ایکشن کمیٹی کی ملاکنڈ میں ٹیکسوں کے نفاذ کی مخالفت،5جولائی کو احتجاجی جلسے کا اعلان

سیاسی جماعتوں، تاجر تنظیموں ،کاروباری حلقوں کا حکومت سے خصوصی آئینی و قانونی حیثیت برقرار رکھنے ،مجوزہ ٹیکس واپس لینے کا مطالبہ

جمعرات 2 جولائی 2026 19:40

سوات (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جولائی2026ء) ملاکنڈ ڈویژن کی جداگانہ آئینی و قانونی حیثیت کے تحفظ اور مجوزہ ٹیکسوں کے خلاف قائم ایکشن کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کی خصوصی آئینی و قانونی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے مجوزہ ٹیکس فوری طور پر واپس لئے جائیں۔اجلاس سوات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دفتر میں منعقد ہوا، جس میں چیمبر آف کامرس کے صدر نور محمد خان، ٹریڈرز فیڈریشن ملاکنڈ ڈویژن کے صدر عبدالرحیم، جمعیت علمائے اسلام (ف)کے ضلعی امیر مولانا سید قمر، جماعت اسلامی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان تحریک انصاف، پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹرینز قومی وطن پارٹی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں، تاجر تنظیموں اور کاروباری حلقوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

اجلاس میں ملاکنڈ ڈویژن کی آئینی و قانونی حیثیت، مجوزہ ٹیکسوں کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اور آئندہ احتجاجی لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکا نے حکومت کی جانب سے ملاکنڈ ڈویژن میں مختلف اقسام کے ٹیکس نافذ کرنے کی کوششوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کی آئینی، قانونی اور تاریخی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔

مقررین کا کہنا تھا کہ دہشت گردی، فوجی آپریشنز، قدرتی آفات، سیلاب اور زلزلوں کے باعث ملاکنڈ ڈویژن کی معیشت، تجارت، صنعت، سیاحت اور زراعت پہلے ہی شدید متاثر ہو چکی ہے، ایسے میں نئے ٹیکسوں کا نفاذ عوام پر مزید معاشی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہوگا۔اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں کسی بھی نئے ٹیکس کو مسترد کیا جائے گا اور حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ مجوزہ ٹیکس فوری واپس لے کر علاقے کی خصوصی آئینی و قانونی حیثیت برقرار رکھی جائے۔

شرکا نے اعلان کیا کہ 5جولائی 2026ء بروز اتوار شام 5بجے سیدو شریف کے نشاط چوک میں ایک بڑا احتجاجی جلسہ منعقد کیا جائے گا، جس سے ایکشن کمیٹی، مختلف سیاسی جماعتوں، تاجر تنظیموں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی کے نمائندے خطاب کریں گے۔ایکشن کمیٹی نے ملاکنڈ ڈویژن کے عوام، تاجروں، صنعتکاروں، وکلا، طلبہ، کسانوں، ٹرانسپورٹرز، علما کرام، سیاسی کارکنوں اور سول سوسائٹی سے احتجاجی جلسے میں بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اپنے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کی جائے۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ احتجاجی جلسے کے بعد مرحلہ وار احتجاجی پروگرام، گرینڈ جرگہ، ریلیوں، شٹر ڈان ہڑتال اور دیگر آئینی و جمہوری اقدامات کا اعلان کیا جائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کی خوشحالی، تجارت و صنعت کی ترقی اور علاقے کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کیلئے خصوصی دعا بھی کی گئی۔