بحرین میں بھی مساجد میں نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد

مساجد میں نماز پر پابندی کا اطلاق گزشتہ روز مغرب کے نماز سے شروع ہو گیا

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل مارچ 11:52

بحرین میں بھی مساجد میں نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد
منامہ(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔24مارچ 2020ء) کورونا وائر س نے دُنیا بھر کی طرح خلیجی ممالک کو بھی اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ جس کے باعث یہاں کی حکومتوں کو مجبوری کے عالم میں کئی ناپسندیدہ فیصلے بھی لینے پڑ رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک فیصلہ مساجد میں باجماعت نماز کی پابندی اور نمازیوں کا اجتماع ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت کی جانب سے تمام مساجد میں نمازوں کی ادائیگی پر عارضی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

لوگوں کو تلقین کی جا رہی ہے کہ وہ نماز پنجگانہ گھروں سے ہی ادا کریں۔ ایک اور خلیجی ملک میں مساجد کو عبادت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ کویتی اخبار القبس کے مطابق بحرین کی حکومت نے تمام مساجد میں نماز اور جمعہ کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے جو کہ عارضی نوعیت کی ہے۔

(جاری ہے)

اس پابندی کا اطلاق گزشتہ روز مغرب کے نماز سے ہو گیا ہے۔بحرین کی اسلامی امور کی سپریم کونسل کی جانب سے کورونا وائرس کے پیش نظر مساجد میں نمازوں کی ادائیگی پر پابندی کا فتویٰ دیا گیا تھا، جس کے بعد سنی محکمہ اوقاف کی جانب سے اس پابندی کا اعلان کر دیا گیا۔

محکمہ اوقاف نے تارکین وطن اور مقامی افراد کو تاکید کی ہے کہ وہ اس بحرانی گھڑی میں نمازیں گھروں سے ہی ادا کریں۔ عبادت کے معاملے میں بالکل غفلت نہ کریں کیونکہ آج کے بحرانی دور میں پیدا ہونے والی آزمائش سے نجات کے لیے زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی لازمی ہو گئی ہے۔ ہر اذان میں لوگوں سے کہا جائے گا کہ وہ گھروں پر ہی نماز ادا کریں۔ واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں کورونا وائرس کے خدشے کے باعث تمام مذاہب کی عبادت گاہیں عارضی طور پر بند کر دی گئی ہیں۔

تمام مساجد میں بھی صرف اذان دی جا رہی ہے، اور لوگوں کو نمازیں گھر پر ہی پڑھنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔اماراتی مساجد میں ادا ہونے والی اذانوں کے اختتام پر کچھ الفاظ کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اذان کے اختتام پر موذن یہ کہتا سُنائی دیتا ہے ”الصلاة فی بیوتکم“ یعنی گھروں پر ہی نماز اد اکرو“۔ شارجہ کی النور مسجد میں بھی جب فجر کی اذان میں پہلی بار یہ الفاظ دُہرائے گئے تو بہت سارے نمازی حیران رہ گئے، کیونکہ ان کی زندگیوں میں یہ پہلا موقع تھا کہ اذان کے اختتام پر ’نماز گھروں میں ہی اداکرو“ کے الفاظ دُہرائے جا رہے تھے۔ مملکت بھر میں مساجد میں نماز کی ادائیگی پر چار ہفتوں کے لیے پابندی عائد کی گئی ہے ۔ یہ پابندی نماز جمعہ پر بھی عائد ہو گی۔ 

منامہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments