کویت کی سڑکوں پر بھیک مانگنے والا غیر مُلکی 24 کروڑ روپے کا مالک نکلا

خلیجی ممالک میں غیر مُلکی بھیک مانگ مانگ کر اچھے خاصے دولت مند بن چکے ہیں

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات مئی 15:27

کویت کی سڑکوں پر بھیک مانگنے والا غیر مُلکی 24 کروڑ روپے کا مالک نکلا
کویت (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین،30 مئی 2019ء) پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ دارالحکومت کویت سٹی میں ایک ایسا گداگر پکڑا گیا ہے جو بھیک مانگ مانگ کر پچاس ہزار کویتی دینار سے زائد اکٹھا کر چکا تھا یعنی پاکستان روپوں میں کوئی پندرہ کروڑ سے بھی زائد دولت کا مالک بن چکا تھا۔ اس گداگر نے اپنے اکاﺅنٹ میں یہ کروڑوں روپے جمع کرا رکھے تھے، پھر بھی سڑکوں پر خود کو بدحال ظاہر کر کے لوگوں سے پیسے ہتھیانے سے باز نہیں آ یا تھا۔

پولیس کے مطابق یہ بھکاری شہر کی ایک مسجد کے پاس سے پکڑا گیا جس سے مزید تفتیش کے لیے ریمانڈ لیا جا رہا ہے۔ پولیس کی جانب سے جاری تفصیلات میں مزید بتایا گیا کہ یہ شخص ایک مسجد کے باہر کھڑا لوگوں سے یہ کہہ کر بھیک مانگ رہا تھا کہ اُس کے حالات انتہائی خراب ہیں یہاں تک کہ اُس کے پاس اپنے وطن واپس جانے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں، لہٰذا اس کی مالی امداد کی جائے۔

(جاری ہے)

علاقے کے گشت پر مامور پولیس ٹیم نے اسے بھیک مانگنے پر گرفتار کر کے ال احمدی پولیس سٹیشن منتقل کر دیا۔ جہاں تفتیش کے دوران پتا چلا کہ اس شخص نے کویت کے ایک بینک میں خیرات سے اکٹھی کی گئی رقم جمع کروا رکھی تھی۔ یہ رقم بھی کوئی معمولی نہیں تھی بلکہ پاکستانی کرنسی میں ان کی مالیت چوبیس کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔ واضح رہے کہ خلیجی ممالک بحرین، اومان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں بھیک مانگنے پر قانونی پابندی عائد ہے اور اس حوالے سے کوئی رُو رعایت نہیں برتی جاتی۔

رمضان المبارک میں خاص طور پر مقامی اور غیر مُلکی ہزاروں افراد لوگوں کے سامنے اپنی غربت ظاہر کر کے اُن سے خیرات کی مد میں بڑی رقم اکٹھی کر لیتے ہیں۔ گزشتہ اپریل کے دوران بھی کویت سے 22 بھکاریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا تھا، جن میں اکثریت ایشیائی باشندوں کی تھی۔ سعودی عرب میں بھی گداگری کے معاملے میں غیر ملکی پیش پیش ہیں جہاں 85 فیصد گداگر غیر مُلکی ہیں جبکہ 15 فیصد مقامی باشندے ہیں۔ 2012ءمیں پولیس نے کویت سٹی میں ایک ایسے بھکاری کو پکڑا تھا جو خود کو عورت ظاہر کر کے خیرات اکٹھی کر رہا تھا۔

کویت سٹی میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments