اسرائیل، بھارت اور پی ڈی ایم ایک تکون کے تین رخ ہیں، شبلی فراز

پی ڈی ایم کا بیانیہ دشمن کی تائید کرتا ہے، نوازشریف مفرور شخص نے آج پھر فوج پر حملہ کیا۔ وفاقی وزیر اطلات ونشریات کا پی ڈی ایم قائدین کی تقاریر پرردعمل

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار اکتوبر 19:39

اسرائیل، بھارت اور پی ڈی ایم ایک تکون کے تین رخ ہیں، شبلی فراز
کوئٹہ (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اکتوبر2020ء) وفاقی وزیر اطلات ونشریات شبلی فراز نے کہا ہے کہ اسرائیل ، بھارت اور پی ڈی ایم ایک تکون کے تین رخ ہیں، پی ڈی ایم کا بیانیہ دشمن کی تائید کرتا ہے، نوازشریف مفرور شخص نے آج پھر فوج پر حملہ کیا۔ انہوں نے کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے میں قائدین کی تقاریر پر اپنے ردعمل میں کہا کہ نوازشریف سے سب واقف ہیں، پرائی سرزمین پر ہماری فوج پر حملہ کیا، غلط باتیں کیں، مفرور شخص نے پاک فوج پر حملہ کیا، پاک فوج نے جس نے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑی ، اور ملک وقوم کو دہشتگردی سے نجات دلائی۔

یہ باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ پی ڈی ایم کا بیانیہ دشمن کی تائید کرتا ہے اور ہمارا دشمن اسرائیل ، بھارت اور پی ڈی ایم ہے ۔ ایک جماعت کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے، اویس نورانی نے آزاد بلوچستان کا نعرہ لگایا، کہ بلوچستان کو آزاد کرو۔

(جاری ہے)

یہ بات دشمن کرتے ہیں۔اویس نورانی کا آزاد بلوچستان کا بیان ملک دشمن عناصرکے بیانیے کو تقویت دیتا ہے۔ ہم ان چور اچکوں سے ملک کو آزاد کروائیں گے۔

جب یہ اقتدار میں ہوتے ہیں تو سب ٹھیک اگر باہر ہوں تو پھر اداروں کیخلاف ہر حربہ استعمال کیا جاتا ہے۔ مریم نوازنے جو باتیں کیں، کہ لندن میں ادارے بہت سخت ہیں۔ مریم نے ایک سوال کا جواب نہیں دیا کہ فلیٹ خریدنے کیلئے پیسے کہاں سے آئے اور پیسے پاکستان سے برطانیہ کیسے بھیجے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسے لیڈر کی قیادت میں چل رہا ہے جس کا مقصد نااہل اور کرپٹ لیڈران سے نجات دلانا ہے۔

فوج ہمارے ملک کی سرحدوں کی محافظ ہےاس کے ہرزہ سرائی  کی مذمت کرتے ہیں۔ ان کیخلاف مختلف چارجز بنتے ہیں۔ ملک سے بڑا کوئی نہیں، نوازشریف اور دیگر کے خلاف کاروائی کریں گے۔عمران خان کرپٹ لوگوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ سابقہ ادوار میں اداروں کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کیا گیا۔ ہماری سمت درست ہے ہم اداروں کو مضبوط کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی سے میں بھی متاثر ہو رہا ہوں۔ میرے گھروالے بھی مہنگائی کی شکایت کرتے رہے ہیں۔

اسلام آباد شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments