پی ٹی آئی کے دورہ حکومت میں لاکھوں پاکستانی روزگار کیلئے بیرون ملک چلے گئے

11 لاکھ 39 ہزارسے زائد شہریوں میں سب سے زیادہ 6 لاکھ 24 ہزار سے زائد پاکستانی سعودی عرب روانہ ہوئے

Sajid Ali ساجد علی جمعہ 21 جنوری 2022 16:05

پی ٹی آئی کے دورہ حکومت میں لاکھوں پاکستانی روزگار کیلئے  بیرون ملک چلے گئے
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 21 جنوری 2022ء ) پاکستان تحریک انصاف کے دورہ حکومت میں اب تک لاکھوں پاکستانی روزگار کی تلاش میں بیرون ملک چلے گئے ، گزشتہ تین سالوں میں بیرون ملک ملازمت کے لیے بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے ساتھ رجسٹر ہونے والے زیادہ پاکستانیوں کی تعداد میں پہلے 7 خلیجی اور ایشائی ممالک ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ اجلاس میں وزارت سمندر پار پاکستانیز نے بیرون ملک ملازمت کے لیے جانے والے پاکستانیوں کے اعداد و شمار پیش کیے ، جن میں بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کے 3 سالہ دور حکومت میں 11 لاکھ 39 ہزار سے زائد پاکستانی بیرون ملک نوکریوں کیلئے گئے۔

وزارت کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جواب سے معلوم ہوا کہ سب سے زیادہ 6 لاکھ 24 ہزار سے زائد پاکستانی ملازمت کیلئے سعودی عرب گئے ، اس دوران ملازمت کے لیے متحدہ عرب امارات جانے والے پاکستانیوں کی تعداد 2 لاکھ 92 ہزار سے زائد ہے ، اسی طرح عمان میں اس وقت 77 ہزار سے زائد پاکستانی موجود ہیں ، قطر میں 64 ہزار سے زائد پاکستانی نوکری کے لیے گئے۔

(جاری ہے)

وزارت سمندر پارپاکستانیز کے مطابق گزشتہ تین سال میں 19 ہزار سے زائد پاکستانی بحرین گئے ، اس عرصہ مین ملائشیا جانے والے پاکستانیوں کی تعداد 13 ہزار سے زائد ہے اس کے علاوہ 6 ہزار سے زائد شہری عراق چلے گئے، چین جانے والوں میں 2 ہزار سے زائد پاکستانی شامل ہیں ، 2 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے برطانیہ کا رخ کیا تو 1 ہزارسے زائد شہری نوکری کے لیے امریکہ روانہ ہوئے جب کہ ترکی میں 288 پاکستانیوں نے ملازمت اختیار کی ۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بیرون ملک پاکستانی ملک کا بیش قیمت اثاثہ ہیں ، ترسیلات زر کا ملکی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ہے ، اس لیے وطن کی تعمیر و ترقی میں حصہ ڈالنے والے اوورسیز پاکستانیوں کو مراعات دیں گے ، جس کے لیے شرح نمو ، زرمبادلہ و دیگر معاشی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے منصوبہ بندی کی جائے ، ترسیلات زرکے مختلف شعبوں میں مستقبل کے اہداف مرتب کرکے حکمت عملی تشکیل دی جائے۔

ریاض میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments