آرمی چیف کی وزیرداخلہ احسن اقبال پرحملے کی شدید مذمت

وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کی جلد صحت یابی کیلئےدعا گو ہوں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ

اتوار مئی 20:13

راولپنڈی(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ اتوار مئی ء): آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال پرحملے کی مذمت کی گئی ہے،احسن اقبال کی جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہوں۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال پرحملے کی مذمت کی گئی ہے،انہوں نے کہاکہ احسن اقبال کی جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہوں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کے بیٹے احمد اقبال کا کہنا ہے کہ والد صاحب خطرے سے باہر اور ہوش میں ہیں،ان کوجلد لاہور منتقل کردیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ والد صاحب پرحملے پرتشویش ہے۔انہوں نے کہاکہ احسن اقبال کوڈی ایچ کیوناروال میں ابتدائی طبی امداددی گئی ہے۔

(جاری ہے)

تاہم مزید میڈیکل ٹیسٹ کے لیے ان کولاہور منتقل کیا جائے گا۔

واضح رہے وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال شکرگڑھ کی تحصیل کنجرورمیں عوامی جلسے سے خطاب کے بعدواپس جارہے تھے کہ ان پرنامعلوم ملزمان نے فائرنگ کردی۔ احسن اقبال کے کزن عمران کا کہنا ہے کہ احسن اقبال پرنامعلوم ملزمان نے فائرنگ کردی ہے۔احسن اقبال کے بازو پرگولی لگی ہے۔جس سے احسن اقبال شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ تاہم احسن اقبال کوہسپتال منقتل کردیا گیا ہے۔

اور احسن اقبال کی حالت خطرے سے باہر ہے۔اور خیریت سے ہیں۔کزن عمران کا کہنا ہے کہ احسن اقبال جب جلسہ کرکے باہر نکلے تھے توان کی گاڑی پرفائرنگ کردی۔ احسن اقبال اپنی گاڑی میں بیٹھ ہی رہے تھے کہ ان پرفائرنگ کردی گئی۔ملزم نے احسن اقبال پردو فائر کیے جس میں ایک گولی احسن اقبال کے دائیں بازور پرلگی ہے۔پولیس نے فائرنگ کے واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

پولیس حکام جائے وقوعہ پرمعائنہ کررہے ہیں کہ فائرنگ کس طرف سے کی گئی ہے۔ملزمان کہاں سے آئے اور کتنے افراد تھے جنہوں نے احسن اقبا ل پرفائرنگ کی۔ تاہم احسن اقبال کے قریبی ساتھی عمران کا کہنا ہے کہ احسن اقبال کوہسپتال منقتل کردیا گیا ہے۔اب احسن اقبال کی حالت خطرے سے باہر ہے۔دوسری جانب ایک اطلاع کے مطابق جلسہ گالہ میں فائرنگ کرنے والے ایک ملزم کوحراست میں بھی لیا گیا ہے۔

دوسری جانب وزیرمملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ احسن اقبال پرحملہ کرنے والے کی عمر20سے 22سال ہے۔حملہ آور کوگرفتار کرلیا گیا ہے، احسن اقبال کی حالت خطرے سے باہر ہے۔احسن اقبال کے بلٹ دائیں کندھے کے قریب لگا۔ڈی پی اوناروال عمران کشور کاکہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والا شخص مقامی ہے ،انکوائری جاری ہے۔ ملزم نے 15گز کے فاصلے سے گولی چلائی،انہوں نے بتایا کہ احسن اقبال کی حالے خطرے سے باہر ہے۔

ڈی پی اوناروال عمران کشور کاکہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والا شخص مقامی ہے ،انکوائری جاری ہے۔ ملزم نے 15گز کے فاصلے سے گولی چلائی،انہوں نے بتایا کہ احسن اقبال کی حالے خطرے سے باہر ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ عابد نامی شخص ہی اصل ملزم ہے۔جس نے احسن اقبال پرفائرنگ کی۔ عابد نے جب فائرنگ کی تولوگوں نے موقع پرہی اس نوجوان کوپکڑ لیااور مارنا شروع کردیا۔

جس کے بعد لوگوں نے ملزم کوپولیس کے حوالے کردیا۔ملزم سے 30بور کا پستول برآمد کرلیا ہے۔ پولیس کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ملزم عابد وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کے خطاب کے وقت فرنٹ لائن میں ہی بیٹھا ہوا تھا۔سفید رنگ کے شلوار قمیض میں میں ملبوس تھا۔ملزم عابدویرم گاؤں کا رہائشی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ملزم نے پولیس کواپنے اعترافی بیان میں بتایا کہ ختم نبوت ﷺ کے معاملے پراحسن اقبال پرگولی چلائی۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کولاہور منتقل کرنے کیلئے اپنا ہیلی کاپٹر ناروال بھجوا دیا ہے،وزیراعلیٰ شہبازشریف نے واقعے کی آئی جی پنجاب پولیس سے رپورٹ بھی طلب کرلی،وزیراعلیٰ نے احسن اقبال کی صحتیابی کی دعا بھی کی۔

Your Thoughts and Comments