Live Updates

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے 35دن کا سٹاک خرید کرغائب کررکھا ،قیمتیں بڑھنے پرذخیرہ اندوزی ہوتی،چیئرمین اوگراکا اعتراف

جمعرات 16 جولائی 2026 22:24

آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے 35دن کا سٹاک خرید کرغائب کررکھا ،قیمتیں بڑھنے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 16 جولائی2026ء) سینیٹ کی کابینہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئیل مارکیٹنگ کمپنیوں کے جعلی کلیمز کی تحقیقات جاری ہیں۔ٹیلی کام کمپنیوں کو رائٹ آف وے کے حوالے سے متنازعہ بل سے پی ٹی اے کو لاعلم رکھا گیا ہے۔ جمعرات کو سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں تیل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کے جعلی کلیمز، ذخیرہ اندوزی اور ایران سے تیل خریداری سمیت متعدد اہم مسائل پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں چیئرمین اوگرا بیرسٹر نبیل اعوان نے بتایا کہ او ایم سیز کی جانب سے نشاندہی کی گئی مشکلات حل کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ قیمتیں بڑھنے پر ذخیرہ اندوزی لازمی ہو جاتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے انکشاف کیا کہ او ایم سیز نے 35 دنوں کا اسٹاک خرید کر بھی غائب کر رکھا ہے۔چیئرمین اوگرا نے بتایا کہ قیمتیں بڑھنے پر ٹینکرز کو موٹروے کی حدود سے باہر جا کر کھڑے ہونے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

اجلاس کے دوران رکن کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈی والا نے سوال اٹھایا کہ حکومت ایران سے تیل کیوں نہیں خرید رہی ہے جس پر سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بتایا کہ ایران پر دوبارہ پابندیاں لگ گئی ہیں۔ سینیٹر مانڈوی والا نے کہا کہ اس معاملے کو قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم میں اٹھایا جائے گا۔دوسری جانب سینیٹر عبدالقادر نے سول سروسز میں بلوچستان کے کوٹہ میں اضافے والے بل کی مخالفت کی۔

اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی ای) کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں فائیو جی سروسز عام شہریوں تک پہنچانا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ چیئرمین پی ٹی اے نے انکشاف کیا کہ 5 جی آکشن میں کامیاب ہونے والی کمپنی نے اپنے ٹاورز دوسری کمپنیوں کو بیچ دیے ہیں۔چیئرمین پی ٹی اے نے رائٹ آف وے کے متنازعہ بل اور ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں ترامیم کے حوالے سے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ میں نے یہ بل سوشل میڈیا پر دیکھاہے انہوں نے بتایا کہ اپنے اسٹاف سے پوچھا تو پتہ چلا کہ پی ٹی اے اس بل سے لاعلم ہے۔

اجلاس کے دورانن ٹیلی کام کمپنیوں نے انفراسٹرکچر کی کمی، لوڈشیڈنگ اور امن و امان کی صورتحال کو سروس کوالٹی کی خرابی کی وجہ قرار دیا۔ سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ شہریوں کی پرائیویٹ پراپرٹی زبردستی نہیں لی جا سکتی اور شہریوں کے ساتھ زبردستی کو جسٹیفائی نہیں کیا جا سکتا۔قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ حکومت ٹیلی کام سیکٹر کے لیے بلا تعطل بجلی کی فراہمی کا منصوبہ تیار کر رہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سیکریٹری آئی ٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو تین ماہ میں رپورٹ پیش کرے گی۔ چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ ای-سم دس بار مفت دوسرے موبائل پر منتقل کی جا سکتی ہے اور اس کی قیمت 1500 روپے تک مقرر کر دی جائے گی۔ طلب بڑھنے پر قیمتیں کم ہو جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ موبائل پر ٹیکس عائد کرنے میں پی ٹی اے کا کوئی کردار نہیں، یہ ایف بی آر کا دائرہ کار ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان میں سالانہ ڈھائی کروڑ موبائل فونز تیار کیے جا رہے ہیں جبکہ سیمسنگ اور ایپل جیسے برانڈز باہر سے درآمد ہوتے ہیں۔ چیئرمین پی ٹی اے نے خبردار کیا کہ موبائل فونز پر ٹیکس زیادہ ہوا تو فائیو جی کے استعمال میں مسائل پیدا ہوں گے۔پی ٹی اے نے سروس کی خراب کوالٹی پر چار ارب روپے کے جرمانے کیے ہیں۔ چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ 9000 سائٹس پر چوری کی وارداتیں ہوئی ہیں۔ حکومت انہیں صارفین کو پیسے واپس کرنے کا کہتی ہے اگر سروس بند ہونے کی وجہ سے پیکج استعمال نہ ہو سکے۔اجلاس میں سروس کوالٹی بہتر بنانے، انفراسٹرکچر کی فراہمی اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ پر زور دیا گیا۔۔۔۔۔ اعجاز خان
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات