Live Updates

اسرائیلی وزیراعظم نے بھارتی پائلٹ کو طیارہ حادثے سے بچانے پر سراہا

DW ڈی ڈبلیو جمعرات 1 اکتوبر 2026 13:40

اسرائیلی وزیراعظم نے بھارتی پائلٹ کو طیارہ حادثے سے بچانے پر سراہا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 01 اکتوبر 2026ء) بدھ کے روز دبئی سے تل ابیب آنے والی ایک پرواز کے شریک پائلٹ نے مبینہ طور پر طیارہ گرانے کی کوشش کی، جس کے بعد طیارے کو ہنگامی طور پر سعودی عرب میں اتارنا پڑا۔ اس دوران بھارتی پائلٹ نے اپنے شریک پائلٹ کا مقابلہ کرتے ہوئے، جس میں وہ زخمی بھی ہو گئے، 'ایک تباہ کن سانحے‘ کو روک دیا۔

فلائی دبئی کی پرواز کے مسافر بدھ کے روز بحفاظت اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق مسافروں اور عملے نے شریک پائلٹ کی طیارہ تباہ کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔ یہ کشمکش اس وقت شروع ہوئی جب شریک پائلٹ نے دوسرے پائلٹ کو چاقو مارا اور طیارہ 30 سیکنڈ سے بھی کم وقت میں تقریباً 17 ہزار فٹ نیچے آ گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 174 مسافروں میں سے 166 اسرائیلی شہری تھے۔

(جاری ہے)

ایئرلائن نے کہا کہ جھگڑے کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں۔

اسرائیلی حکام نے اس واقعے کو ''دہشت گردانہ حملے کی کوشش‘‘ قرار دیا، تاہم وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکی نشریاتی ادارے ''فوکس نیوز‘‘ سے گفتگو میں کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ اس واقعے کے پیچھے کون تھا؟

انہوں نے طیارے کو تباہ ہونے سے بچانے والوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

بھارتی پائلٹ کی تعریف

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے زخمی پائلٹ، جس کی شناخت بھارتی شہری سومیت مچھار کے نام سے ہوئی، کو ''غیر معمولی بہادری‘‘ پر سراہا۔ ان کے مطابق پائلٹ نے اپنے شریک پائلٹ کا مقابلہ کرتے ہوئے ''ہوا میں ایک تباہ کن سانحے‘‘ کو روک دیا۔

فوکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں نیتن یاہو نے ایک اسرائیلی مسافر کو بھی سراہا، جس نے حملہ آور کو قابو کرنے میں مدد دی۔

انہوں نے اس شخص کی شناخت صرف 'یانک‘ کے نام سے کی اور بتایا کہ وہ پلمبر ہے۔

نیتن یاہو نے کہا، ''یہ ان کی، بھارتی پائلٹ اور ان لوگوں کی شاندار بہادری تھی جنہوں نے ان کی مدد کی۔ انہوں نے ایک ایسے سانحے کو روک دیا جو عالمی سطح پر تباہ کن ہو سکتا تھا۔‘‘

بھارتی سفارتخانے کے مطابق سومیت مچھار کا سعودی عرب کے ایک ہسپتال میں علاج جاری ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر انہیں ''ہیرو‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ''ان کی بہادری نے سینکڑوں جانیں بچانے میں مدد کی۔‘‘

قابو سے باہر

اے ایف پی ٹی وی کی تصاویر میں فلائی دبئی کا ایک دوسرا طیارہ مسافروں کو لے کر تل ابیب کے ہوائی اڈے پر اترتا دکھائی دیا۔ ابتدائی پرواز کا رخ سعودی عرب کے شہر تبوک کی جانب موڑ دیا گیا تھا۔

نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں وزیراعظم کو تل ابیب پہنچنے والے مسافروں سے ملاقات کرتے اور خون آلود قمیص پہنے ایک شخص کو گلے لگاتے دیکھا گیا۔

مسافر میریام شیرا اوہیون نے بتایا کہ اردن کی فضائی حدود میں واقعے کے دوران طیارہ ''تقریباً مکمل طور پر قابو سے باہر‘‘ ہو گیا تھا۔

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ''شریک پائلٹ نے پائلٹ کو قتل کرنے اور بنیادی طور پر طیارے پر خودکش حملہ کرنے کی کوشش کی۔

‘‘

انہوں نے کہا کہ طیارہ ''واقعی گرنے کے قریب تھا‘‘ اور متعدد مسافروں کی حاضر دماغی کے باعث شریک پائلٹ کو قابو کرکے بے اثر کیا جا سکا۔

ایئرلائن نے بتایا کہ طیارے میں موجود فلائی دبئی کے عملے کے ایک اور گروپ نے پرواز کا رخ موڑا اور طیارے کو بحفاظت اتارا۔ کمپنی نے تحقیقات مکمل ہونے تک اسرائیل کے لیے پروازیں معطل کرنے کا اعلان بھی کیا۔

’دہشت گردوں کا حملہ‘

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے واقعے کو ''جہادی دہشت گردانہ حملے کی کوشش‘‘ قرار دیا، تاہم انہوں نے اس دعوے کے لیے کسی ذریعے کا حوالہ نہیں دیا۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل نے بھی اسے ''اسرائیلیوں، متحدہ عرب امارات اور ابراہیمی معاہدوں کے خلاف دہشت گردانہ حملے کی کوشش‘‘ قرار دیا۔

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے 2020 میں تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے اماراتی ہم منصب سے بات کی اور ''سلامتی کو نقصان پہنچانے اور استحکام کو متاثر کرنے والے انتہا پسند عناصر کے خلاف تعاون‘‘ پر اتفاق کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے واقعے پر گفتگو کے بعد کہا، ''ایسا لگتا ہے کہ شریک پائلٹ شاید دہشت گرد یا شاید ذہنی طور پر غیر متوازن شخص تھا۔

‘‘

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب خطے میں فروری کے اواخر میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ کو کئی ماہ گزر چکے ہیں اور اکتوبر کے آخر میں اسرائیل میں انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔

نیتن یاہو نے منگل کو کہا تھا کہ ''اشارے‘‘ مل رہے ہیں کہ اسرائیل کے دشمن انتخابات سے قبل حملہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس پر اپوزیشن رہنما نے ان پر ''خوف پھیلانے‘‘ کا الزام عائد کیا تھا۔

ادارت: امتیاز احمد

Live سعودی عرب سے متعلق تازہ ترین معلومات