عادت کی قوت

عادت اس خودکار عمل کو کہتے ہیں جسے انسان اپنی زندگی کے روزمرّہ معامالات کو انجام دینے کے دوران اختیار کرتا ہے

جمعرات اکتوبر

Adat Ki Quwat
تحریر: سید عالم شاہ

میری عادت ہے اُسکو یاد کرنا،  میں ہر عادت بدلنا چاہ رہا ہوں
خدارا ، اب نہ مجھکو یاد آئو،  میں اب کچھ کچھ سمبھلتا جا رہا ہوں !
                                                                          (سید عالمؔ شاہ)                    
عادت اس خودکار عمل کو کہتے ہیں جسے انسان اپنی زندگی کے روزمرّہ معامالات کو انجام دینے کے دوران اختیار کرتا ہے
یہ ایک ایسا عمل ہے جو انسان بغیر سوچے سمجھے لاشعوری طور پر انجام دیتا ہے۔

یعنی وہ کام جو خود کار عمل کے تحت کیا جائے   اوراس کام کو کرنے کے لئے زیادہ سوچنا نہ پڑے  اور نہ ہی اس عمل کو انجام  دینے کیلئے زیادہ محنت کرنی پڑے۔

(جاری ہے)

بعض اوقات انسان کسی مخصوص عادت یا عادات کو شعوری طور پر اپنی زندگی کا حصہ بناتا ہے اور اکثر اوقات یہ خود بہ خود ہی بنتی چلی جاتی ہے۔ ہر عادت اپنے اندر ایک قوت رکھتی ہے جو ہماری زندگی پر ہر لمحہ اثر انداز ہوتی رہتی ہے۔


عادتیں دو قسم کی ہوتی ہیں ، اچھی اور بری۔  اچھی عادتیں وہ ہوتی ہیں جنہیں اپنانے سے انسان کی خود کی ذات اور معاشرے پر اچھے اثرات مرتب ہوں اور بری عادتیں وہ ہوتی ہیں جن سے انسان کی خود کی ذات اور معاشرے پر منفی اثرات پڑیں۔
بعض عادتیں کمزور ہوتی ہیں جنہیں ہم آسانی سے چھوڑ بھی دیتے ہیں لیکن بعض عادتیں اتنی زیادہ مضبوط ہوتی ہیں کہ وہ اپنے اختیار کرنے والے کی زندگی کو تباہ و برباد کردیتی ہیں۔

آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ فلاں شخص ہیروئن کی عادت کا شکار ہو کر آخر کارجوانی میں ہی موت کا شکار ہو گیا۔ یا یہ کہ فلاں شخص اپنی گالی دینے کی عادت کی وجہ سے محلے میں بدنام ہے۔
ہم دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہماری پوری زندگی اچھی اور بری عادتوں کا مجموعہ ہوتی ہے اور یہ اچھی اور بری عادتیں ہماری زندگی کو سنواتی ہیں یا بگاڑتی ہیں۔

ہم اپنی عادتوں کے غلام ہوتے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم کیسے اپنی بری عادتوں سے چھٹکارا پائیں اور اسکی جگہ نئی اور صحت مند عادتیں اپنائیں اس سلسلے میں مختلف قسم کی نفسیاتی تکنیک اختیار کرکے ہم مطلوبہ نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔  
آئئے ہم ان طریقوں کا جائزہ لیتے ہیں۔
سب سے پہلے ایک صفحے پر پنسل سے پانچ کالم بنائیں صفحے کے دائیں جانب سے سب سے پہلے وہ عادتیں تحریر کریں جنہیں آپ اپنانا یا چھوڑنا  چاہتے  ہیں دوسرے کالم میں  ان عادتوں کےفوئد تحریر کرتے جائیں تیسرے کالم میں انکے نقصانات چوتھے کالم میں ان مخصوص عادتوں کو شروع کرنے یا چھوڑنے کے  دن کا آغاز یعنی تاریخ درج کریں اور آخری کالم میں یہ لکھیں کہ اس عادت کو اپنانےیا چھوڑنے  میں تقریباً کتنے دن درکار ہو سکتے ہیں۔


یاد رہیے کہ کچھ ماہرین کے مطابق ایک نارمل انسان ایک نئی عادت کو 18 سے 21 دنوں میں اپنا لیتا ہے، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ انسان تقریباً 40 سے 60 دنوں میں ایک نئی عادت بنا لیتا ہےاور پرانی عادتوں سے چھٹکارا پا لیتا ہے۔ اسکا تعلق انسان کے اپنے زہنی حالت پر بھی منحصر ہے اگر کسی شخص کا ول پاور بہت ہی مضبوط ہے تو ایسا شخص کسی نئی عادت کو جلد اپنا لیتا ہے جبکہ کمزور ول پاور والے خواتین و حضرات کو نئی عادت کی شروعات کرنے میں کافی دن درکار ہونگے۔


درج ذیل ٹپس آپکو جلد نئی عادت اپنانے اور پرانی عادتوں سے چھٹکارے کے سلسلے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہیں:
1- مطالعہ کریں:
سب سے پہلے آپ کوئی اچھی عادت اپنانے یا بری عادتوں سے چھٹکارا پانے کے جتنے بھی طریقے ہیں انکا بغور مطالعہ کریں اس سلسلے میں مختلف کتابوں، رسالوں کی تحریروں کو کچھ دنوں تک پڑھیں،   انکا باریک بینی سے مطالعہ کریں۔


اس سلسلے میں آپ انٹرنیٹ سے بھی مدد حاصل کر سکتے ہیں جہاں آپکو کئی لکھاریوں کی کتابیں مفت مل جائینگی۔
2- سوچیں اور ایک پلان ترتیب دیں
اپنے فارغ اوقات میں اپ اس عادت کے بارے غور کریں کہ وہ عادت آپکو کس طرح اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہے اوراس عادت کے اپنانے میں آپکو کون کون سے فوائد حاصل ہونگے ایسا کرنے سے آپکا دماغ اس نئی عادت کو اپنانے کے لئے راضی ہوتا جائے گا پھر ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ اگر آپ اس نئی عادت کے بارے میں سستی سے کام لیں گے تو اپکا دماغ آپکواس عادت کے اختیار کرنے یا چھوڑنے کے فوائد و نقصانات یاد دلاتا رہے گا۔


3- اپنے گھر والوں کو آگاہ کریں:
اس نئی عادت کے بارے میں آپ اپنے گھر والوں کو آگاہ کریں ایسا کرنے سے آپکے گھر والے اس نئی عادت کو اپنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں مثلاً اگر آپ صبح دیر سے اٹھنے کے عادی ہیں اور آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ صبح جلدی اٹھیں اور آپ اس قدر سست ہیں کہ گھڑی یا موبائل الارم بھی آپ کا کچھ نہ بگاڑ سکے تو ایسی صورت میں گھر والے آپکی مدد کر سکتے ہیں، انہیں آپ اجازت دیں کہ وہ پانی کے چھینٹوں کے زریعے آپ کو اٹھنے میں مدد کریں !
4-  دورانیہ بڑھائیں:
دورانیہ بڑھانے سے میرا یہ مطلب ہے کہ اگر وہ عادت جسکے آپ شکار ہیں اسکو انجام دینے کا دورانیہ تھوڑا تھوڑا کر کے بڑھاتے جائیں تو  آپکو اس عادت سے چھٹکارا حاصل ہو سکتا ہے مثلاً اگر آپ  ہر ایک گھنٹے بعد ایک سیگریٹ پیتے ہیں تو آپ اسکا دورانیہ بڑھا کر دو گھنٹے کر لیں اور پھر ایک دو دنوں کے بعد چار گھنٹے ، چھ گھنٹے۔


5-  اپنے دماغ کو کم دنوں کا  ٹاکس دیں:
آپ اپنے آپ کو یہ باور کرائیں کہ آپ فلاں کام صرف ایک ہفتے کے لئے ملتوی کر رہے ہیں ایک ہفتہ پورا ہونے کے بعد آپ اس کام کو انجام دیں پھر اسی طرح اب اپنے دماغ کو دو ہفتوں کا ٹاکس دیں، اس طرح دورانیہ بڑہاتے جائیں۔
6-  رد  و  بدل سے کام لیں:
جب آپ کسی بھی عادت کا شکار ہوتے ہیں تو  آپکا دماغ اس کام کو اس مخصوص وقت پر کرنے کے لئے آپکو مجبور کرتا رہتا ہے مثلاً اگر آپ ہر ایک یا ڈیڑہ گھنٹے بعد ایک سیگریٹ پینے کے عادی  ہیں تو  آپکا دماغ ہر ایک یا ڈیڑھ گھنٹے بعد آپکو یہ سگنل دیگا کہ سیگریٹ پینے کا وقت ہو چکا ہے اگر ٹھیک اسی وقت جب آپکو سگریٹ پینے کی طلب ہو آپ چیونگم چبانے لگ جائیں تو آپ کی سیگریٹ پینے کی خواہش میں کمی آ جائے گی ۔

اور آپ کسی حد تک اپنے دماغ کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جائنگے۔
7- اپنا ماحول تبدیل کریں
کہتے ہیں کہ ہر انسان اپنے ارد گرد پائے جانے والے لوگوں کاآئنہ دار ہوتا ہے،  یعنی ہر بچہ پیدا ہونے کے بعد سب سے پہلے اپنی ماں پھر گھر کے دیگر افراد سے سیکھتا چلا جاتا ہے پھر جب وہ اسکول، مدرسہ جانے کے قابل ہوتاہے تو وہ اپنے ساتھی طالب علموں سے اور جب وہ عملی اور پیشہ وارانہ زندگی میں قدم رکھتا ہے تو اپنے دیگر ساتھیوں کے عادات و اطوار اپناتا چلا جاتا ہے۔

غرض ہر انسان اپنے ارد گرد کے ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
اسی لئے بعض عادتیں جو ہم ماحول سے سیکھتے ہیں (جیسا کہ نشے کی عادت)  علاج کروانےکے ساتھ ساتھ ماحول تبدیل کرنے سے اس بری عادت کو چھوڑنے میں مدد حاصل ہوجاتی ہے۔
8-  ویجوئلائز یشن ٹیکنیک سے کام لیں:
اس نئی عادت کے بارے میں آپ ویجوئلائز ٹیکنیک سے بھی کام لے سکتے ہیں اس ٹکنیک میں وہ کام جو آپ کرنا چاھتے ہیں اسکے بارے میں آنکھیں بند کرکے خیال کریں کہ وہ عادت آپ اپنا چکے ہیں اور اسکے نتیجے میں آپ کو مطلوبہ فوائد حاصل ہو رہے یں اور آپ بہت خوش ہیں۔


9-   افرمیشن ٹیکنیک سے کام لیں:
اس نئی عادت کے بارے میں آپ اس ٹیکنیکس سے بھی کام لے سکتے ہیں۔  آپ اپنے زہن میں ایک جملہ ترتیب دیں اور اس جملے کو آپ سوتے ہوئے یا صبح کے وقت کئی بار تکرار کریں مثلاً میں صبح 6 بجے اٹھتا ہوں،  یا میں مرغن غذائوں سے پرہیز کرتا ہوں وغیرہ۔
ویجوئلازیشن    اور افر میشن تکنیک  نئی عادتوں کو اپنانے کے سلسلے میں بہت ہی کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔


10-  دیوار پر کا غذچسپاں کریں:
ایک بڑے سائز کے کاغذ پر آپ اس نئی عادت کے بارے میں لکھ کر اپنے بیڈ کے نزدیک دیوار پر چسپاں کر دیں ایسا کرنے سے آپ جیسے ہی صبح اٹھیں گے وہ تحریر آپکو اس نئی عادت کے بارے میں ریمائنڈ کراتی رہے گی۔
11-  سزا  اور جزا کا قا نون اپنائیں:
  سزا اور جزا کا قانون اپنانے سے بھی آپکو مدد مل سکتی ہے مثلاً اگر آپ کوئی اچھی عادت اپنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں یا کسی پرانی اور بری عادت کو چھوڑنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو ایسی صورت میں آپ اپنے آپ کو شاباشی دیں ، ناکامی کی صورت میں ایک وقت کا کھانا ترک کریں وغیرہ وغیرہ۔

کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ:
“Accountability breeds responsibility”
12-  صورتِ حال کا جائزہ لیں اور اسے تحریرکریں:
 آپ ایک نوٹ بک میں ہر روز کی صورتحال تحریر کریں کہ آپکو آج کے دن کتنی کامیابی یا ناکامی ملی ایسا کرنے سے آپکو ہر دن کی  گئی کوششوں کے نتائج  کے بارے میں آگاہی ملتی رہے گی۔  
13-  کبھی مایوس نہ ہوں
انسان کمزور ہے، غلطی کا پُتلا ہے اسےنہ چاہتے ہوئے بھی کبھی کبھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن وہ انسان جو اپنی ناکامیوں سے سیکھتے ہیں وہی آخر کار کامیاب ہوتے ہیں۔ لہٰذاگر کبھی اس سلسلے میں وقتی  ناکامی کا سامنا کرنا پڑے تو ہمت نہ ہاریں اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہیں۔!

متعلقہ مضامین :

Your Thoughts and Comments

Adat Ki Quwat is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 10 October 2019 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.