نوازشریف نے ایوان فیلڈریفرنس میں احتساب عدالت میں اپنا بیان قلمبند کرانا شروع کردیا، منی ٹریل سے متعلق سوال کا جواب حسن اور حسین نواز کے کھاتے میں ڈال دیا

دبئی فیکٹری اور العزیزیہ مل سے میرا کوئی تعلق نہیں تھا ، قومی اسمبلی میں تقریر یا قوم سے خطاب میں کبھی نہیں کہا ایون فیلڈ پراپرٹی سے میرا کوئی تعلق ہے ایون فیلڈ پراپرٹی کا اصل یا بے نامی دار مالک نہیں ہوں ، نیلسن اور نیسکول کمپنی کے بیئرر شئیرز سرٹیفکیٹ کبھی میرے تھے نہ میرے پاس رہے ،سابق وزیر اعظم نوازشریف نے پاناما کیس سے متعلق فیصلے اور جے آئی ٹی پر سوالات اٹھا دئیے، جے آئی ٹی ممبران کی سیاسی جماعتوں سے وابستگی ظاہر ہے سماعت کل بھی جاری رہی رہے،نوازشریف بیان جاری رکھیں گے

پیر مئی 23:26

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر مئی ء)سابق نا اہل وزیر اعظم نوازشریف نے ایوان فیلڈریفرنس میں احتساب عدالت میں اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے منی ٹریل سے متعلق سوال کا جواب حسن اور حسین نواز کے کھاتے میں ڈال دیا اور کہا ہے کہ دبئی فیکٹری اور العزیزیہ مل سے میرا کوئی تعلق نہیں تھا ، قومی اسمبلی میں تقریر یا قوم سے خطاب میں کبھی نہیں کہا ایون فیلڈ پراپرٹی سے میرا کوئی تعلق ہے ، ایون فیلڈ پراپرٹی کا اصل یا بے نامی دار مالک نہیں ہوں ، نیلسن اور نیسکول کمپنی کے بیئرر شئیرز سرٹیفکیٹ کبھی میرے تھے نہ میرے پاس رہے ۔

نوازشریف نے سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق فیصلے اور جے آئی ٹی پر سوالات اٹھا تے ہوئے نامناسب اور غیر ضروری قرارد یا اور کہا کہ جے آئی ٹی ممبران کی سیاسی جماعتوں سے وابستگی ظاہر ہے۔

(جاری ہے)

پیر کے روز احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے شریف خاندان کے خلاف ریفرنس کی سماعت کی، اس موقع پر نامزد تینوں ملزمان نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کمرہ عدالت میں موجود رہے۔

احتساب عدالت نے تینوں ملزمان سے 127 سوالات پر مشتمل سوالنامے کا جواب طلب کیا تھا،گذشتہ روز سماعت شروع ہوئی تو نواز شریف نے پہلے سوال میں اپنے عوامی عہدوں کی تفصیلات پڑھ کر سنائیں۔سابق وزیراعظم نے تقریباً 4 گھنٹے تک اپنا بیان قلمبند کرایا جس کے دوران انہوں نے 127 میں سے 55 سوالات کے جواب دئیے ۔ نواز شریف نے جے آئی ٹی کی تشکیل پر سوالات اٹھادیئے ۔

انکا کہنا تھا کہ نوازشریف کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 10مجھے شفاف ٹرائل کا حق دیتا ہے ، مجھے اپنے خلاف پیش کیے گئے شواہد کی مکمل سمجھ آگئی، یہ تفتیش یکطرفہ تھی ، جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے نمائندے کا شامل ہونا درست نہیں تھا، ستر سالہ سول ملٹری جھگڑے کا بھی جے آئی ٹی کی کاروائی پر اثر ہوا، انہوں نے کہا سال 2000میں عامر عزیز ڈائریکٹر بینکنگ کام کررہے تھے۔

مشرف نے عامر عزیز کو ڈیپوٹیشن پر نیب میں تعینات کیا۔ بلال رسول کی اہلیہ بھی پی ٹی آئی کی سپورٹر ہیں ، بلال رسول کی اہلیہ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی سرگرم رکن ہیں ۔بلال رسول کے رکن جے آئی ٹی بننے تک وہ پی ٹی آئی کی سپورٹر تھیں، عامر عزیز کو جے آئی ٹی میں شامل کیا گیا ، عامر عزیز نے آمر مشرف کے دور میں حدیبیہ پیپر ملز کی تحقیقات کیں ، یہ حقیقت سب کے سامنے ہے عامر عزیز نے 2000میں میرے اور میرے خاندان کے خلاف دائر ریفرنس میں تفتیشی تھے ۔

جے آئی ٹی کے بلال رسول میاں محمد اظہر کے بھتیجے تھے ، میاں اظہر سابق گورنرز پنجاب رہ چکے اور اب پی ٹی آئی کے سپورٹر ہیں، میاں اظہر کے بیٹے حماد اظہر کی عمران خان کے ساتھ بنی گالہ میں ملاقات کی تصویریں سامنے آئیں ، تصاویر 29اپریل 2017 کی ہیں ۔بلال رسول خود بھی ن لیگ کے کھلے مخالف اور پی ٹی آئی کے سپورٹر ہیں ،آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر نعمان اور کامران کا تعلق ایم آئی سے تھا ، ان دونوں افراد کی جے آئی ٹی میں تعیناتی مناسب نہیں تھی ، ستر سالہ سول ملٹری جھگڑے کا بھی جے آئی ٹی پر اثر پڑا ، عرفان منگی کی تعیناتی کا کیس سپریم کورٹ میں ابھی تک زیر التوا ہے ۔

عرفان منگی کو بھی جے آئی ٹی میں شامل کر دیا گیا ، عرفان منگی کی تعیناتی کا کیس تاحال سپریم کورٹ میں ہے۔ جے آئی ٹی کی دس والیم پر مشتمل خود ساختہ رپورٹ غیر متعلقہ تھی ، جے آئی ٹی کی خود ساختہ حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں دائر درخواستیں نمٹانے کے لئے تھی ، ان درخواستوں کو بطور شواہد پیش نہیں کیا جا سکتا ۔جے آئی ٹی تفتیشی رپورٹ ہے جو ناقابل قبول شہادت ہے ۔

سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی طرف سے اکٹھے کئے گئے شواہد کی روشنی میں ریفرنس دائر کرنے کا کہا ، سپریم کورٹ نے یہ نہیں کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کو بطور شواہد ریفرنس کا حصہ بنایا جائے ، میری اطلاعات لے مطابق بریگیڈیئر نعمان سعید ڈان لیکس کی انکوائری کمیٹی کا حصہ تھے ، ڈان لیکس کی وجہ سے سول ملٹری تناو میں اضافہ ہوا ، نواز شریف جے آئی ٹی میں تعیناتی کے وقت نعمان سعید آئی ایس آئی میں نہیں تھے ، نعمان سعید کو آوٹ سورس کیا گیا کیونکہ ان کی تنخواہ بھی سرکاری ریکارڈ سے ظاہر نہیں ہوتی ، سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو اختیارات دیئے کہ قانونی درخواستوں کو نمٹایا جا سکے۔

ایسے اختیارات دینا غیر مناسب اور غیر متعلقہ تھے ، جے آئی ٹی نے شاید مختلف محکموں سے مخصوص دستاویزات اکٹھی کیں ۔ اختیارات سے متعلق نوٹیفکیشن جے آئی ٹی کی درخواست پر جاری کیا گیا ، جے آئی ٹی سپریم کورٹ کی معاونت کے لئے بنائی گئی تھی ، اس ریفرنس کے لئے نہیں ، واجد ضیا جانبدار تھے ، واجد ضیا نے اپنے کزن کو سولیسٹر مقرر کیا، اختر راجہ نے جھوٹی دستاویزات تیار کیں ، جے آئی ٹی نے برطانیہ اور سعودی عرب کو جو ایم ایل اے بھجوائے وہ اس عدالت میں پیش نہیں کئے گئے ، جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کے حکم پر بیان ریکارڈ کئے ، نوا شریف وہ بیانات اس ٹرائل کے لئے غیر متعلقہ ہیں ، ان بیانات کا مقصد سپریم کورٹ کی معاونت کرنا تھا ، نوازشریف کا کہنا تھا ایون فیلڈ کا کبھی حقیقی یا بنفشل مالک نہیں رہا،ایون فیلڈ پراپرٹی کی خریداری کیلئے فنڈز فراہم نہیں کئے، یہ سوال حسن اور حسین نواز سے متعلقہ ہے، نواز شریف نے منی ٹریل سے متعلق سوال کا جواب حسن اور حسین نواز کے کھاتے میں ڈال دیا ۔

انہوں نے کہا کہ حسن اور حسین نواز عدالت کے سامنے موجود نہیں، استغاثہ کی طرف سے کوئی ایسے شواہد پیش نہیں کیا گیا جس سے میرا لندن فلیٹس سے تعلق ظاہر ہو۔جے آئی ٹی نے دوران تفتیش جن لوگوں کے بیان ریکارڈ کئے وہ اس کیس میں گواہ نہیں ، جے آئی ٹی نے جن گواہان کے بیان ریکارڈ کئے وہ یہاں بطور شواہد پیش نہیں کئے گئے ، جے آئی ٹی کی طرف سے اخذ کیا گیا نتیجہ رائے پر مبنی تھا جو قابل قبول شہادت نہیں ، سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی طرف سے اکٹھے کئے گئے مواد کی روشنی میں ریفرنس دائر کرنے کا کہا ۔

انہوں نے کہا حدیبیہ پیپر ملز اور گلف اسٹیل کے قیام میں میرا کوئی کردار نہیں رہا، میرے براہ راست علم میں نہیں کہ گلف اسٹیل کے قیام کے لیے فنڈز کہاں سے آئے، ن سے میری موجودگی میں تفتیش ہوئی نہ ہی جے آئی ٹی نے بیان لیا ، گلف اسٹیل مل کا قیام ، سرمایہ ، آپریشن، قرض کا حصول اور شئیر کی فروخت کی سنی سنائی باتیں ہیں ان تمام کا حصہ نہیں رہا ، حدیبیہ پیپر ملز میں کسی بھی طور پر ملوث نہیں رہا ، ایس ای سی پی کی سدرہ منصور کی طرف سے پیش کیا گیا ریکارڈ غیر متعلقہ ہے ، طارق شفیع کے بیان حلفی سے ظاہر ہوتا ہے کہ گلف اسٹیل قرض کی رقم سے بنائی گئی، طارق شفیع کو اس کیس میں نہ تو ملزم نامزد کیا گیا ہے نہ ہی گواہ، گلف اسٹیل کے 25فیصد حصص کی فروخت کے معاہدے سے متعلق ایم ایل اے کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، گلف اسٹیل کے 25فیصد حصص کی فروخت کے معاہدے سے متعلق ایم ایل اے کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، 1980کے معاہدے پر شہباز شریف اور طارق شفیع کی طرف سے دستخطوں سے انکار سے متعلق کچھ نہیں کہ سکتا، نواز شریف طارق شفیع اور شہباز شریف نے میری موجودگی میں دستخطوں سے انکار نہیں کیا، یہ ایک حقیقت ہے کہ 12اکتوبر1999 کو مجھے حراست میں لے لیا گیا، حراست میں لیے جانے کے بعد سعودی عرب بھجوادیا گیا، میرے علم میں ہے کہ میرے والد نے حسین اور مریم نواز کو حدیبیہ پیپر ملز کا ڈائریکٹر نامزد کیا، یہ بات بھی میرے علم میں ہے کہ میرے مرحوم والد نے حسن نواز کو حدیبیہ پیپر ملز کا شیئرہولڈر نامزد کیا تھا، سپریم کورٹ نے تجزیئے کی بنیاد پر ریفرنس دائر کرنے کا نہیں کہا تھا ، ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جے آئی ٹی کی طرف سے ریکارڈ کئے گئے بیان کا مخصوص حصہ والیم ٹو میں ری پروڈیوس کیا گیا ، استغاثہ نے غیر مستند شواہد پیش کئے، طارق شفیع کی طرف سے پیش کی گئی ٹرانزیکشن سے متعلق بیان حلفی کا عینی شاہد نہیں ہوں ، طارق شفیع کو اس کیس میں گواہ نہیں بنایا گیا ، نواز شریف نے کہا اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب کے پاس ریفرنس دائر کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا ، جس شخص نے جے آئی ٹی کی کاپی حاصل کرنے کے لئے درخواست کی اس پر سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھے ، جس شخص نے جے آئی ٹی کی کاپی حاصل کی اسے شامل تفتیش یا گواہ نہیں بنایا گیا ، تفتیشی افسر نے تفتیش نہیں کی کہ والیم فور سپریم کورٹ میں جمع ہونے کے بعد کس نے کب اور کیسے نئے دستاویزات اس میں شامل کئے ، شواہد نہیں ہیں کہ کیس کا ریکارڈ کب ، کیسے اورکس نے اکٹھا کیا ، اکٹھے کئے گئے ریکارڈ کا ریکوری میمو بھی نہیں ، قانون شہادت کے مطابق ایک کیس کے شواہد دوسرے کیس میں نہیں پڑھے جا سکتے ، نواز شریف کا کہناتھا کہ میں نے سپریم کورٹ میں کبھی تسلیم نہیں کیا کہ لندن فلیٹس کا حقیقی یا بینیفشل مالک ہوں ، سال 1974میں دبئی اسٹیل مل کے قیام کے وقت نہ میں نے حصہ لیا نہ میں عینی شاہد ہوں ، نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ مجھے ذاتی طور پر نیب نے نوٹس کی تعمیل نہیں کی ، کوئی ثبوت بھی نہیں کے جاتی امرا پر موجود میرے سکیورٹی افسر نے طلبی کا نوٹس وصول کیا ہو ، طلبی کے نوٹس سے متعلق ٹی وی چینلز کے ذریعے ہوا ، میں نے اپنے وکیل کو جواب دینے کی ہدایات کیں ، نوٹس آنکھ میں دھول جھونکنے کے مترادف تھا ، سپریم کورٹ پہلے ہی ریفرنس دائر کرنے کا کہہ چکی تھی ، تفتیشی افسر بھی کہہ چکے ہیں ان کے پاس ریفرنس دائر کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا، جے آئی ٹی میں پہلے ہی اپنا دفاع پیش کر چکا ہوں۔

