سعودی عرب میں تعینات پاکستانی قونصل جنرل نے ’ہروب ‘ کے حوالے سے وضاحت کر دی

قونصل جنرل نے بتایا کہ ہروب پر واپس جانے والا کم از کم تین سال تک سعودی عرب واپس نہیں آ سکے گا، اگر کفیل چاہے تو بیس دن کے اندر بغیر کسی جرمانے کے ہروب ہٹا سکتا ہے

Muhammad Irfan محمد عرفان جمعرات جولائی 16:42

سعودی عرب میں تعینات پاکستانی قونصل جنرل نے ’ہروب ‘ کے حوالے سے وضاحت ..
ریاض(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 2 جولائی 2020ء) سعودی عرب میں تعینات پاکستانی قونصل جنرل خالد مجید نے خبردار کیا ہے کہ جس شخص کو ہروب کے باعث واپس پاکستان بھیجا جائے گا، وہ کم از اگلے تین سال تک سعودی عرب واپس نہیں آ سکتا۔ اُردو نیوز کے نمائندے کی جانب سے قونصل جنرل خالد مجید کے ساتھ سوالات و جواب کا ایک سیشن رکھا گیا، جس دوران خالد مجید نے کہا کہ’اگر کسی کا ہروب لگا ہوا ہے اور وہ شخص کفیل سے رجوع کرے تو کفیل بیس دن کے اندر بغیر کسی جرمانے کے اس کا ہروب ہٹا سکتا ہے۔

سعودی قوانین کے مطابق اگر بیس دن سے زیادہ ہو جائے تو لیبر کورٹ ہروب ہٹانے کا مجاز ہے۔ اگر لیبر کورٹ کے سامنے ثابت ہو جائے کہ ہروب غلط لگا ہے تو ہروب ہٹا دیا جاتا ہے۔ اگر کفیل ہروب نہ ہٹائے اور لیبر کورٹ میں بھی ہروب درست ثابت ہو تو ایسے شخص کو ترحیل کے ذریعے اپنے وطن واپس بھیج دیا جاتا ہے‘۔

(جاری ہے)

قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ ’ اگرکوئی ہروب شدہ فرد شدید بیمار ہے تو ہسپتال کے تصدیق شدہ کاغذات، کفیل کی طرف سے این او سی اور قونصلیٹ یا ایمبیسی کی جانب سے گزارشی خط کے توسط سے شمیسی کے ذریعے وطن واپس جا سکتا ہے‘۔

دریں اثنا ریاض میں پاکستانی سفارتخانے کے آفیشل فیس بک پیج پر کی گئی پوسٹ کے مطابق ’ہروب والے سفارت خانے سے ورقعہ خطاب، اپنا کارآمد پاسپورٹ اور پاکستان واپسی کا ٹکٹ لے کر ترحیل سے خروج لگوا سکتے ہیں۔ ترحیل سے خروج مفت لگتا ہے۔ سعودی عرب میں کفیل کے پا س بھاگنے والے غیر مْلکی کارکنوں کوگرفتاری کے بعد چھ ماہ قید کی سزا بھْگتنا ہو گی اور ان پر پچاس ہزار ریال کا جرمانہ بھی عائد ہو سکتا ہے۔

واضح رہے جو کارکن کفیل سے فرار ہوتے ہیں، اْن پر ’ہروب‘ کا جرم لاگو ہوتا ہے، جنہیں گرفتارہونے کی صورت میں سزا دی جائے گی۔کیونکہ ہروب سعودی اقامہ و محنت قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ جوازات کے مطابق ’ہروب‘ کے مرتکب کارکن کو سزا کی مْدت پْوری ہونے کے بعد مملکت سے فوری طور پر بے دخل کر دیا جائے گا اور اسے بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔

جدہ میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments