Hajj Ke Panch Din

حج کے پانچ دن، تیسرا دن

حج کے پانچ دن، تیسرا دن ۔۔۔۔۔۔10 /ذی الحجہ توپ کی آواز کے بعد فجر کی نماز پڑھیں اس سے پہلے جائز نہیں پھرمشعرالحرام میں یعنی خاص پہاڑی پر اور یہ نہ ہو سکے تو

hajj ke panch din

توپ کی آواز کے بعد فجر کی نماز پڑھیں اس سے پہلے جائز نہیں پھرمشعرالحرام میں یعنی خاص پہاڑی پر اور یہ نہ ہو سکے تو اس کے دامن میں اور یہ بھی نہ ہو سکے تو وادی محسر کہ جہاں اصحاب فیل پر عذاب نازل ہوا تھا اس کے علا وہ جہاں جگہ ملے وقوف کریں لینی ٹھہر کر لبیک، دعا اور درود شریف پڑھنے میں لگے رہیں۔
منیٰ کی طرف واپسی: جب سورج نکلنے میں دو رکعت پڑھنے کا وقت باقی رہ جائے تو منیٰ کی طرف روانہ ہو جائیں اگر سورج نکلنے کے بعد روانہ ہوں تو برا ہے مگر دم واجب نہیں۔

جب منیٰ دکھائی دے تو وہی دعا پڑھیں جو مکہ شریف سے آتے ہوئے منی دیکھ کر پڑھی تھی یعنی
اللھم ھذہ منی فامنن علی بمامننت بہ علی اولیائک
منی پہنچ کر پہلے کنکری مارناہے کنکری مارنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہے۔

حدیث شریف میں ہے کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام مناسک حج ادا کرنے کے لئے آئے تو جمرئہ کبری کے پاس شیطان سامنے آیا آپ نے اسے سات کنکری ماری یہاں تک کہ زمین میں دھنس گیا پھر جمرئہ وسطی کے پاس سامنے آیا پھر آپ نے اسے سات کنکری ماری یہاں تک کہ زمین میں دھنس گیا اور پھر تیسرے جمرہ کے پاس آیا تو اسے سات کنکری ماری یہاں تک کہ زمین میں جنسی گیا۔

( ابن خزیمہ وحاکم)
ان تینوں جگہوں پر کھمبے بنا دیئے گئے ہیں اور آج کل ان کے اوپرپل کی طرح بہت وسیع چھت بن گئی ہے جس سے اوپر نیچے دونوں جگہ سے کنکری مارنے میں بڑی سہولت ہوگئی ہے۔ مکہ شریف کی طرف سے آتے ہوئے جو پہلے پڑ تا ہے وہ جمرئہ کبری ہے جس کو آج کل عام طور پر بڑا شیطان کہا جاتا ہے پھر جو بیچ میں ہے وہ جمرئہ وسطی اور جو مسجد خیف کی طرف ہے وہ جمرئہ او لی ہے۔

کنکری مارنے کا وقت: 10ذی الحجہ کوصرف بڑے شیطان کو کنکری مارنی ہے چھوٹے اور بیچ کے شیطانوں کوکنکری نہیں مارتی ہے اس کا وقت دسویں کی صبح سے گیارہویں کی صبح صادق تک ہے لیکن سورج نکلنے کے بعد سے زوال تک کنکری مارنا سنت ہے۔ زوال کے بعد سے ، سورج ڈوبنے تک مارنا جائز ہے اور سورج ڈوبنے کے بعد سے صبح صادق تک مکروہ ہے لیکن کمزور اور بیمارلوگ ، عورتیں ہوں یا مرد اگر دن میں کنکری نہ مارسکیں تو رات میں ماریں اگر بھیڑ یا تھکا وٹ وغیرہ کی وجہ سے کسی تندرست مرد یا عورت کی طرف سے کوئی وکیل یا قائم مقام بن کر کنکری مارے تو اس کی طرف سے ادا نہ ہوگی اور ایسا کرنے سے کفارہ کی قربانی لازم آئے گی۔
ہاں اگر اتنا بیمار ہو کہ جمرہ تک سواری پر بھی نہ جا سکتا ہو وہ دوسرے کو کنکری مارنے کا وکیل بنائے تو اس صورت میں کفارہ لازم نہیں آئے گا۔
انتباہ: جولوگ رات میں کنکری ماریں گے ان کی طرف سے دوسرے دن قربانی ہوگی پھرحجامت کے بعد ان کا احرام کھلے گا تو اگر قارن با متمتع نے کنکری مارنے سے پہلے قربانی کی تو دم لازم ہوگا یعنی قربانی کا کفارہ وینا پڑے گا اور اگر کنکری مارنے سے پہلے قربانی کی اورحجا مت بھی بنوائی تو دو دم لازم ہوگا ایک قربانی کے سبب اور ایک حجامت کے سبب۔

کنکری مارنے کا طریقہ: کنکری مارنے کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ جمرہ سے تقریبا پانچ ہاتھ کے فاصلہ پراس طرح کھڑے ہوں کہ کعبہ شریف بائیں ہاتھ کی طرف ہو اورمنیٰ دہنی طرف اور منہ جمرہ کی طرف۔ ایک کنکری انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے پکڑیں اور خوب اچھی طرح ہاتھ اٹھا کہ بغل کی رنگت ظاہر ہو یہ دعا پڑھ کر ماریں
ترجمہ: اللہ کے نام سے۔ اللہ بہت بڑا ہے۔
شیطان کو ذلیل کرنے کے لئے اور اللہ کی رضا کے لئے۔ اے اللہ! اس کو حج مبرور کر۔ سعی مشکورکر اور گناہ بخش دے۔
اس طرح سات کنکری ایک ایک کر کے مار ہیں۔ ساتوں کو ایک ساتھ ہرگز نہ مار یں اورکنکر یاں جمرہ تک پہنچیں تو بہتر ہے ورنہ تین ہاتھ کی دوری پرگر یں جو کنکری اس سے زیادہ دور کرے گی اس کی گنتی نہ ہوگی۔ اگر بھیڑ کی وجہ سے اوپر کے بتائے ہوئے مستحب طریقہ پر کنکری نہ مارسکیں تو جس طرح بھی کھڑے ہو کر آسانی سے مارکیں ماریں اور پہلی کنکری سے لبیک بند کر دیں۔
پھر جب سات پوری ہو جائیں تو وہاں ٹھہریں ذکر و دعا کرتے ہوئے فور اََپلٹ آئیں۔ (انور البشارة ، بہارشریت)
قربانی اور حجامت: یہاں بقرعید کی نماز نہیں پڑھی جائے گی کنکری مارنے سے فارغ ہوکر حج کے شکرانہ کی قربانی کی جائے گی۔ یہ قربانی ہر قارن اومتمتع مرد و عورت پر واجب ہے اگر چہ غریب ہوں اور مفرد کے لئے مستحب ہے یعنی اگر کرے تو بہت زیادہ ثواب ہے اور نہ کرے تو کوئی گرفت نہیں اگر غنی ہو۔
چھوٹے بڑے جانور کی عمر واعضاء میں وہی شرطیں ہیں جو بقر عید کی قربانی میں ہیں۔ اورحج کی قربانی میں بھی اونٹ اور گائے میں سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں۔ قارن اورمتمتع اگرمحتاج محض ہوں یعنی ان کے پاس اتنا نقد نہیں کہ وہ جانور خرید سکیں اور نہ ایسا سامان ہے کہ اسے بیچ کر لاسکیں تو ان پر قربانی کے بدلے دس روزے واجب ہوں گے تین توحج کے مہینوں میں یعنی یکم شوال سے نومیں ذی الحجہ تک حج کا احرام باندھنے کے بعد جب چاہیں رکھیں اور بہتر یہ ہے کہ 7/8 /9 /ذی الحجہ کورکھیں اور باقی سات روزے تیر ہو میں ذی الحجہ کے بعد جب چاہیں رکھیں اور بہتر یہ ہے کہ گھر پہنچ کر رکھیں۔
(بہارشریعت)
قارن یامتمتع اگر مقیم کے حکم میں ہے اور صاحب نصاب ہے تو اس پر دو قربانی واجب ہے ایک حج کے شکرانہ کی اور دوسری بقرعید کی۔ اور صاحب نصاب مفرداگرمقیم کے حکم میں ہے تو اس پر بھی بقر عید کی ایک قربانی واجب ہے لیکن یہ لوگ اگر بقرعید کی قربانی کا انتظام اپنے وطن میں کریں تو حرج نہیں مگر حج کے شکرانہ کی قربانی اور کفارہ کی قر بانی صرف منیٰ اور پورے حدود حرم میں ہوسکتی ہے اس کے با ہر وطن وغیرہ میں نہیں ہوسکتی۔

قربانی کے بعد قبلہ رخ بیٹھ کر حجامت بنوائیں سرمنڈائیں یا بال کروائیں۔ اور عورتوں کو پورے سر کے بال انگلی کے پور کی مقدار برابر کترنا مستحب ہے۔ (درمختار ) اور چوتھائی سر کا بال انگلی کے پور کی مقدار برابر برابر کرنا واجب ہے۔ (ردالمحتار) مگر کسی نامحرم کے ہاتھ سے ہرگز نہ کتروائیں کہ حرام ہے اور جس کے سر پر بال نہ ہوں وہ استرہ پھر وائے۔
اور سرمنڈانے یا بال کتروانے سے پہلے ناخن نہ تر اشیں اور نہ خط بنائیں کہ دم لازم آئے گا یعنی قربانی کا کفارہ دینا پڑے گا۔ اور حجامت بنواتے وقت یہ دعا پڑھتے ر ہیں:
ترجمہ :قارن اورمتمتع پر قربانی کے بعد حجامت ہے یعنی اگر قربانی سے پہلے حجامت بنوائے گا تو دم لازم آئے گا۔ مرد لوگ اگر بال کتروائیں تو سر میں جتنے بال ہیں ان میں سے چوتھائی کا انگلی کے پور کی مقدار برابر برابر کتر وانا واجب ہے۔
اگر چوتھائی سے کم کترا وایا تو دم لازم ہو گا۔ اور کتروانے کی صورت میں ایک پور سے زیا دہ کتر وائیں اس لئے کہ بال چھوٹے بڑے ہوتے ہیں ممکن
ہے چوتھائی بالوں میں سے سب ایک پورنہ ترشیں اور سر منڈانے یا بال کتروانے کا وقت ایام نحر ہے یعنی اگر بارہویں ذی الحجہ تک حجا مت نہ بنوائی تو قربانی کا کفارہ لازم آئے گا۔ (بہار شریعت)
حجامت کے بعد احرام کی ساری پابندیاں ختم ہو گئیں۔
اب نہا دھو کر سلے ہوئے کپڑے پہن سکتے ہیں لیکن طواف زیارت جوحج کا فرض ہے اس کے پہلے بیوی سے محبت کرتا، اسے شہوت کے ساتھ چھونا یا بوسہ لینا حلال نہیں ہوا۔ (درمختار، ردالفقار)
طواف زیارت: قربانی اورحجامت سے فارغ ہونے کے بعد افضل یہ ہے کہ آج ہی دسویں ذی الحجہ کو مکہ شریف پہنچ کر طواف زیارت کر یں اور رات گزارنے کے لئے منیٰ واپس آ جائیں۔
قارن ومفردطواف قدوم میں اورمتمتع احرام حج کے بعد کسی نفل طواف میں اگر طواف زیارت کی سعی کر چکے ہوں تو اس طواف کے بعد سعی نہ کریں۔ اور اگر پہلے سعی نہ کی ہو اور احرام کی چادر یں بدن پر ہوں تو اضطباع ورمل کے ساتھ طواف کے بعد سعی کریں اور اگر احرام کی چادریں بدن پر نہ ہوں تو صرف سعی کریں اسی صورت میں طواف کے اندر رمل و اضطباع نہیں اور سر منڈانے یا کتروانے کے بعد طواف زیارت کی سعی کی ہو تو پھر دوبارہ حجامت کی ضرورت نہیں۔
اگر دسویں کو طواف زیارت کا موقع مل سکے تو بارہویں کی مغرب سے پہلے تک کر سکتے ہیں لیکن دسویں کو نہ کر سکنے کی صورت میں گیارہویں کو یہ طواف کر لینا بہتر ہے بعض لوگ نا تجربہ کاری کی بناء پر آنے جانے کی پریشانی سے بچنے کے لئے بارہویں کی شام کو اس طواف کا پروگرام بناتے ہیں لیکن جب بارہویں کو زوال کے بعدکنکری مار کر موٹر وں پر چلتے ہیں تو بے انتہا ہجوم کے سبب مغرب سے پہلے نہیں پہنچ پاتے اس طرح ان پر دم لازم آجاتا ہے اور گنہگار بھی ہوتے ہیں۔
ہاں اگر زوال کے بعد فوراََ کنکری مار کر پیدل چل پڑیں تو مغرب سے پہلے طواف زیارت کر سکتے ہیں لیکن اس صورت میں بھی اچانک بیماری وغیرہ کے سبب وقت پر نہ پہنچنے کا اندیشہ ہے اس لئے مناسب یہی ہے کہ دسویں یا گیارہویں کو طواف زیارت سے فارغ ہو جائیں اور دسویں کو جا ئیں یا گیارہویں کو بہر صورت واپس آ کر رات منی ہی میں گزار یں۔ طواف زیارت کے بعد بیوی حلال ہوگئی اور حج پورا ہو گیا کہ اس کا دوسرا فرض یہ طواف تھا۔
عورتوں کے لئے بھی یہ طواف زیارت فرض ہے لیکن حیض یا نفاس کی وجہ سے اگر بارہویں تک نہ کر سکیں تو ان پر کوئی دم یا کفارہ لازم نہیں آئے گا۔ وہ جب بھی پاک ہوں طواف زیارت کر لیں ہاں اگر حیض و نفاس کے علا وہ کسی دوسرے عذر بیماری وغیرہ کی وجہ سے بارہویں کے غروب آفتاب کے بعد طواف زیارت کریں گی تو مردوں کی طرح ان پر بھی دم لازم آئے گا۔

Your Thoughts and Comments