2017ء کا پاکستان

بدھ جنوری

2017 Ka Pakistan
خالد محمود ہاشمی:
14 اگست 1947ء کے دن کا نومولود پاکستان اور یکم جنوری 2017ء کے پاکستان میں زمین آسمان کا فرق واضح دکھائی دے رہا ہے۔ آج کے پاکستان کی گردن 22 کھرب روپے قرضوں کے بوجھ سے جھکی ہوئی ہے جبکہ بیرونی قرضوں کا بوجھ 74 ارب ڈالر ہے اور اب سی پیک بھی 57 کھرب روپے کا ہو گیا ہے۔ یہ سبھی جانتے ہیں کہ اتنے ڈالروں اور روپوں کا بوجھ گردن سے اتارنے کی سکت نہیں۔

ہماری گردن جھکانے والے آئی ایم ایف کا مشورہ ہے کہ ہم برآمدات بڑھائیں یا پھر ڈیپریشن کا سامنا کریں۔ حکومت کے اقتدار کا آخری سال شروع ہو چکا ہے۔ مخالفین کا سر اونچا ہونا شروع ہو گیا ہے۔ ساڑھے تین سال تک تو عمران خان گردن پر سوار رہے اب میثاق جمہوریت کو سینے سے لگانے والے بھی میدان میں اترنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

(جاری ہے)

پیپلزپارٹی کو اپنی بقاء کا مسئلہ درپیش ہے۔

پی پی میٹرو بس سے پنجاب کی سواریاں بہت پہلے اتر گئی تھیں۔ سفر آرام دہ نہ ہو تو مسافر اس بس کی طرف قدم نہیں بڑھاتے۔ وزراء کی اب تک کی کارکردگی اتنی ہے کہ انہوں نے بادشاہ وقت کی حمایت میں حق نمک ادا کیا ہے۔ بادشاہوں کی ترجمانی اب کے نور رتن اور معالجین ہی کرتے ہیں۔
ورلڈ بنک کے نزدیک آنیوالے سالوں میں ساوٴتھ ایشیا پوری دنیا کا سب سے بڑا ایکسپورٹ پاور ہاوٴس ہوگا۔

چین اور ایسٹ ایشیا میں عمروں اور اجرتوں میں اضافے نے ساوٴتھ ایشیا کیلئے دروازے کھول دیئے ہیں۔ عالمی سرمایہ کاری مینوفیکچرنگ اور ٹریڈنگ کا رخ ساوٴتھ ایشیا کی طرف ہو رہا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کی مہربانی سے دہشت گردی کا بھوت اتر چکا۔ البتہ شیطان کے چیلے کونے کھدروں سے کبھی کبھی نکل آتے ہیں۔ ہم ساوٴتھ ایشیائی ملکوں میں ہیومن ڈویلپمنٹ ایجوکیشن، ہیلتھ ،انفراسٹرکچر،شفافیت، گورننس، اکنامک فریڈم وغیرہ کے باب میں انتہائی نچلے درجے پر ہیں۔

پانامہ لیکس اور پلی بارگین نے ہماری نیک نامی میں اضافہ نہیں کیا۔ پلی بارگین میں اربوں کا غبن کرنے والوں کو چند کوڑیاں لیکر چھوڑ دیا جاتا ہے جبکہ دنیا میں پلی بارگین کرنیوالے جیل جاتے ہیں۔ ایکسپورٹ پاور ہاوٴس بننے کیلئے بہت کچھ کرنا ہوگا‘ لیکن نواز حکومت کا فوکس پانامہ لیکس سے جان چھڑانا ہے۔ ادھر عمران خان کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ پانامہ لیکس میں حکومت کو اسکے انجام تک پہنچایا جائے۔

ساوٴتھ ایشیا میں پاکستان آئیڈیل لوکیشن پر واقع ہے۔ ایس سی او، ای سی او، جی سی سی اور سارک ممالک اسکی دسترس میں ہیں۔ ہمارے پاس وہ کیا نہیں جو دوسروں کے پاس ہے۔ زمین، زراعت، محنتی، افرادی قوت، ہم زراعت سے 50 ارب ڈالر کما رہے ہیں جبکہ 300 ارب ڈالر سالانہ کما سکتے ہیں۔
چین اور ملائشیا ہیومن ڈویلپمنٹ کے بل پر ایکسپورٹ پاور ہاوٴس بن گئے۔

ہمارے ہاں ساوٴتھ کوریا اور سنگاپور جیسی شفافیت کیسے آئیگی۔ ہماری کابینہ کے لوگوں کا اکنامک نالج کتنا ہے؟ یہ پالیسیاں بنانے اور اصلاحات کرنے کے قابل ہیں؟ ہم کمیٹیاں سب کمیٹیاں اور کمیشن بنانے اور ”مٹی پاوٴ“ میں مہارت رکھتے ہیں۔ ہماری ہر حکومت کو بجٹ خسارے کا سامنا رہا۔ ترقیاتی اخراجات چیلنج بنے رہے۔ 2016-17ء کیلئے بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3.8 فیصد رکھا گیا۔

سال کے تین ماہ میں خسارہ 1.4 فیصد 450 ارب روپے رہا۔ اخراجات آمدنی سے 450 ارب زیادہ ہیں۔ براہ راست ٹیکس بالواسطہ ٹیکسوں سے کم ہیں۔ یہی ہمارا مسئلہ ہے۔ کل ٹیکسوں کا 68.5 فیصد بالواسطہ ٹیکسوں پر مشتمل ہے۔ سیلز ٹیکس سے ہونیوالی آمدنی کل آمدن کا 42 فیصد ہے۔ براہ راست ٹیکسوں کا نشانہ کوئی کوئی جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں کا ملبہ ہر کس و ناکس پر گرتا ہے۔

ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو سب ملکوں سے کم ہے۔ نیشنل فنانس کمیشن کی تازہ رپورٹ کیمطابق گزشتہ سال وفاقی اور چاروں صوبائی حکوتیں ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو کو 15 فیصد تک لانے میں ناکام رہیں۔ 190 ملین افراد میں سے صرف 8 لاکھ 40 ہزار افراد ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں۔ ریٹرن ٹو پاپولیشن ریشو 0.46 فیصد ہے جبکہ انڈیا میں یہ ریشو 17.7 فیصد ہے۔ مارکیٹوں کے سیکرٹ سروے بھی کوئی نتیجہ نہ سامنے لا سکے۔

پلی بار گین سکہ رائج الوقت ہے۔ ایماندار ہی کنڈی میں پھنستے ہیں۔ کوئی سرکاری ملازم ایسا نہیں جسکی پنشن کا کیس رشوت کے بغیر انجام تک پہنچتا ہو۔ ہمیں پتہ نہیں چل رہا کہ ہم مالی تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ووٹرز بے چارے تو خط غربت سے بھی نچلی سطح پر زندگی گزاریں اور منتخب ایوانوں میں بیٹھنے والے اپنی تنخواہوں میں 150 فیصد تک اضافہ کر لیں۔

وائٹ کالر کرائم بھلا کسے کہتے ہیں؟ غریب ترین صارفین پر اشیائے خوردونوش پر سیلز ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔ قانون سازوں کا 19 کروڑ لوگوں کی ویلفیئر میں کتنا حصہ ہے؟ ایف بی آر اور الیکشن کمیشن کے اعدادوشمار کے مطابق ارکان پارلیمنٹ کی اکثریت مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہے۔ وزیراعظم روز کہتے ہیں لوڈشیڈنگ سے نجات کا سفر جاری ہے۔ 2018ء کے بعد بجلی کے بل کم ہو جائینگے حالانکہ پاور سیکٹر بحران کا شکار ہے۔

پانی اور بجلی کی وزارت نے وزیراعظم سے 175 ارب روپے مانگے ہیں۔ 2014ء کے آغاز میں ایندھن کا بحران پیدا ہوا تھا۔ سعودی عرب سے 1.5 ارب ڈالر کے گفٹ نے بحران کا پانسا پلٹ دیا تھا۔ برآمدات گر رہی ہیں۔ قرضوں پر سود کی رقم چڑھتی جا رہی ہے۔ جائیں تو جائیں کہاں؟ وزارت بجلی نے وزارت خزانہ سے 283.2 ارب روپے لینے ہیں۔ آئی ایم ایف کا 6.64 ارب ڈالر کا قرضہ بھی پاور سیکٹر کو بحران سے نہ نکال سکا۔

گردشی قرضہ بھی جان نہیں چھوڑ رہا۔ حکومت پاکستان میگا پبلک پراجیکٹس کیلئے اشیاء و خدمات کی خریداری کیلئے ہر سال 55 ارب ڈالر خرچ کرتی ہے۔ پاور پلانٹس، سڑکیں، پل، پائپ لائنیں اور ڈیم میگا پراجیکٹس ہیں۔
سیاسی طورپر مضبوط ٹھیکیداروں کیساتھ پراجیکٹس لگتے ہیں۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ترقی پذیر ملکوں کے نوجوان ان ملکوں میں کرپشن سے دلبرداشتہ ہوکر بوکوحرام، القاعدہ، الشباب اور داعش جیسی خطرناک تنظیموں سے متاثر ہو رہے ہیں۔

پاکستان میں وفاقی سطح پر نیب، ایف آئی اے، وفاقی محتسب جبکہ صوبائی سطح پر محکمہ اینٹی کرپشن اور صوبائی محتسب کے ادارے موجود ہیں، لیکن انکی کارکردگی سے عوام مطمئن نہیں۔ پبلک اکاوٴنٹس کمیٹیوں اور آڈیٹر جنرل کی رپورٹوں کا بھی وہی حال ہے جو سانحہ ماڈل ٹاوٴن یا کسی ریلوے یا فضائی حادثے کی انکوائری رپورٹ کا ہوتا ہے۔ اسحاق ڈار نے کالادھن سفید کرنے کی سکیمیں بنائیں۔

کس کیلئے اور کیوں۔ این آر او بنا کس کیلئے اور کیوں؟ پلی بارگین کی بدعت کو کس نے متعارف کرایا؟ چیئرین سینٹ کا کھلا خط شائع ہواہے کہ احتساب کے ادارے حکومتی دباوٴ اور سیاسی انتقام کیلئے استعمال ہو رہے ہیں۔ عمران تھک ہار کر یہ کہنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ وہ پانامہ لیکس پر زرداری کی سربراہی میں اکٹھے ہو سکتے ہیں۔ دیکھیں 2017ء میں کون سی نئی بات سامنے آتی ہے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

2017 Ka Pakistan is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 04 January 2017 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.