تربیلا ڈیم میں پانی ڈیڈ لیول تک پہنچ گیا ‘پانی کی شدید قلت کا خطرہ

ملک میں ڈیموں کو بھرنے کے لیے تیزبارشوں کی ضرورت ہے جن کا ابھی کوئی امکان نظر نہیں آرہا- پاکستان پوائنٹ نیٹ ورک کے ایڈیٹرمیاں محمد ندیم کی تحقیقی رپورٹ

اتوار مئی 13:42

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار مئی ء)ارسا نے کہا ہے کہ تربیلا ڈیم میں پانی ڈیڈ لیول تک پہنچ گیا ہے۔ دریاﺅں میں پانی کی آمد ایک لاکھ 3ہزار 900کیوسک ہے، دریاﺅں سے پانی کا اخراج ایک لاکھ 21ہزار 800کیوسک ہے۔ترجمان ارسا کے مطابق دریاﺅں میں پانی کی آمد ایک لاکھ 3ہزار 900کیوسک ہے، دریاﺅں سے پانی کا اخراج ایک لاکھ 21ہزار 800کیوسک ہے ،ڈیمو ں میں پانی کا ذخیرہ 3لاکھ 90ہزارایکڑ فٹ ہے۔

پنجاب کو ساڑھے 67ہزار کیوسک اور سندھ کو 45ہزار کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے، بلوچستان کو 5ہزار 900کیوسک اور کے پی کو 3ہزار ایک سو کیوسک پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔مجموعی طور پر پنجاب اور سندھ کو پانی کی 37 فیصد قلت کاسامنا ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک میں ڈیموں کو بھرنے کے لیے تیزبارشوں کی ضرورت ہے جن کا ابھی کوئی امکان نظر نہیں آرہا-دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 2025ءتک پانی کی شدید قلت کا خدشہ ہے، اس صورتحال سے بچنے کیلئے فوری حل تلاش کرنے ہوں گے۔

(جاری ہے)

پاکستان کونسل برائے تحقیق آبی ذخائر کی جانب سے جاری کی جانے والی حالیہ تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 1990 میں پاکستان ان ممالک کی صف میں آگیا تھا جہاں آبادی زیادہ اور آبی ذخائر کم تھے جس کے باعث ملک کے دستیاب آبی ذخائر پر دباوﺅ بڑھ گیا تھا۔یہ کونسل وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے زیر سرپرست ہے جو آبی ذخائر کے مختلف امور اور تحقیق کی ذمہ دار ہے۔

کونسل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال سے بچنے کے لیے فوری طور پر اس کا حل تلاش کرنے کی ضروت ہے۔ پاکستان دنیا کے ان 17 ممالک میں شامل ہے جو پانی کی قلت کا شکار ہیں۔پاکستان کے قیام کے وقت ملک میں ہر شہری کے لیے 5 ہزار 6 سو کیوبک میٹر پانی تھا جو اب کم ہو کر 1 ہزار کیوبک میٹر رہ گیا ہے اور سنہ 2025 تک یہ 8 سو کیوبک میٹر رہ جائے گا۔گزشتہ برس انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں متنبہ کیا تھا کہ ملک میں پانی کی کمی بجلی کی کمی سے بھی بڑا مسئلہ بن چکا ہے اور حکومت کو فوری طور پر اس طرف توجہ دینا ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 16-2015 میں زرعی پیدوار میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی تھی جس کی ایک بڑی وجہ پانی کی کمی تھی۔حال ہی میںاسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان کو پانی کی شدید قلت کے بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ڈیموں میں صرف 30 دن پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رہ گئی ہے اور کروڑوں شہری زہریلا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

بڑھتی ہوئی آبادی، شہروں کی طرف نقل مکانی، موسمیاتی تبدیلیوں اور حکومتوں کی کوتاہیوں نے پاکستان کو پانی کی شدید قلت کے شکار 33 ممالک کی طرف دھکیل دیا ہے۔اسٹیٹ بینک نے اپنی رپورٹ میں اس خطرے سے آگا ہ کردیا ہے۔ پاکستان کے تین بڑے آبی ذخائر منگلا، تربیلا اور چشمہ میں صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رہ گئی ہے۔ملکی دریاﺅں میں آنے والے پانی میں سے 28 ملین ہیکٹر فٹ پانی ضائع ہو کر سمندر میں چلا جاتا ہے۔

عالمی معیار کے مطابق کم از کم 120 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئے جبکہ ترقی یافتہ ممالک ایک سے دو سال کیلئے پانی ذخیرہ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں دریاﺅں کا صرف 10 فیصد پانی ہی ذخیرہ ہو پاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق 5 کروڑ پاکستانی آلودہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ زیر زمین پانی میں آرسینک (سینکھیا) اور آلودگی شامل ہونے سے خطرناک بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں۔

بہاولپور کے کئی اضلاح سمیت حیدر آباد، نواب شاہ اور پشین سمیت سندھ اور بلوچستان کے بعض اضلاع میں پانی زیرزمین 1000 فٹ نیچے چلا گیا ہے۔ پاکستان میں سالانہ 500 ملی میٹر جبکہ بھارت میں 1000 ملی میٹر بارش ہوتی ہے اسی طرح درختوں کی بے دریغ کٹائی سے بارشوں کا باعث بننے والے اسباب کو شعوری طور پر ختم کیا گیا ہے ۔ پاکستان میں شہریوں کو فی کس 1017 کیوبک میٹر جبکہ بھارت میں 1600 کیوبک میٹر پانی دستیاب ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت اور افغانستان کے آبی منصوبے پاکستان کیلئے خطرناک ہیں۔ پاکستانی دریاﺅں چناب اور جہلم پر بھارت نے بگلیہاراورکشن گنگا جیسے ڈیم بنا لیئے جبکہ افغانستان دریائے کابل پرہائیڈرو پاور منصوبے تعمیر کر رہا ہے۔اسٹیٹ بنک کی رپورٹ کا کہنا ہے کہ 2030 تک پاکستان پانی کی شدید قلت والے 33 ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔

ایک اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر پاکستان توانائی بحران سے نکل بھی گیا تو خوراک اور پانی کی کمی کے شدید بحران کا شکار ہوسکتا ہے جس سے نکلنا بہت مشکل ہو گا۔ ہمارے دریاﺅں میں 144 ملین ہیکٹر فٹ پانی آتا ہے جس میں سے صرف 13.8 ملین ہیکٹر فٹ پانی ذخیرہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ سالوں میں آنے والے سیلابوں کی وجہ سے 38 ارب ڈالر کے نقصانات ہوئے ہیں۔ ہمارے پانی کے ذخائر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتے جارہے ہیں جن کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سال پاکستان میں ربیع کی فصل کے لیے 20 فیصد پانی کم ہونے کا امکان ہے اس خدشے کا اظہار بھی کیا جارہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اچانک سیلاب یا خشک سالی بھی ہو سکتی ہے جس سے نمٹنے کیلئے ڈیمز کا ہونا ناگزیر ہے۔

Your Thoughts and Comments