سینٹ کا انتخاب ایک گھناء ونا کاروبار بن گیا ہے، ووٹ خریدنے کے لئے بازار لگا ہوا ہے جو ہم سب کے لئے باعث شرم ہے،اسدعمر

ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کو پہلے سے زیادہ پزیرائی ملی ہے، کے پی کے میں صوبائی اسمبلی کی ایک نشست تھی جو پی ٹی آئی کو ملی،وفاقی وزیر

ہفتہ فروری 22:06

سینٹ کا انتخاب ایک گھناء ونا کاروبار بن گیا ہے، ووٹ خریدنے کے لئے بازار ..
حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 فروری2021ء) وفاقی وزیر ترقیات ومنصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ سینٹ کا انتخاب ایک گھناء ونا کاروبار بن گیا ہے، ووٹ خریدنے کے لئے بازار لگا ہوا ہے جو ہم سب کے لئے باعث شرم ہے، ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کو پہلے سے زیادہ پزیرائی ملی ہے، کے پی کے میں صوبائی اسمبلی کی ایک نشست تھی جو پی ٹی آئی کو ملی، پنجاب میں دونوں (ن) لیگ کی تھیں وہ انہیں ہی ملیں جبکہ وزیر آباد میں پی ٹی آئی کے ووٹرز میں اضاف ہوا ہے، سندھ میں دونوں نشستیں پی پی کی تھیں جو اسے ملی ہیں، پی ٹی آئی کی کارکردگی کی خراب ہونے کا الزام غلط ہے، حیدرآباد سمیت سندھ کے دیگر شہروں کے لئے ترقیاتی پیکجز کا بھی وزیر اعظم اعلان کریں گے۔

اسد عمر کا یہ دورہ بنیادی طور پر سینٹ کے اتحادی ووٹوں کو یقینی بنانے کے لئے تھا ،اس موقع پر اسد عمر نے حیسکو ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا جس میں پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی وفاقی حکومت کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی صلاح الدین شیخ، صابر حسین قائم خانی، انجینئر راشد خلجی، ناصر قریشی اور ندیم صدیقی بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر اسد عمر نے کہاکہ جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے یہی سن رہا ہوں کہ حکومت کے لئے حالات ساز گار نہیں، دسمبر 2019ء پھر مارچ 2020ء پھر دسمبر2020ء کا وقت دیا گیا جبکہ حکومت اپنی جگہ موجود ہے اور عوام کی خدمت کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارا اپنے تمام اتحادیوں سے رابطہ ہے سینٹ کے انتخاب میں اپنے حصے کی تمام نشستیں جیتیں گے تمام اتحادی ہمارے ساتھ ہیں، انہوں نے کہا کہ حلیم عادل شیخ کو سندھ حکومت انتقامی کاروائی کا نشانہ بنارہی ہے کیونکہ وہ مراد علی شاہ اور سندھ حکومت کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں بلکہ سندھ میں جو بھی آواز اٹھاتا ہے حکومت اس کو انتقام کا نشانہ بناتی ہے، انہوں نے کہاکہ پی پی کا ووٹ بینک ذوالفقار علی بھٹو کی محبت کا نتیجہ تھا وہ اب ختم ہوچکا، ایک سوال پر اسد عمر نے کہا کہ k4 منصوبے پر سندھ حکومت کو کوئی اعتراض نہیں پہلے اخراجات کا نصف سندھ حکومت کو دینا تھا اب پورا منصوبہ وفاق کی ذمہ داری ہوگی، انہوں نے کہا کہ سی سی آئی کا اجلاس سینٹ کے انتخابات کی مصروفیات کی وجہ سے ملتوی ہوا ہے جو الیکشن کے بعد ہوگا، وزیر اعلیٰ سندھ کو سب سے زیادہ وقت سی سی آئی میٹنگ میں دیاجاتا ہے، ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ اس سال کے ترقیاتی پیکیج میں حیسکو اور سپیکو میں سروس کی بہتری کے لئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جائے گی لوڈ شیڈنگ ناکارہ نظام کے باعث ہورہی ہے اس کی بہتری کی کوشش کررہے ہیں، ایشین ترقیاتی بینک کے اشتراک سے اسمارٹ میٹرنگ کا کام شروع کیاجائے اور سی پیک نے بھی، انہوںنے کہاکہ میرے دورے کا مقصدیہ جائزہ لینا ہے کہ سرکاری محکموں میں کیسی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے، وزیر اعظم نے ٹاسک دیا ہے کہ کراچی کی طرح سندھ کے دیگر شہروں کے لئے بھی پیکیج تیار کئے جائیں اسی لئے زمینی حقائق کی روشنی میں مسائل کا جائزہ لے رہے ہیں اور ترجیحات کا تعین کررہے ہیں، مارچ کے آخر میں وزیر اعظم سندھ آکر ترقیاتی پیکجز کا اعلان کریں گے، اسد عمر نے کہاکہ کورونا کی دوسری لہر میں کمی آئی ہے لیکن وباء ختم نہیں ہوئی احتیاط کی ضرورت ہے تاہم مارچ میں پابندیاں ختم ہوجائیں گی، لوگ ویکسین لگوائیں وفاقی وزیر صحت فیصل سلطان بھی لگوا چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ مارچ سے 65 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو ویکسین لگائی جائے گی تاکہ عوام میں خوف کا خاتمہ ہوسکے۔

حیدرآباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments