Hazrat Usman RATA

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ

آپ نے غذوہ بدر کے علاوہ تمام غذوات نبوی میں شرکت کی۔جنگ بدر کے موقہ پر آپ کی بیوی رقیہ رضی اللہ عنہا بسترمرگ پر تھیں۔اس لیے جنگ میں حصہ نہ لے سکے۔

Hazrat Usman RATA
تعارف:
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خاندان بنی امید سے تھے آغاز بعثت میں حضور ﷺ پر ایمان لے آئے تھے اور آنحضرت نے اپنی صاحبزادی رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح آپ سے کردیا تھا اہل مکہ کی اذیتوں سے تنگ آکر جشہ کو ہجرت کر گئے۔ مگر یہ افواہ سن کر کہ اہل قریش نے اسلام قبول کر لیا ہے واپس مکہ آگئے۔ بعد ازاں جب مدینہ جانے کی اجازت ملی تو وہاں ہجرت کر گئے۔

آپ نے غذوہ بدر کے علاوہ تمام غذوات نبوی میں شرکت کی۔جنگ بدر کے موقہ پر آپ کی بیوی رقیہ رضی اللہ عنہا بسترمرگ پر تھیں۔اس لیے جنگ میں حصہ نہ لے سکے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد حضور ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی دلجوئی کے لیے اپنی دوسری صاحبزادی اُم کلثوم کو آپ کے نکاح میں دے دیا۔

اسی سبب سے آپ کو ذوالنورین یعنی دونوروں والا کہا جاتا ہے۔


صلح حدیبیہ میں آپ کو اہل مکہ کے پاس سفیر بنا کر بھیجا گیا۔اس وقت یہ افواہ مشہور ہوگئی تھی۔کہ آپ شہید کرادیے گئے ہیں۔ اس پر حضور ﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے جان دینے کی بیعت لی۔جسے بیعت رضوان کہا جاتا ہے۔اسلام کی خاطر حضرت عثمان نے بے دریغ مال خرچ کیا۔اکثر غذوات کی تیاری میں دل کھول کر چندے دیے۔اور مدینہ کا مشہور ومعروف کنواں روسہ آپ ہی نے آٹھ ہزار دینارمیں خرید کر مسلمان کے لیے وقف کیا تھا۔
آنحضرتﷺ کے زمانہ میں آپ کاتب وحی رہے۔ عہد صدیقی اور عبد فاروقی میں متحمد خاص اور مشیر اعلیٰ تھے۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت:
حضرت عثمان رضی عنہ کی خلافت کے پہلے پانچ چھ سال نہایت امن وامان اور خوشحالی سے گزرے۔لیکن اس فارع البالی نے رشک وحسد اور بعض وعداوت جیسی لعنتوں کو بھی جنم دیا ۔ دشمنان اسلام کے لیے یہ نادر موقعہ تھا۔
چنانچہ انھوں نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر بغض ورقابت کے جذبات کو ہوا دی۔اور اسلامی یل جہتی کو پارہ پارہ کرنے کے لیے فتنہ وفساد کی ایک ایسی آگ بھڑکائی جو کسی کے روکے نہ رک سکی۔ملت اسلامیہ کی وحدت کو منتشر کرنے کے لیے ضروری تھا کہ اسلامی مرکزبت یعنی خلافت میں رخنہ اندازیاں کی جائیں ۔چنانچہ شر پسندوں نے ہر چہار جانب سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مخالفت میں تحریکیں شروع کر دیں۔