اس بات کا ثبوت نہیں کہ شکیل انجم ناگرا نے جے آئی ٹی رپورٹ کے والیم ایک سو نو تک تین سیٹ حاصل کئے ہوں ، ایسی کوئی درخواست بھی نہیں جو ان دستاویزات کے حصول کے لئے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی ہوں ، اس بات کو ثبوت نہیں کہ گواہ نے یہ والیم طے شدہ فیس کی ادائیگی کے بعد حاصل کئے ہوں ، گواہ ظاہر شاہ اور تفتیشی افسر کے والیم دس سے متعلق بیان میں تضاد ہے، عبداللطیف سکیورٹی گارڈ اور طارق شفیع گواہان میں شامل نہیں ، ہیڈ کانسٹیبل اور موسیٰ غنی بھی گواہان میں شامل نہیں ، تفتیشی افسر نے تسلیم کیا کہ حسین نواز کا بی بی سی کو دیا گیا انٹرویو کب اور کس نے یو ٹیوب پر اپ لوڈ کیا، پانچ اپریل 2016 کو قوم سے خطاب کیا ، خطاب دبئی فیکٹری ، العزیزیہ سمیت مختلف معاہدوں سے متعلق تھا ، حسین نواز نے جو معلومات فراہم کیں وہ میرے علم میں نہیں تھیں ، بعدازاں ایون فیلڈ ریفرنس کیس کی سماعت کل منگل تک ملتوی کردی گئی ۔

نواز شریف آج بھی بیان جاری رکھیں گے۔پیر کے روز سماعت کے دوران 127 میں سے 55 سوالوں کے جواب دیئے گئے۔

Your Thoughts and Comments