جیل میں کسی کو عمران خان کے سلام کے جواب میں 'وعلیکم السلام' کہنے کی بھی اجازت نہیں، سلمان صفدر

عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گزشتہ 7 ماہ سے قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، جو کہ سراسر غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، دونوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ بالکل کاٹ دیا گیا؛ سابق وزیراعظم کے وکیل کی میڈیا سے گفتگو

Sajid Ali ساجد علی پیر 29 جون 2026 16:55

جیل میں کسی کو عمران خان کے سلام کے جواب میں 'وعلیکم السلام' کہنے کی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 جون 2026ء) سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق خاتونِ اول بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل میں مبینہ طور پر قیدِ تنہائی میں رکھنے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر درخواست پر اہم پیشرفت ہوئی ہے، علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کی صاحبزادی مبشرا خاور مینکا کی جانب سے دائر کردہ اس آئینی درخواست پر سماعت کے دوران وکلاء صفائی نے عدالت کی جانب سے اٹھائے گئے ابتدائی اعتراضات کو دور کر دیا۔

عدالتی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دعویٰ کیا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گزشتہ 7 ماہ کے طویل اور ہولناک عرصے سے قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، جو کہ سراسر غیر قانونی اور غیر آئینی ہے، دونوں کا بیرونی دنیا سے رابطہ بالکل کاٹ دیا گیا ہے، جیل کے اندر کسی انسان سے ان کا میل جول نہیں ہونے دیا جا رہا، یہاں تک کہ بچوں، وکلاء سے ملاقاتیں اور پڑھنے کے لیے کتابیں تک فراہم نہیں کی جا رہیں، یہان تک کہ کسی کو ان کے سلام کے جواب میں 'وعلیکم سلام' کہنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے اپنے مؤقف میں کہا کہ یہ سلوک پاکستان کے آئین اور قیدیوں کے حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین "منڈیلا رولز" کی کھلی خلاف ورزی ہے، قانون کے مطابق کسی بھی قیدی کو اس طرح طویل عرصے تک مکمل تنہائی میں نہیں رکھا جا سکتا، علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کی بیٹی کی جانب سے دائر اس درخواست پر صبح 9 بجے سماعت شروع ہوئی تو حسبِ روایت یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ یہ خواتین قیدیوں کی طرف سے کیسے درخواست دائر کر سکتی ہیں؟، جس پر اسی عدالت کے پہلے سے موجود نظائر اور فیصلوں کے حوالے پیش کیے، جس کے بعد عدالت نے ان تمام اعتراضات کو دور کر دیا اور درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے آگے بڑھایا۔