ایم کیو ایم کا حکومت سے علیحدگی اور قبل از وقت انتخابات کا اشارہ

حکومت کا ساتھ جمہوریت بچانے کیلیے دیا، ہمارے بغیر بھی جمہوریت بچ سکتی ہے تو ہم علیحدہ ہوسکتے ہیں، حکومت اور فوج کو ہی نہیں پوری قوم کو ایک پیج پر ہونا چاہیے، ڈی جی آئی ایس آئی کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے پر سب کو بے چینی ہے،کسی کے آلہ کار نہیں بنیں گے، خالد مقبول صدیقی

اتوار 24 اکتوبر 2021 16:15

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 اکتوبر2021ء) ایم کیو ایم پاکستان نے حکومت سے علیحدگی اور قبل از وقت انتخابات کا اشارہ دیدیا۔تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے مہنگائی، سیاسی صورت حال اور عوامی مسائل کے حوالے سے اہم اجلاس طلب کیا، جس میں اراکین اسمبلی، سابق بلدیاتی نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے اجلاس سے قبل کور کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں کنوینر ، سینئرڈپٹی کنوینر اور ڈپٹی کنوینرز کی بیٹھک ہوئی، کور کمیٹی اجلاس میں آئندہ کا لائحہ عمل ، حکمت عملی پر غور کیا گیا جبکہ سیاسی صورتحال پر لائحہ عمل طے کرنے، مہنگائی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مختلف نکات پر گفتگو کی گئی۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہاکہ حکومت کا ساتھ جمہوریت بچانے کیلیے دیا، ہمارے بغیر بھی جمہوریت بچ سکتی ہے تو ہم علیحدہ ہوسکتے ہیں، حکومت اور فوج کو ہی نہیں پوری قوم کو ایک پیج پر ہونا چاہیے، ڈی جی آئی ایس آئی کا نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے پر سب کو بے چینی ہے، اگر قوم کو ضرورت ہوتو قبل از وقت انتخابات ہونے چاہئیں، ووٹ نہیں بولے گا تو روڈ بولے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ ملک کے حالات بہت خراب ہیں، مہنگائی بہت ہوگئی ہے، بدانتظامی بھی مہنگائی کی وجہ ہے، وزیر اعظم سے مطالبہ کرتا ہوںکہ عوام کے لیے انتظام کریں تاکہ وہ زندہ رہ سکیں ، تعلیم کے لیے بھی کچھ کرنا چا ہیے۔انھوں نے کہا کہ ہمیں لگتا ہے بیلٹ پیپر کم ہوگئے ہیں، ووٹ نہیں بولے گا تو روڈ بولے گا، ہم نے حکومت سے کوئی تنظیمی مطالبات نہیں کیے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ہم کسی کے آلہ کار نہیں بنیں گے، جس دن ہماری حجت تمام ہوئی ہم حکومت ہی نہیں ایوان بھی چھوڑ دیں گے۔خالد مقبول نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے منتخب اراکین اسمبلی اور سابقہ بلدیاتی نمائندہ گان اپنا کام شروع کردیں، جب حکومتی مشینری عوامی مسائل حل نہیں کرے گی تو ہم کریں گے، حکومتوں نے عوامی مسائل حل نہیں کیے تو ہم شیڈو کیبنٹ بنائیں گے، شہری سندھ کے عوامی مسائل ہمیشہ ہم نے حل کیے ہیں اس بار بھی ہم ہی کریں گے، سابقہ بلدیاتی نمائندے عوامی مسائل کے حل کیلیے کوششیں تیزکردیں، جب تک نئے بلدیاتی نمائندے منتخب نہیں ہوتے آپ ہی بلدیاتی نمائندے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ جو لوگ حکومتی بینچز پر بیٹھنا چاہتے ہیں وہ ایم کیو ایم سے امید لگائے بیٹھے ہیں ، ہم کسی کے آلہ کار نہیں بنیں گے، ہمیں لیڈر نہیں کارکن چاہئیں۔ انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں مگر واپسی کے لیے کوئی شرط قبول نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ ہم نے حکومت سے کوئی تنظیمی مطالبات نہیں کئے تھے۔اگر ہمارے کارکنان لاپتہ ہیں تو یہ ہمارا نہیں پاکستان کا مسئلہ ہے۔

کراچی شہر میں شائع ہونے والی مزید خبریں:

Your Thoughts and Comments