یومِ آزادی پر ہم تحریکِ پاکستان کے قائدین اور کارکنوں کو بھی سلام پیش کرتے ہیں،نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار

جمعہ 14 اگست 2026 01:52

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 اگست2026ء) نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 80 ویں یومِ آزادی کے پرمسرت موقع پر کہا ہے کہ میں پاکستان کے عوام، بیرونِ ملک مقیم اپنے ہم وطنوں اور اس تاریخی دن کی خوشیوں میں ہمارے ساتھ شریک تمام افراد کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور مخلصانہ نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

یومِ آزادی مناتے ہوئے، ہم قائدِ اعظم محمد علی جناح کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں، جن کی بصیرت افروز قیادت، غیر متزلزل عزم اور پختہ وابستگی نے ایک الگ وطن کی خواہش کو حقیقت کا روپ دیا۔یوم آزادی کے موقع پر نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ آج ہم تحریکِ پاکستان کے قائدین اور کارکنوں کو بھی سلام پیش کرتے ہیں، جن کی شجاعت، لگن اور بے لوث قربانیوں نے ہماری آزاد ریاست کی بنیادیں استوار کیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد سے اب تک، پاکستان نے اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے لازوال اصولوں کی روشنی میں مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ہم 25 کروڑ سے زائد افراد پر مشتمل ایک باہمت اور غیور قوم ہیں، جو مشترکہ تاریخ، تہذیبی ورثے اور باہمی امنگوں کے رشتے میں پروئی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، اقتصادی ترقی، کھیل، ثقافت اور د وسرے شعبوں میں ہماری کامیابیاں ہمارے عوام کی قابلیت، عزم اور بے پناہ صلاحیتوں کی آئنہ دار ہیں۔

گزشتہ آٹھ دہائیوں کے دوران پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر بھی اپنے وقار اور مقام کو مستحکم کیا ہے۔ ہماری بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں، اقتصادی و مواصلاتی شراکت داریاں، اور دفاعی و سیکورٹی تعاون میں اضافہ پاکستان کے خود اعتمادی اور ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال خطے و دنیا کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنے کے عزم کا مظہر ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ سال، ہم نے اپنے برادر ممالک سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ تاریخی "مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے" پر دستخط کیے۔

یہ معاہدہ تزویراتی تعاون کو گہرا کرنے، اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانے، اور ابھرتے ہوئے علاقائی و بین الاقوامی امن و امان کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ہم نے "معرکہِ حق" کی پہلی سالگرہ بھی منائی، جس میں 2025 میں بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے دندان شکن اور کامیاب جواب کی یاد تازہ کی گئی۔ اس موقع نے پاکستان کی خود مختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہمارے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا ہم بین الاقوامی قوانین، ذمہ دارانہ طرزِ ریاست اور علاقائی امن کی جستجو کے لیے بھی پوری طرح کاربند ہیں۔ہم پاکستان کی غیور مسلح افواج، پولیس اور نیم فوجی دستوں کو خصوصی خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، جن کی شجاعت، پیشہ ورانہ مہارت اور غیر متزلزل لگن ہماری قومی سلامتی کا مضبوط دفاع ہے۔انہوں نے کہا کہ ان تمام شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے وطنِ عزیز کے دفاع اور ملک کے امن و استحکام کے لیے، سرحدوں کے اندر اور باہر سے درپیش دشمنوں کے خطرات کا مقابلہ کرتے ہوئے لازوال قربانیاں دیں۔

پوری قوم ان کے ساتھ متحد کھڑی ہے اور ان کی خدمات اور قربانیوں کی تہہ دل سے معترف ہے۔ پاکستان ہمیشہ اقوامِ عالم کے مابین امن، مذاکرات، تعاون اور باہمی احترام کا علمبردار رہا ہے۔ گزشتہ برس کے واقعات نے ایک بار پھر دیرینہ تنازعات، بالخصوص تنازعہ جموں و کشمیر کے پرامن حل کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا ہے، جو ہمارے خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے ان کی جائز جدوجہد کے سلسلے میں، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق، اپنی اصولی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔انہوں نے کہا کہ یومِ آزادی کے اس پرمسرت موقع پر، آئیے ہم ان نظریات کی تجدید کریں جو پاکستان کی تخلیق کا باعث بنے۔ آئیے ہم اپنے اداروں کو مضبوط بنانے، قومی اتحاد کو برقرار رکھنے، اپنے عوام کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط، خوشحال اور پرامن پاکستان کی تعمیر کے لیے اپنے اجتماعی عزم کا اعادہ کریں۔