Hazrat Zainab RA Sher E RA Khuda Ki Sher Dil Beti

حضرت سیدہ زینب رضی اللہ عنہا شیر رضی اللہ عنہ خدا کی شیردل بیٹی

درباریزید میںآ پ کے خطاب نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یاددلادی

Hazrat Zainab RA Sher e RA Khuda Ki Sher Dil Beti

معرکہ حق وباطل کربلاکی اہمیت یہ ہے کہ اس واقعے میں بچوں وخواتین وبزرگوں حتیٰ کہ اس وقت تک زندہ رہنے والے بعض اصحاب رسول ﷺ بزرگ صحابی حضرت حبیب ابن مظاہررضی اللہ عنہ تک نے شرکت کرکے حق وحسینیت کیلئے قربانیاں دی۔

بی بی زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی نواسی اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی بہن جنہیں کربلا کے بعد یزیدی افواج نے دیگر خواتین وبچوں کے ہمراہ قیدکرکے شام وکوفہ کے زندانوں اور بازروں میں اسیرکیا لیکن بی بی زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے والد علی رضی اللہ عنہ اور نانامحمد ﷺ کی شجاعت اور دین کے دفاع کیلئے خطبے دیکریزید کوبے نقاب کردیا ۔

میدان کربلااور کربلا سے شام وکوفہ کے زندانوں تک لے جاتے ہوئے یزیدی فوج کے شیرخوارعلی اصغر سمیت شرکت الحسین رضی اللہ عنہ حضرت بی بی زینب رضی اللہ عنہا کے دو بیٹے عون ومحمد کے علاوہ حضرت جعفر رضی اللہ عنہ طیارکے نواسے اور سفیرحسین رضی اللہ عنہ حضرت مسلم بن عقیل کے دوکمسن فرزندان کے علاوہ نواسہ رسول ﷺ امام حسین زبن علی رضی اللہ عنہ کے تیرہ سالہ کمسن فرزند قاسم ابن حسن رضی اللہ عنہ کی لازوال قربانی شامل ہے۔

اسی طرح امام حسین رضی اللہ کی چار سالہ بیٹی بی بی سکینہ بنت حسین رضی اللہ عنہ کی یزیدی فوج کے مظالم برداشت کرتے ہوئے زندان شام ومشق میں شہادت بچوں کی قربانیوں کا درخشاں باب ہے۔
میدا ن کربلا میں بچوں کا ذکر کردار واضح ترکرنے کیلئے تیرہ سالہ کمسن فرزند قاسم ابن حسن رضی اللہ عنہ کا یہ واقعہ ہی کافی ہے کہ جب امام حسین رضی اللہ عنہ نے تیرہ سالہ کمسن فرزند قاسم ابن حسن رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ میرے بھتیجے ، کمسن فرزند، قاسم ابن حسن رضی اللہ عنہ تم حق کی راہ میں موت کو کیسے پاتے ہو؟ تیرہ سالہ کمسن قاسم ابن حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں موت کو شہد سے زیادہ شیریں پاتاہوں۔
اسی طرح امام حسین رضی اللہ عنہ کے اٹھارہ سالہ کڑیل جوان نے اسی طرح کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ جب ہم حق پر ہیں تو اس کی پرواہ نہیں کہ موت ہم پر پڑے یاہم موت پر۔ یہ رسول ﷺ کی تربیت ہی کا اثر تھااور امام حسین رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ میں ظالموں کے ساتھ رہنے اور ان کی بادشاہت یاڈکٹیٹر شپ ماننے کی بجائے شہادت کی موت کو ترجیح دیتا ہوں کیونکہ ذلت ہم اہلیت رضی اللہ عنہ سے دور ہے ۔

عزت کی موت بہتر ہے ذلت کی زندگی سے یہ سبق ہمیں ملا ہے حسین رضی اللہ عنہ ابن علی سے بچوں وجوانوں کی طرح کربلا میں خواتین کا کردار بھی نہایت اہمیت کاحامل رہا ہے کیونکہ حسین رضی اللہ عنہ واصحاب حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کے بعد یزید نے اتنا منفی پروپیگنڈہ کررکھا تھا کہ نعوذباللہ امام حسین رضی اللہ عنہ باغی تھے اور خلیفہ وقت کے خلاف بغاوت کی تھی۔
لیکن یہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی شیردل بہن سیدہ زینب رضی اللہ عنہا (جنہیں شریکتہ الحسین رضی اللہ عنہا بھی کہاجاتا ہے ) نے بحیثیت سالارقافلہ اسیران کربلا دیگر مخدارات عصمت وظہارت خواتین وبچوں سمیت کربلا سے کوفہ وشام کے بازاروں وزندانوں میں علی رضی اللہ عنہ کے لہجے میں خطبے سنا کراور بازاروں میں ظالموں کے خلاف احتجاج کی بنیاد ڈال کریزید کے منفی پروپیگنڈے کو خاک میں ملادیا۔
اس سلسلے میں دربارابن زیادہ یزیدد مشق میں شریکتہ الحسین رضی اللہ عنہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہ کے خطبوں نے یزیدیت کوتا قیامت رسواو بے نقاب کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ حکیم الامت علامہ اقبال جو بہترین کربلا شناس تھے تحریک کربلا کودو ابواب میں تقسیم کرکے یزیدیت کی نابودی اور حسینیت کی فتح امام حسین رضی اللہ عنہ وشریکتہ الحسین رضی اللہ عنہ سیدہ زینب سے منسوب کرکے فرماتے ہیں کہ حدیث شوق دوباب است کربلا ودمشق یک حسین رضی اللہ عنہ رقم کرد دیگر زینب رضی اللہ عنہا علامہ اقبال کے اس شعر کاترجمہ وتفسیر اگر کرنا چاہے تو معروف دانشورعلی شریعتی کی زبان میں اس طرح کی جاسکتا ہے کہ جوشہید ہوچکے انہوں نے حسینی کام انجام دیا جو زندہ ہیں انہیں زینبی کام انجام دینا چاہئے ، جو نہ حسینی کام انجام دے اور نہ ہی زینبی کام وہ یزیدی ہیں۔

یہاں شام وکوفہ کے بازاروں میں بی بی زینب رضی اللہ عنہا کے خطبات سے اقتباسات دیئے جارہے ہیں جن سے میدان کربلا میں خانوادہ رسول کی خواتین کاکردار واضح ترہوجائے گا۔
شریکتہ الحسین رضی اللہ عنہا سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے شام ودمشق کے یزیدی درباروں اوربازاروں میں یاگار خطبے دیے ۔ شام کے زندان کو اپنے مظلوم بھائی کے عزاخانے میں تبدیل کردیااور اس طرح ستم کاروں کے محل لرزے لگے۔

ابن زیاداس باطل میں تھا کہ ایک خاتون اس قدر مصائب اورنج وآلام دیکھ کرایک جابرستم گرکے سامنے جواب دینے کی سکت وجرات نہیں رکھتی ، کہنے لگا۔ اس خدا کاشکرگزارہوں جس نے آپ لوگوں کو رسوا کیا تمہارے مردوں کو مارڈالا اورتمہاری باتوں کو جھوٹا ثابت کیا۔ علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی نے کمال عظمت کے ساتھ اس سرکش طاغوت کی طرف حقارت بھری نظروں سے دیکھااور فرمایا ۔
تعریفیں اُس خدا کیلئے ہیں جس نے ہمیں اپنے پیغمبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ منسوب کرکے عزت بخشی آلودگی وناپاکی سے دور رکھا اور تجھ جیسے ویران اگر شخص کورسوا کردیا۔
حضرت زینب رضی اللہ اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا کی طرح ظالموں کے سامنے آواز بلند کرکے صدائے احتجاج بلند کرتی ہیں، بھرے دربار میں خدا کی حمدوستائش کرتی ہیں اور رسول ﷺ وآل رسول ﷺ پر درود بھیجتی ہیں اور قرآن حکیم کی تلاوت کے بعد اپنے خطبہ کا اس طرح آغاز کرتی ہیں ۔

یزیدتویہ سمجھتا تھا کہ تونے زمین وآسمان کو ہم پر تنگ کردیا ہے۔ تیرے گماشتوں نے ہمیں شہروں شہروں اسیری کی صورت میں پھرایاتیرے زخم میں ہم رسوااور توباعزت ہوگیا ہے ۔ تیرا خیال ہے کہ اس کام سے تیری قدر میں اضافہ ہوگیا ہے اس لئے ان باتوں پر تکبرکررہا ہے۔ جب تواپنی توانائی وطاقت (فوج) کو تیار دیکھتا ہے اور اپنی بادشاہت کے امور کو منظم دیکھتا ہے توخوشی کے مارے آپے سے باہر ہوجاتاہے۔

تو نہیں جانتا کہ یہ مہلت جو تجھے دی گئی ہے کہ اس میں تواپنی فطرت کو آشکار کرسکے۔ کیاتو نے قول خدا کو فراموش کردیا ہے۔ کافر یہ خیال نہ کریں کہ یہ مہلت جوانھیں دی گئی ہے یہ ان کیلئے بہترین موقع ہے ، ہم نے ان کو اس لئے مہلت دی ہے تاکہ وہ اپنے گناہوں میں اضافہ کرلیں، پھر ان پررسوا کرنے والا عذاب نازل ہوگا۔
کیا یہ عدل ہے تیر ی بیٹیاں اور کنیزیں باعزت پردہ میں بیٹھیں اور رسول ﷺ کی بیٹیوں کو تو اسیرکرکے سربرہنہ کرے، انہیں سانس تک نہ لیں دیاجائے ، تیری فوج انھیں اونٹوں پر سوار کرکے شہر بہ شہر پھرائے نہ انہیں کوئی پناہ دیتا ہے، نہ کسی کو ان کی حالت کاخیال ہے، نہ کوئی ادھر سے انہیں دیکھنے کیلئے جمع ہوتے ہیں ۔
لیکن جس کے دل میں ہمارے طرف سے کینہ بھرا ہوا ہے اس سے اس کے علاوہ کیا توقع کی جاسکتی ہے۔
توکہتا ہے کہ کاش جنگ بدر میں قتل ہونے والے میرے بزرگ موجودہوتے اور یہ کہہ تو فرزند رسول ﷺ سیدہ الشہد امام حسین رضی اللہ عنہ کے دندان مبارک پر چھڑی لگاکربے حرمتی کرتا ہے؟ کبھی تیرے دل میں یہ خیال نہیں آتا ہے کہ تو ایک گناہ اوربرے کام کامرتکب ہوا ہے ؟
خوش نہ ہو کہ تو بہت جلد خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوگا، اس وقت یہ تمنا کرے گا کہ کاش تواندھا ہوتا اور یہ دن نہ دیکھتا ۔
تویہ کہتا ہے کہ اگر میرے بزرگ اس مجلس میں ہوتے تو خوشی سے اچھل پڑتے۔ اے اللہ تو ہی ہمارا انتقام لے اورجن لوگوں نے ہم پر ستم کیا ہے ان کے دلوں کو ہمارے کینہ سے خالی کردے خدا کی قسم تو اپنے سے باہر آگیا ہے او راپنے گوشت کو بڑھا لیا ہے ۔
جس روز رسول ﷺ خدا ان کے اہل بیت اور ان کے فرزند رحمت خدا کے سایہ میں آرام کرتے ہوں گے تو ذلت ورسوائی کے ساتھ ان کے سامنے کھڑا ہوگا۔
یہ دن وہ روز ہے جس میں خدا اپنا وعدہ پورا کرے گا وہ مظلوم وستم دیدہ لوگ جو کہ اپنے خون کی چادراوڑھے ایک گوشے میں محوخواب ہیں، انہیں جمع کرے گا۔
خدا خود فرماتا ہے ، راہ خدا میں مرجانے والوں کو مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کی نعمتوں سے بہرہ مند ہیں۔ جس روز محمدﷺ دادخواہ ہوں گے اور فیصلہ کرنے والا خدا ہوگا، اور عدالت الٰہی میں تیرے ہاتھ پاؤں گواہ ہوں گے اس روز معلوم ہوگا کہ تم میں سے کون زیادہ نیک بخت ہے ۔

اگر تو یہ سمجھتا ہے کہ تونے ہمارے مردوں کو شہید اور ہمیں اسیر کرکے فائدہ حاصل کرلیا تو عنقریب تھے معلوم ہوجائے گا کہ جسے توفائدہ سمجھتا ہے وہ نقصان کے سوا کچھ نہیں ہے، اس روز تمہارے کئے کے علاوہ تمہارے پاس کچھ نہ ہوگا اور تیرے پیروکار خدا کی میزان عدل کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔
تجھے اس روز معلوم ہوگا کہ بہترین توشہ جو تمہارے اجدانے تیرے لئے جمع کیا ہے وہ یہ ہے کہ تونے رسول ﷺ خدا کے بیٹوں کو شہید کردیا ۔

قسم خدا کی میں خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتی اور اس کے علاوہ کسی سے شکایت نہیں کرتی جو چاہوتم کرو، جس نیرنگی سے کام لینا چاہولو، اپنی ہر دشمنی کااظہار کرکے دیکھ لوقسم خدا کی جوننگ کادھبہ تیرے دامن پرلگ گیا ہے وہ ہر گزنہ چھوٹے گا، ہر تعریف خدا کیلئے ہے جس نے جوانان بہشت کے سرداروں حسن وحسین رضی اللہ عنہ کوکامیابی عطاکی جنت کو ان کیلئے وجب قرار دیا۔
میدان کربلا میں بچوں بزرگوں اور خواتین کا نمایاں کردار ہمیں آج کی کربلا یادورحاضر میں اپنا کردار اداکرنے کا سبق دیتا ہے ۔

Your Thoughts and Comments