Umar Ibn Alkhattab

عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ (644ء586ء)

عمر رضی اللہ عنہ(حضرت محمد ﷺ اور ان کے نئے مذہب کا درشت ترین دشمن تھا۔تب وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوا اور اس کا مضبوط ترین حامی بن گیا۔سینٹ پال کا عیسائیت کو اختیار کرلینے کا واقعہ بھی اسی نوع کا ہے

Umar Ibn Alkhattab
محمد عاصم بٹ:
عمر ابن الخطاب دوسرا اور غالبا عظیم ترین مسلم خلیفہ تھا۔وہ حضرت محمد ﷺ کا نوجوان ہم عصر تھا اور پیغمبرہی کے شہر مکہ میں پیدا ہوا۔ اس کا صیحح ترین سال پیدائش غیر معلوم ہے۔ قیاس ہے کہ 586ء میں وہ پیدا ہوا۔
عمر رضی اللہ عنہ(حضرت محمد ﷺ اور ان کے نئے مذہب کا درشت ترین دشمن تھا۔تب وہ دائرہ اسلام میں داخل ہوا اور اس کا مضبوط ترین حامی بن گیا۔
سینٹ پال کا عیسائیت کو اختیار کرلینے کا واقعہ بھی اسی نوع کا ہے۔ وہ حضرت محمدﷺ کا قریبی مشیربن گیا اور ان کی حیات میں وہ اسی اعزاز کے ساتھ رہا۔
632ء میں پیغمبر کا وصال ہوا انہوں نے اپنا جانشین مقرر نہیں کیا تھا عمر رضی اللہ عنہ نے فورأٴ ہی نبیﷺ کے قریبی رفیق اور خسرابوبکررضی اللہ عنہ کے حق جانشینی پر صا دکیا۔

اس سے اقتدار کے لیے سرد جنگ کا امکان ختم ہوگیا اور عمومی طور پر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مسلمانوں کا اولین خلیفہ نبیﷺ کا جانشین تسلیم کر لیا گیا۔

ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک کامیاب خلیفہ تھا لیکن وہ دوسال بعد ہی فوت ہوگیا۔ اس نے عمرابن الخطاب کا نام اپنی جانشینی کے لیے منتخب کر دیا تھا جو نبیﷺ کا خسر بھی تھا ۔ اس طور ایک بار پھر اقتدار کے لیے تنازعہ کا امکان مسترد ہوگیا ۔634ء میں عمررضی اللہ رعنہ خلیفہ بنا۔یہ حکومت 644ء تک قائم رہی۔ تب ایک ایرانی غلام نے مدینہ میں اسے شہید کردیا۔
اپنے بستر مرگ پر اس نے چھ افراد کی ایک مجلس بنانے کی تجویز دی جو اس کے جانشین کا فیصلہ کرے گی۔ یوں ایک بار پھرا قتدار کے حصول کے لیے مسلح چپقلش کا خاتمہ کردیا گیا۔ مجلس نے عثمان رضی اللہ عنہ کانام بطور خلیفہ سوم منتخب کیا جو644ء سے 665ء تک برسر اقتدار رہا۔
عمررضی اللہ عنہ کی دس سالہ خلافت کے دوران عربوں نے انتہائی اہم فتوحات حاصل کیں۔
عرب فوجیں شام اور فلسطین پر حملہ آور ہوئیں جو تب بازنطنی سلطنت کا ایک حصہ تھے۔636ء میں جنگ یرموک میں عربوں نے بازنطمنی فوجوں کو شکست فاش دی۔ اسی بر دمشق فتح ہوا دوسال بعد یرو شلم بھی عرب قلمر ومیں شامل ہوگیا۔ 644ء تک عربوں نے تمام فلسطین اور شام کو اپنا مطیع بنا لیا تھا اور ترکی کی طرف پیش قدمی کررہے تھے۔ 639ء میں عرب فوجوں نے مصر کو فتح کیا جوبازنطمنی سلطنت کا ایک اہم حصہ تھا۔
تین برسوں کے اندر عربوں نے مصر کی فتح کو مکمل کیا۔
عراق پر جوتب ایرانیوں کی ساسانی سلطنت کا ایک جزوتھا عربوں کے حملوں کا آغاز عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت سے پہلے ہوچکا تھا۔637ء میں عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں عربوں کو سب سے اہم فتح جنگ قدسیہ میں حاصل ہوئی۔ 641ء تک تمام عراق عرب قلمرو کا حصہ بن چکا تھا۔ یہی نہیں عربوں نے ایران پر یورش کی اور آخری ساسانی شہنشاہ کہ فوجوں کو فیصلہ کن مات دی۔
644ء میں عمر رضی اللہ عنہ کی وفات تک مغربی ایران کا بیشتر حصہ عرب فتح کر چکے تھے۔ تاہم عمر رضی اللہ عنہ کی وفات نے عرب فوجوں کی فتوحات کی رفتار پر کوئی اثرنہ ڈالا۔ مشرق میں انموں نے تھوڑے ہی عرصہ میں ایران کی فتح مکمل کی۔ جبکہ مغرب میں وہ شمالی افریقہ تک آگے بڑھے۔
جس قدر عمر رضی اللہ عنہ کی فتوحات اہم ہیں اسی قدر ان کی برقراری بھی۔
ایران کی آبادی کا بیشتر حصہ اگرچہ دائرہ اسلام میں داخل ہوا لیکن علی الا کر اس نے عرب غلامی سے آزادی حاصل کی۔ تاہم شام عراق اور مصر ایسا نہیں کرسکے۔ وہ یکسر عرب تہذیب میں ڈھل گئے اور ہنوزیہی صورت حال قائم ہے۔
بلاشبہ عمر رضی اللہ عنہ کو اس عظیم سلطنت کا انتظام سنبھالنے کے لیے جو اس کی فوجوں نے فتح کی تھی خاص حکمت عملیاں وضع کرنا پڑی تھیں۔
اس نے فیصلہ کیا کہ ان مفتو حہ علاقوں میں عرب خاص عسکری رعایات کے ساتھ رہیں ہیں اور یہ کہ ان کا قیام مقامی لوگوں سے علیحدہ فوجی شہروں میں ہوگا۔ جبکہ مفتوحہ لوگ مسلمانوں کو جو بیشتر عرب ہی تھے جزیہ ادا کریں گے اور انہیں پر امن حالات میں رہنے دیا جائے گا۔ خاص طور پر انہیں قطعأٴ جبرا مسلمان کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔ ان اقدامات سے یہ امر مترشح ہے کہ عرب فتوحات مقدس جنگ کی بجائے ایک قومیت پر ستانہ جذبے کے تحت لڑی گئی جنگوں کا نتیجہ تھیں ۔
ہر چند کہ اس سارے عمل میں مذہبی عنصر کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
عمر رضی اللہ عنہ کامیابیاں موثر ثابت ہوئیں۔ حضرت محمدﷺ کے بعد فروغ اسلام میں عمر رضی اللہ عنہ کا نا نہایت اہم ہے۔ ان سریع الرفتار فتوحار کے بغیر شاید آج اسلام کا پھیلاؤ اس قدر ممکن نہ ہوتا۔ مزید آں اس کے دور میں مفتوح ہونے والے علاقوں میں سے بیشتر عرب تمدن ہی کا حصہ بن گئے۔
طاہر ہت کہ ان تمام کامیابیاں کا اصل محرک تو حضرت محمد ﷺ ہی تھے۔ لیکن اس عمر کے حصے سے صرف نظر کرنا بھی ایک بڑی غلطی ہوگی۔ اس کی فتوحات حضرت محمدﷺ کی تحریک ہی کا نتیجہ نہیں تھیں۔ اس سے بلاشبہ کچھ پھیلاؤ عمل میں آتا لیکن ایسی عظیم وسعت عمر کی شاندار قیادت کے بغیر ممکن نہیں تھی۔
اس امر میں کچھ لوگوں کو ضرور تعجب ہوگا کہ مغرب میں عمرابن الخطاب کی شخصیت اس طور معروف نہیں ہے۔ تاہم یہاں اس فہرست میں اسے چارلی ممگنی اور جولیس سیزر جیسی مشہور شخصیات سے بلند درجہ تفویض کیا گیاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تمام فتوحات جو عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں واقع ہوئیں اپنے حجم اور پائیداری میں ان فتوحات کی نسبت کہیں اہم تھیں جو سیزریا چارلی ممگنی کی زیر قیادت ہوئیں ۔

Your Thoughts and Comments