے بعد اسے 23اضلاع تک پھیلایا گیا ، ہمارے دور میں یہ 32اضلاع تک پھیل چکا تھا، انہوں نے نام تبدیل کرکے اپنی برینڈنگ کرکے کہہ دیا یہ ہمارا فلیگ شپ پروگرام تھا۔

موجودہ پنجاب حکومت نے مساجد کے امام کو اہمت دی ، 25ہزار فی امام اعزازیہ دیا گیا جس پر اربوں روپے خرچ ہو چکے ہیں، آئندہ مالی سال اس مد میں8.5ارب روپے رکھے گئے ہیں،دھی رانی پروگرام عظیم منصوبہ ہے ،اس کے لئے آئندہ مالی سال میں5ارب رپے رکھے گئے ہیں،آرٹسٹ کارڈ کی مد میں30کروڑ روپے رکھے ہے، کسان کارڈ کے لئی12.6ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، لائیو سٹاک کارڈ کے لئے ایک ارب روپے رکھا ہے ۔

انہوںنے کہا کہ یہ کہتے ہیں صحت کارڈ ختم کر دیا ہے ، یہ بھی جھوٹ ہے ہم اس میں شفافیت کو لائے ہیں اور جن کو اس کی سہولت ملنی چاہیے اسے ان تک محدود کیا ہے ،رواں سال اس میں 30ارب روپے مختص کئے آئندہ مالی سال 29ارب روپے رکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی حکومت کی راہ میں رکاوٹیں نہ ڈالی جاتیں انہیں بار بار اقتدار سے الگ نہ کیا جاتا تو آج پاکستان ترقی یافتہ ترین ممالک کی صف میں کھڑا ہوتا ۔

انہوں نے کہا کہ یہ بار بار فارم پینتالیس ، فارم سینتالیس کی بات کرتے ہیں، میں ان کے لاہور کے صدر کو شکست دے کر آیا ہوں،میں فارم پینتالیس پر یہاں بیٹھا ہوں۔آپ تو کبھی بابا رحمتے ، کبھی جنرل باجوہ اور کبھی جنرل فیض سے فیضیاب ہوئے ، آپ کو بتا دیں اب آپ کے لئے کوئی نہیں آئے گا ، اگلی بار جب آپ میدان میں آئیں گے تو آپ کو لگ پتہ جائے گا۔انہوںنے کہا کہ یہ بار بار کہتے ہیں یہ ہمارا آخری بجٹ ہے یہ یہی کہتے رہیں گے اور ہم پانچواں بجٹ پیش کر کے دوبارہ انتخابی میدان میں ہوں گے ،عوام دیکھ رہے ہیں ،عوام اتنے بیوقوف نہیں ہیں جتنا یہ عوام کو سمجھتے ہیں۔
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات