پی ٹی سی ایل کو ابتدائی نو ماہ کے مالیاتی اعداد و شمار کے ساتھ 92 ارب 201 کروڑ روپے آمدن ہوئی ہے ، صدر پی ٹی سی ایل ڈینئل رٹز

پی ٹی سی ایل کو ابتدائی نو ماہ کے مالیاتی اعداد و شمار کے ساتھ 92 ارب ..
اسلام آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 اکتوبر2018ء) پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کے صدر ڈینئل رٹز اور فنانشنل ہیڈ ندیم خان عرفان نی کہا ہے کہ ادارے کو ابتدائی نو ماہ کے مالیاتی اعداد و شمار کے ساتھ 92 ارب 201 کروڑ روپے آمدن ہوئی ہے جبکہ مجموعی طور پر ادارے کو 26 فیصد منافع میں خساروں کا سامنا ہے۔ پی ٹی سی ایل نے حکومت کو کوئی ادائیگی نہیں کرنی، سودے کی واجب الادا رقوم اتصلات نے ادا کر نی ہے۔

اس موقع پر مارکیٹنگ و پبلک ریلشنر ڈائریکٹر فریحہ شاہ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ صدر ڈینئل رٹز اور ندیم خان نے کہا کہ پی ٹی سی ایل گروپ نے 6 فیصد سال بہ سال تلافی کی ہے، عالمی معیار جانچنے والی کیمپنی جے سی آر نے پی ٹی سی ایل کی ریٹنگ کو بہترین قرار دیتے ہوئے ٹرپل اے کا سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے۔

(جاری ہے)

ملک میں آئی سی ٹی خدمات کی معروف فراہم کنندہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے 11 اکتوبر کو اسلام آباد میں منعقدہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ میں مالی نتائج کا اعلان کیا۔

یہ نتائج 30 ستمبر 2018ء کو ختم ہونے والے نو مہینوں پر مشتمل تھے۔ گروپ کمپنیوں کی مجموعی طور پر مثبت کارکردگی کی وجہ سے پی ٹی سی ایل گروپ کی آمدنی سال 2018ء کے پہلے 9 ماہ میں 6 فیصد سال بہ سال ترقی کر کے 93.21 ارب روپے تک بڑھ گئی۔ پی ٹی سی ایل گروپ کی سال 2018ء کی تیسری سہ ماہی کے دوران سہ ماہی سے سہ ماہی کی آمدنی 11 فیصد بڑھ گئی۔ یو فون نے 10 فیصد سال بہ سال ترقی کی، پی ٹی سی ایل مائیکرو فنانسنگ کے لئے ایک ذیلی ادارے یوبینک نے سال 2017ء کے پہلے 9 ماہ کے مقابے میں 65 فیصد کی شاندار ترقی کی۔

تاہم مجموعی طور پر پی ٹی سی ایل گروپ کا خالص منافع 26 فیصد کمی کا شکار ہوا جس کی بنیادی وجوہات روپے کی قدر میں 1.34 ارب روپے کی کمی اور 2.3 ارب روپے کی گزشتہ سال کی مثبت ایڈجسٹمنٹ تھیں۔ سازگار حالات کی صورت میں پی ٹی سی ایل کا خالص منافع گزشتہ سال کے مقابلے میں 27 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔ پی ٹی سی ایل کی 9 ماہ کی مجموعی آمدنی مستحکم رہتے ہوئے 52,6 ارب روپے سال بہ سال رہی۔

پی ٹی سی ایل کی نمایاں اور مارکیٹ کی معروف فکسڈ براڈ بینڈ ڈی ایس ایل سروس نے اس ترقی کو جاری رکھا اور 2017ء کے پہلے 9 ماہ کے مقابلے میں آمدنی میں 7 فیصد زیادہ اضافہ حاصل کیا جس کی وجہ سے 31 مکمل طور پر ٹرانسفارم کی گئیں، ایکس چینجز ہیں جن کی بدولت ڈی ایس ایل سروس نے 15 فیصد سال بہ سال ترقی کی۔ کارپوریٹ بزنس نے گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں کلائوڈ انفراسٹرکچر سروسز، آئی ٹی اور سیکورٹی کے سلوشنز اور مینجڈ سروسز کے لئے نئی شراکت داریوں کے ذریعے 14 فیصد نمایاں ترقی کی۔

صارفین کی ای وی او سے ایل ٹی ای/چار جی منتقلی نے اس سال مثبت نتائج دکھائے اور دوہرے ہندسوں میں سال بہ سال ترقی کی، تاہم گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران صارفین کو حاصل کرنے کی لاگت زیادہ رہی۔ ملکی و بین الاقوامی وائس کی آمدنی میں مسلسل کمی آئی جس ک وجہ سے غیر قانونی ٹیلی کمیونیکیشن کا استعمال، او ٹی ٹی اور سیلولر سروسز پر منتقلی رہی جس کے نتیجے میں وائس ٹریفک میں کمی واقع ہوئی۔

پی ٹی سی ایل کا آپریٹنگ منافع گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد کم رہا جس کی مرکزی وجہ سال کے پہلے 9 ماہ میں کرنسی کی قدر میں کمی، صارفین کو حاصل کرنے کی لاگت اور کیبل و سیٹلائیٹ/نیٹ ورک کو درست رکھنے کی مالیت میں اضافہ رہی، مزید برآں گزشتہ سال کے مقابلے میں کم فنڈز کی وجہ سے نان آپریٹنگ آمدنی میں بھی کمی آئی۔ ان تمام وجوہات کی بناء پر خالص منافع 4.8 ارب روپے رہا جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 26 فیصد کم ہے۔

(اگر ان کو ایک دفعہ ہونے والی تبدیلیوں کے مقابلے ایڈجسٹ کیا جائے تو یہ 13 فیصد کم ہی)، یہ صورتحال آپریٹنگ منافع اور نان آپریٹنگ آمدنی میں کمی کی وجہ سے پیش آئی۔ پی ٹی سی ایل کے مالی استحکام کو حال ہی میں، ایک آزاد ریٹنگ کے عمل کے تحت سراہا گیا۔ جے سی آر۔ وی آئی ایس نے پی ٹی سی ایل کو طویل المدتی ٹرپل اے ریٹنگ (AAA) دی ہے۔ یہ امر پی ٹی سی ایل سے وابستہ لوگوں کے اعتماد میں اضافہ کرے گا۔

تیسری سہ ماہی کے دوران پی ٹی سی ایل نے بلوچستان میں 200,000 مینگروو کے بیجوں کی شجرکاری کے سلسلے میں ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ساتھ شراکت داری کی۔ پی ٹی سی ایل نے سمٹ پروگرام 2018ء کے تحت اعلیٰ تعلیمی اداروں سے آئے ہوئے 100 باصلاحیت نوجوان انجینئرز اور بزنس گریجوایٹس کو ادارے میں شامل کیا جو کہ مستقبل کے لئے لیڈر شپ تیار کرنے میں مدد کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ندیم خان نے بتایا کہ کمپنی اپنے بہترین نتائج کے پیش نظر ایک سو ٹیلی کام انجینئرز کو تربیت دے رہی ہے جنہیں بعد میں پی ٹی سی ایل میں ہی روزگار فراہم کیا جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی سی ایل کے ذمہ حکومت کی کوئی واجب الادا رقم نہیں، ادائیگیاں اتیصلات نے کرنی ہیں، اتیصلات کے پی ٹی سی ایل میں شیئرز ہیں مگر اس کا کمپنی کے انتظامی امور سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی نے 2016ء کے بعد کسی ملازم کو وی ایس ایس کے تحت فارغ نہیں کیا۔ ندیم خان نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ یو فون بد حالی کے دور سے نکل آیا، گزشتہ برسوں یو فون کے مالی حالات کچھ بہتر نہیں تھے، یو فون نے اپنی کاروباری ساکھ کو بہتر بناتے ہوئے صارفین کی تعداد 17 لاکھ 50 ہزار کا اضافہ کیا ہے، یو فون چیلنجنگ صورتحال پر قابو پا لیا ہے۔

Your Thoughts and Comments