اسٹیٹ بینک کا نئی زری پالیسی اور دو ماہ کے لیے شرح سود کو 7 فی صد پر برقرار رکھنے کا اعلان

مہنگائی کو خطرات درپیش ہیں مگر ہدف کے اندر رہنے کا امکان ہے۔ کاروباری حلقوں میں اعتماد اور معاشی نمو میں بہتری آئی ہے،گورنر اسٹیٹ بینک

پیر ستمبر 22:46

اسٹیٹ بینک کا نئی زری پالیسی اور دو ماہ کے لیے شرح سود کو 7 فی صد پر برقرار ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 ستمبر2020ء) اسٹیٹ بینک نے نئی زری پالیسی اور دو ماہ کے لیے شرح سود کو 7 فی صد پر برقرار رکھنے کا اعلان کردیا ہے۔گورنراسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کااعلان کردیا۔ گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق زری پالیسی کمیٹی کے پچھلے اجلاس سے اب تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور زرعی پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

جس کے مطابق اسٹیٹ بینک نے دو ماہ کے لیے شرح سود کو 7 فی صد پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا قمر کا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ مہنگائی کو خطرات درپیش ہیں مگر ہدف کے اندر رہنے کا امکان ہے۔ کاروباری حلقوں میں اعتماد اور معاشی نمو میں بہتری آئی ہے۔ بینک اپنے کسٹمرز کے ساتھ شرح سود کو بھی موخر کرسکتے ہیں۔

(جاری ہے)

گورنر نے کہا کہ قرضوں کی عدم ادائیگی پر نادہندگی کی مدت بھی 90 سے بڑھا کر 180 روز کردیا گیا۔ مارک اپ کی مدت بڑھنے سے کمپنیوں کو 180 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔ روزگار اسکیم کے تحت روزگار کو تحفظ دیا گیا، اسکیم کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی گئیں۔ روزگار اسکیم کے تحت 200 ارب روپے کے قرضے جاری کیے گئے۔ بڑے اداروں کے ساتھ چھوٹے کاروباری اداروں کو بھی روزگار اسکیم کی سہولت دی گئی۔

ڈاکٹر رضا باقر نے بتایا کہ روزگار اسکیم میں ایس ایم ایز کا حصہ 50 فیصد ہے، چھوٹے کارپوریٹ اداروں کو شامل کیا جائے تو 70 فیصد چھوٹے اداروں نے روزگار اسکیم سے فائدہ اٹھایا، حکومت نے بینکوں کو قرضوں پر 40 فیصد نقصانات پورے کرنے کی ضمانت دی، اسٹیٹ بینک کی اسکیموں اور حکومتی اقدامات سے معیشت کو سپورٹ ملی اور نقصانات کم ہوئے۔انہوںں نے کہا کہ جون 2020 میں گذشتہ اجلاس کے وقت کے مقابلے میں کاروباری اعتماد اور نمو کا منظر نامہ بہتر ہوا ہے ۔

اس سے پاکستان میں کووڈ19 کے کیسز میں کمی اور لاک ڈان میں نرمی نیز حکومت اور اسٹیٹ بینک کے بروقت فراہم کردہ مالی محرک کی عکاسی ہوتی ہے۔ساتھ ہی ساتھ مہنگائی کی پیش گوئی بھی تھوڑی سی بڑھی ہے جس کی بنیادی وجہ غذائی اشیا کی قیمتوں کو رسدی حوالے سے پہنچنے والے حالیہ دھچکے ہیں۔ اب توقع ہے کہ مالی سال 21 کے دوران اوسط مہنگائی سابقہ اعلان کردہ حدود 7-9 فیصد کے اندر رہے گی ، نہ کہ اس سے کسی قدر کم۔

ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ مالی حالات بدستور گنجائشی (accommodative) ہیں اور مستقبل کی بنیاد پر حقیقی شرح سود صفر سے کسی قدر نیچے ہے۔علاوہ ازیں کووڈ 19 پھیلنے کے بعد اسٹیٹ بینک کی جانب سے یکے بعد دیگرے کیے گئے اقدامات نے کافی سیالیت داخل کی ہے اور بیشتر کاروباری اداروں اور گھرانوں کی فنڈنگ کی لاگت مزید کم کردی ہے۔مجموعی طور پر ان زری اقدامات کے نتیجے میں کاروباری اداروں اور گھرانوں کو تخمینا 1.58 ٹریلین روپے یا جی ڈی پی کے لگ بھگ 3.8 فیصد کی مالی تحریک ملی ہے ۔

مزید برآں، حکومت نے معاشی سرگرمی کو تقویت دینے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں جن میں احساس ایمرجنسی کیش پروگرام، اجناس کی مالکاری ، ایس ایم ایز کے لیے خطرے میں اشتراک کی سہولت اور ٹیکس ری فنڈ کے عمل میں تیزی شامل ہیں۔ڈاکٹر رضا باقر نے کہا کہ گذشتہ ایم پی سی اجلاس کے بعد مہنگائی اور نموکے منظرنامے میں تبدیلی اور حکومت اور اسٹیٹ بینک کے مالی تحریک کے اقدامات کے اثرات کے پیش نظر کمیٹی کا نقطہ نظر یہ تھا کہ ابھرتی ہوئی بحالی کے لیے ضروری مدد کی فراہمی کے ساتھ مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنے اور مالی استحکام برقرار رکھنے کے حوالے سے زری پالیسی کا موقف موزوں رہا ہے۔

کمیٹی نے یہ فیصلہ کرنے میں حقیقی ، بیرونی اور مالیاتی شعبوں میں اہم رجحانات و امکانات اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے زری حالات اور مہنگائی کے منظرنامے کو پیش نظر رکھا۔ مارچ اور جون کے درمیان بھاری کمی کے بعد جولائی میں بڑے پیمانے کی اشیا سازی (ایل ایس ایم) اشاریے میں پھر اضافہ ہوا ۔ یہ اشاریہ 5 فیصد (سال بسال) کی شرح سے بڑھا۔ گاڑیوں کی فروخت، سیمنٹ کی ترسیل ، پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت اور بجلی کے خرچ سمیت بلند تعدد (high-frequency) کے طلبی اظہاریوں سے بھی معاشی سرگرمی میں حوصلہ افزا تیزی کی عکاسی ہوتی ہے۔

بہر کیف، مختلف صنعتوں میں معاشی بحالی کی صورت ِحال مختلف ہے۔ خاص طور پر میزبانی اور بعض خدمات کے شعبے پیچھے رہ گئے ہیں اور سرگرمی کی عمومی سطح کورونا سے پہلے کے زمانے سے اب بھی کم ہے۔آگے چل کر مالی سال 21 میں نمو کے بحال ہوکر 2 فیصد سے کچھ اوپر رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جو گذشتہ سال -0.4 فیصد تک گر گئی تھی۔توقع ہے کہ یہ بحالی زیادہ تر اشیا سازی سے متعلق سرگرمیوں اور تعمیرات کی بنا پر ہوگی جنہیں عارضی معاشی ری فنانس سہولت (TERF)( https://www.sbp.org.pk/smefd/circulars/2020/CL20.htm)سمیت اسٹیٹ بینک کی مختلف مالی پالیسیوں اور ہاسنگ اور تعمیرات کے شعبوں کے لیے حکومتی ترغیبات سے تقویت مل رہی ہے۔

نمو کا منظر نامہ غیریقینی کیفیت سے دوچار ہے۔ کمی کے حوالے سے خطرات میں ملک کے اندر کووڈ 19 کی دوسری ممکنہ لہر، پاکستان کی اہم برآمدی منڈیوں یورپ اور امریکہ میں موسم سرما کے مہینوں میں کورونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں ممکنہ طور پر تیزی سے اضافہ اور ٹڈ ی دل کے حملوں سے زراعت کو درپیش خطرہ شامل ہیں۔دوسری جانب اضافے کے حوالے سے ، تیز تر عالمی بحالی برآمدات کو بڑھا سکتی ہے ۔

دشوار ماحول کے باوجود کورونا وائرس کی وبا کے بعد بیرونی شعبے نے لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ مئی 2019 میں مارکیٹ کے تعین کردہ لچکدار ایکسچینج ریٹ نے دھچکوں کو جذب کرنے میں اپنا قابل قدر کردار ادا کیا ہے جیسا کہ کرنسی کے دو طرفہ اتار چڑھا سے ظاہر ہے۔ تیل کی کم عالمی قیمتوں اور پست ملکی طلب نے کورونا وائرس کے دوران جاری کھاتے کا خسارہ کم کرنے میں مدد دی۔

نسبتا حال میں برآمدات میں بتدریج بحالی متوقع ہے اور ایکسچینج ریٹ کی منظم صورت ِحال نیز پاکستان ریمی ٹنس انی شیے ٹو کے تحت حکومت اور اسٹیٹ بینک کے سازگار پالیسی اقدامات کے طفیل ترسیلات ِزر کی کارکردگی مضبوط رہی ہے۔جولائی میں ترسیلات ِزر بلند ترین ماہانہ سطح پر پہنچ گئیں اور پچھلے تین مہینوں سے 2 ارب ڈالر سے اوپر ہیں۔ ان حالات نے جاری کھاتے کو ، جو جولائی میں فاضل ہوگیا، تقویت دے کر اسٹیٹ بینک کے زر ِمبادلہ کے ذخائر کو تقریبا 12.8 ارب ڈالر کی وبا سے پہلے کی سطح پر بحال کردیا۔

نتیجتا پاکستان کی کفایت ِذخائر (reserve adequacy) اب تین ماہ کے درآمدی کوریج کے اہم عالمی پیمانے سے اوپر ہے۔ مستقبل کو دیکھیں تو جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کے 2 فیصد کے لگ بھگ رہنے کی توقع ہے۔ یہ اور اس کے ہمراہ متوقع نجی اور سرکاری رقوم کی آمد سے مالی سال 21 میں پاکستان کی بیرونی پوزیشن مستحکم رہنی چاہیے۔ کورونا وائرس کے سخت دبا کے باوجود اور توقعات کے برخلاف مالی سال 20 کا مالیاتی خسارہ مالی سال 19 سے کم رہا اور سرکاری قرضے میں اضافہ جی ڈی پی کے لگ بھگ ایک فیصد تک محدود رہا۔

اس سے زیادہ تر مالی سال 20 کے پہلے نو ماہ میں حکومت کے بنیادی فاضل کو یقینی بنانے کے مضبوط اقدامات کی عکاسی ہوتی ہے جن سے کورونا وائرس کی وبا سے مقابلہ کرنے کے لیے مالیاتی گنجائش فراہم ہوئی۔ مالی سال 21 کے پہلے دو ماہ میں معاشی سرگرمی میں بتدریج تیزی کے مطابق ٹیکس محاصل کی نمو پھر مثبت ہوگئی اور اوسطا لگ بھگ 1.2 فیصد (سال بسال) رہی۔

اگرچہ یہ شرح وبا سے پہلے کی شرح ہائے نمو سے کہیں کم ہے تاہم ٹیکس وصولی میں یہ بحالی ایک حوصلہ افزا تبدیلی ظاہر کرتی ہے کیونکہ مالی سال 20 کی آخری سہ ماہی میں دو ہندسی کمی دیکھی گئی تھی گو کہ محاصل کا ہدف حاصل کرنے کے حوالے سے خطرات برقرار ہیں۔ وفاقی پی ایس ڈی پی کے اخراجات جولائی اگست 2020 میں پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریبا دگنے ہوگئے۔

مجموعی طور پر اس سال کے بجٹ کے مطابق ایم پی سی توقع کرتی ہے کہ آنے والی سہ ماہیوں میں معاشی سرگرمی بحال ہونے کے ساتھ مالیاتی یکجائی وبا سے پہلے کے راستے پر پھر گامزن ہوجائے گی ۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ جون اور جولائی کے دوران عمومی مہنگائی میں تیزی سے قطع نظر قوزی مہنگائی (core inflation) نسبتا مستحکم رہی ہے اور مہنگائی کو درپیش طلبی خطرات قابو میں ہیں۔

نمو کی طرح مہنگائی کا منظر نامہ بھی بعض خطرات سے دوچار ہے۔ اضافے کے حوالے سے جو خطرات ہیں وہ غذائی قیمتوں کے گرد گھومتے ہیں خصوصا سیلاب سے حالیہ نقصانات اور ٹڈی دل کے ممکنہ حملوں کے پیش نظر۔ کمی کے حوالے سے اصل خطرہ ملکی سرگرمی میں توقع سے کم تیزی کا ہے۔ عالمی محاذ پر تیل کی قیمتوں کی مستقبل کی صورت ِحال کا ملکی مہنگائی کے منظر نامے پر اہم اثر مرتب ہوگا۔

کورونا وائرس کے باعث بینکوں کے خطرے سے گریز کے رجحان میں اضافے کے باعث حال میں نجی شعبوں کو قرضے کو اسٹیٹ بینک کی ری فنانس سہولتوں سے کافی مدد ملی ہے۔ ان سہولتوں کے ساتھ قرضوں کے التوا اور تشکیل نو سے متعلق دیگر ضوابطی اقدامات سے کاروباری اداروں اور گھرانوں کو ضروری فنڈنگ کی دستیابی یقینی بنائی گئی ہے اور نمو اور روزگار کو ضروری تقویت مہیا ہوئی ہے۔ مجموعی طور پر کمیٹی کا یہ نقطہ نظر تھا کہ موجودہ زری پالیسی موقف ابھرتی ہوئی بحالی کو تقویت دینے کے ساتھ مہنگائی کی توقعات کو تحفظ دینے اور مالی استحکام کے لیے موزوں ہے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments