Paikar Sharm O Haya Hazrat Usman Zulnurain Ra

پیکر شرم وحیا حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی والدہ ارویٰ تھیں اور نانی ام حکیم البیضاء بنت عبدالمطلب تھیں جو کہ نبی کریمﷺ کی پھوپھی تھیں۔ ام حکیم اور عبداللہ بن عبدالمطلب جڑواں پید اہوئے تھے۔

Paikar Sharm o Haya Hazrat Usman Zulnurain ra
حافظ زاہد عارف:
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی والدہ ارویٰ تھیں اور نانی ام حکیم البیضاء بنت عبدالمطلب تھیں جو کہ نبی کریمﷺ کی پھوپھی تھیں۔ ام حکیم اور عبداللہ بن عبدالمطلب جڑواں پید اہوئے تھے۔ یوں رسول کریمﷺ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ کے ماموں زاد بھائی تھے۔ حضرت عثمان سابقون الاولون میں سے تھے اور نبی کریمﷺ کی دو صاحبزادیاں حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا یکے بعد دیگرے ان کے نکاح میں آئیں اسی لئے آپ کو ذوالنورین کہا جاتا ہے۔
حضرت رقیہ سے حضرت عثمان کا ایک بیٹا عبداللہ نامی پیدا ہوا جو تقریبأٴ چھ سال کی عمر میں وفات پاگیا۔ جنگ بدر کے موقع پر حضرت رقیہ کی بیماری کے باعث نبی کریمﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کے پاس رہنے کی ہدایت فرمائی تاہم آپﷺ نے حضرت عثمان کو بدر کے غنائم سے دیگر مجاہدین کے برابر حصہ بہرہ وہ فرمایا۔

اس کے بعد آپﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کردیا اور ان کامہر بھی وہی تھا جو حضرت رقیہ کیلئے مورر ہوا تھا۔

حضرت ام کلثوم کا انتقال 9ھ میں ہوا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی شہادت سے پہلے چھ کبار صحابہ کی ایک کمیٹی بنادی تھی جس میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ان میں سے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حق میں دے دی اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنا اختیار حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دے دیا۔
حضرت ععد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنا حق اختیار حضرت عبدا لرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا، پھر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی خلافت سے دستبر دار ہوگئے اور نامزدگی کا معاملہ انہیں تفقیض ہوا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے گفت وشنید کے بعد انہوں نے مسجد نبوی میں سب کے سامنے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر ان کی بیعت کرلی، پھر ان کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ اور تمام حاضرین نے بیعت کر لی۔

حضرت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں معاملات کے فیصلے اور اجزاء احکام کی ضرورت پیش آتی تو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی خدمات حاصل کی جاتیں۔ امیر المومنین نے حد جاری کرنے اور قبیح جرائم پر سزا دینے کے فرائض کئی بار حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سپرد فرمائے۔ طرابلس لیبیا کی فتح کے لئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جو لشکر بھیجا اس میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے۔ 35ھ میں محاصرہٴ عثمانی کے دوران آپ ﷺ تلاوت قرآن فرما رہے تھے کہ باغیوں نے عقب سے دیوار پھاند کر حضرت عثمان کو شہید کر دیا (رضی اللہ عنہم ورضوعنہ)۔

Your Thoughts and Comments