شہادت اور اس کے لتالج:
اس سال تو مفسدین اپنے اپنے وطن کو لوٹ گئے۔مگر آئندہ سال حج کے بہانے دوبارہ مدینہ کا رخ کیا اور مدینہ کے قریب پہنچ کر چند کوس کے فاصلے پر باہر ٹھہر گئے۔یہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل پر تو مستفق تھے۔مگر جانشین بنانے کے بارے میں رائیں مختلف تھیں۔ اکثریت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں تھی ۔
بعض حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو چاہتے تھے اور بعض حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو چاہتے تھے لیکن جب تینوں بزرگوں سے مل کر خلافت قپول کرنے کی درخواست کی تو ان سب نے صریح انکار کر دیا اور الٹا فسادیوں کو ڈانٹا۔
اس سے اگلے دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جمعہ کی نماز کے لیے مسجد میں تشریف لے گئے تو بلوائیوں نے ہلڑ مچادیا۔اور پتھر مار مار کر نمازیوں کو مسجد سے باہر دھکیل دیا۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اتنے پتھر برسائے گئے کہ وہ بیہوش ہو کر منبرسے گر پڑے۔حالات کی نزاکت کے پیش نظر آپ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر معزز صحابہ سے درخواست کی کہ وہ کسی طرح اس فتنے کا سد باب کریں۔ چنانچہ صحابہ نے سمجھا بجھا کر باغیوں کو واپس کیا۔
مگر تیسرے ہی دن وہ لوگ پھر پلٹ آئے اور صحابہ کے استفسار پر بتلایا کہ ہمیں راستے میں ایک سرکاری ہر کارہ مصر کی جانب جاتے ہوئے ملا۔
ہمیں شبہ ہوا تلاشی لینے پر اس کے پاس حاکم مصر کے نام حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا فرمان ملا۔جس میں ہم لوگوں کے قتل کرنے اور دوسری سخت قسم کی سزائیں دینے کا حکم تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو انہوں نے قسم کھا کر اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔۔مگر باغی کب ماننے والے تھے۔وہ تو انھیں قتل کر دینے کا تہیہ کیے بیٹھے تھے۔بڑھ کر خلیفہ کے مکان کا محاصرہ کرلیا۔
بعض جان نثار حفاظت کو پہنچ گئے مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سب کو باصرارواپس کردیا۔
آخر میں باغیوں نے پانی تک بند کر دیا ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنھم نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن الٹی ان کی بے عذتی کی گئی ۔یہ حالات دیکھ کر حضرت عبداللہ بن زبیر اور زید بن ثابت انصاری نے حاضر ہو کر اجازت چاہی کہ وہ اپنے ساتھیوں سمیت باغیوں کا مقابلہ کریں مگر آپ نے خونریزی کی اجازت نہ دی اور فرمایا کہ میرا سب بڑامدد گار وہ ہے جو اپنے ہاتھ اور اسلحہ کو روکے رکھے۔
اس کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے باغیوں کے سامنے بار بار اپنی صفائی پیش کی اور اسلامی خدمات یاد دلائیں مگر ان پر کچھ اثر نہ ہوا۔تنگ آکر فرمایا یاد رکھو بخدا اگر آج تم نے مجھے قتل کردیا تو پھر قیامت تک نہ ایک ساتھ نماز پڑھو گے نہ ایک ساتھ جہاد کرو گے۔
باغیوں کو یہ فکر تھی کہ اگر محاصرے کی خبر دور دراز تک پھیل گئی تو باہر سے فوجیں آجائیں گی ۔
اس لیے فیصلہ کرلیا کہ جلد ازجلد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہد کردیا جائے۔چنانچہ انھوں نے صدر دروازے کو آگ لگا دی اور اند داخل ہوگئے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس وقت تلاوت کررہے تھے۔ ایک شخص نے آگے بڑھ کر تلوار کاوار کیا آپ کی اہلیہ محترمہ حضرت نائلہ رضی اللہ عنہا بچاؤ کے لیے دوڑیں ان کی تین انگلیاں کٹ گئیں ۔ایک اور نے پیشانی مبارک پر لوہے کی لاٹھی ماری۔
خون کا فوارہ قرآن مجید کے اوراق پر جاری ہوگیا دو دن تک لاش مبارک بے گوروکفن پڑی رہی۔تیسرے دن چند آدمیوں نے ہمت کر کے خفیہ طور پر تجھیذوتکفین کی اور جنت البقیع میں دفن کر کے باغیوں کے خوف سے قبر کانشان بھی مٹا دیا۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت تاریخ اسلام کا ایک نہایت افسوس ناک باب ہے۔اس واقعہ نے وحدت ملی اور اسلامی شیرازہ بندی کو کچھ اس طرح سے برہم کیا کہ کسی سنبھالے تو سنبھلی۔
شہادت سے چند روز قبل آپ نے باغیوں کو انتباہ کیا تھا۔یادرکھو ،بخدا اگر آج تم نے مجھے قتل کردیا تو قیامت تک نہ ایک ساتھ نماز پڑھ سکو گے نہ ایک ساتھ جہاد کر سکو گے۔آپ کی یہ پیش گوئی حرف بحرف درست ثابت ہوئی۔کیونکہ اس کے بعد مسلمان کئی گروھوں اور فرقوں میں بٹ گئے۔اور مسلمانوں کی تلواریں اپنے ہی بھائیوں کے خلاف بے نیام ہونے لگیں ۔شیعہ ،سنی ،خارجی ،عثمانی وغیرہ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نظر آنے لگے اس تفریق کے باعث اسلامی فتوحات کی رفتار بہت مدہم پڑگئی۔
اور اندرونی جھگڑوں کا ایک ایسا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا جو آج تک متواتر چلا آتا ہے ۔ خانہ جنگی نے اسلامی قوتوں کو رفتہ رفتہ مضمحل کردیا ۔وہی قومیں جو کبھی ان کے نام سے کاتب اٹھتی تھیں اب مسلمانوں ک آنکھیں دکھانے لگیں ۔اور جب کبھی موقعہ ملا اپنی گزشتہ ناکامیوں کا دل کھول کر بدلہ لیا۔
سیرت اور عہد خلافت پر تبصرہ:
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنی حیا،دانائی خوش خلقی ،عبادت تقویٰ کرم اور تواضع میں مشہور تھے۔
عدل وانصاف میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پیرو تھے۔نظام حکومت عہد فاروق میں مکمل ہو چکا تھا۔ اس لیے اس میں کوئی خا ص ترمیم نہ کی البتہ بحری فوج کا قیام عمل میں آیا جس کے باعث اسلامی فتوحات کو بہت ہوئی اور رومی جو اپنی بحری قوت کے بل بوتے پر اکڑتے تھے آپ بالکل دب گئے اور مسلمانوں سے خوف زدہ رہنے لگے۔
مسجد نبوی کی تعمیر وتوسیع آپ کا روشن کارنامہ ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اسے وسیع کیا تھا۔
لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہا نے اور وسعت دی اور پتھر چونے سے اس کی تعمیر کی۔رسول اللہ ﷺ سے آپ کو انتہادرجے کی محبت اور عقیدت تھی یہی وجہ تھی کہ امیر معاویہ کے متواتر اصرار کے باوجود مدینہ چھوڑ کر شام جانا گوارا نہ کیا اور قرب رسول اللہ ﷺ کو کسی قیمت پر بھی نہ چھوڑا۔ یہاں تک کہ جان عزیز بھی قربان کردی۔

Your Thoughts and Comments