بھارت، روس عسکری تعلقات

پاکستانی پالیسی سازوں کاامتحان

منگل جنوری

Bharat Roos Askari Talluqaat
بلال اے شیخ :
حال ہی میں بھارتی وزیراعظم نے روس کاایک اور کامیاب دورہ کیاہے جس میں روس سے کاموف گن شب ہیلی کاپٹرزکی خریداری، آکولا(Akula) آبدوزوں، ایس۔ 400ائیر ڈیفنس سسٹم اور جدید طیاروں کی خریداری پر کامیاب بات چیت ہوئی ہے۔ بھارتی فوج جو اس وقت اپنے فرسودہ آلات کی وجہ سے شدید دباؤ کاشکار ہے، کیلئے یقینا یہ ایک بڑی خبر ہے۔

سودیت یونین سے بھارتی تعلقات 1950ء سے شروع ہوئے۔ چین اور سوویت یونین کے تعلقات اس دورمیں بہت قریبی تھے۔ جب چین اور بھارت کاسرحدی تنازعہ شروع ہوا تو سوویت یونین نے مختلف پوزیشن لی جویقینا چین کیلئے قابل قبول صورتحال نہ تھی کیونکہ چین اور سوویت یونین امریکی بلاک کے خلاف اکٹھے تھے۔ سوویت یونین نے بھارت کومعاشی اور دفاعی مدددی بلکہ مگ 21طیاروں کی مشترکہ تیاری کابھ پیکیج دیاجس سے چین کوسوویت یونین کی طرف سے انکارکیاہوچکا تھا۔

(جاری ہے)

اس کے بعد 1971ء کی جنگ میں سوویت یونین نے بھارت کابھرپور ساتھ دیااور یوں بھارت کوعسکری طور پر مظبوط بنانے میں روس نے اہم کرداراداکیا۔ بھارت اور روس کے بڑھتے ہوئے تعاون میں اگرچہ پاکستان نہیں آتالیکن بھارت کی دوہری پالیسیاں اور فوجی طاقت کاجنون یقینا پاکستان کے پالیسی سازوں کیلئے امتحان ہے۔ سوویت یونین کے خاتمہ کے چند سال تک روس اندرونی شورش کاشکارتھا لیکن اس کے باوجود بھارت کے ساتھ ہرطرح کا تعاون جاری رکھا گیا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے بھی بھارت کے ساتھ مددتعاون کی بہت کوشش کی لیکن بھارت کاہتھیاروں کی خریداری کیلئے روس سے رجوع کرنے کی بڑی وجہ امریکہ اور یورپ کا بھارت کوبڑے پیمانے پرمہلک ہتھیار فراہم نہ کرنا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ بھارت میں امریکی اور یورپی ہتھیاروں کیلئے مئوثر سیٹ اپ سرے سے موجود نہیں۔

بھارتی فوج زیادہ تر روسی، فرانسیسی اور سویڈیش ہتھیار استعمال کرتی آئی ہے لیکن ان ہتھیاروں کو بھی وہ زیادہ کامیابی استعمال کرپائی۔ دوسری اہم وجہ ہتھیاروں کی ٹیکنالوجی میں واضح فرق ہے۔ بھارتی جوہتھیار پسند کرتے ہیں اس کی ٹیکنالوجی بھی خریدنے کے خواہش مندہیں جس کیلئے امریکہ اور یورپ تیار نہیں۔ تیسری بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارتی جو ہتھیار خریدنے کے خواہش مند ہیں وہ امریکہ بھارت کو فروخت کرنانہیں چاہتا۔

مثلاََ بھارت، امریکہ کے نئے اور جدید طیاروں میں حصہ داربننا چاہتا ہے جو امریکیوں کومنظور نہیں۔ برطانیہ نے یوروفائیڈ پروجیکٹ میں بھی بھارت کوشامل نہیں کیا تھا اور فرانس نے رافیل طیاروں کی ٹیکنالوجی بھارت کوفراہم کرنے سے معذرت کرلی تھی۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارت کووسیع پیمانہ پر روسی ٹیکنالوجی فراہم ہونے کے باجود بھارت ہتھیاروں کی تیاری میں ملکی طور پر کامیاب نہیں ہوسکا۔

ہندوستان ائیروناٹیکس 70ء کی دہائی سے مگ 21 اور مگ 23طیاروں کواوورہال اور مینوفیکچرنگ کرتا آیاہے۔ اس کے علاوہ 27اور مگ 29کی اوورہالنگ اور مینو فیکچرنگ بھی ملکی طور پر کی گئی لیکن اس کے باوجود ملکی طور پر ہلکے لڑاکا طیارہ کاپروجیکٹ بھارت میں اربوں روپے خرچ کے باوجود کام ہوابلکہ یہ بھی ایک مضحکہ خیزحقیقت ہے کہ اس طیارہ کی تیاری میں امریکہ، فرانس اور اسرائیل سے بھی مددلی گئی لیکن یہ طیارہ خود بھارتی فضائیہ نے مسترد کردیا۔

اسی لیے ایس یو 30 طیارہ خریداگیا۔ روس نے سخوئی ایف اے کی ٹیکنالوجی آفرکی ہے سخوئی ایس یو 30ایم کے 230طیارے بھارت کو فراہم کیے جائیں گے اور تمام مگ 21طیارے فارغ کردئیے جائیں گے۔ ٹی یو 22ایم بمبار طیارے آرڈرکردیے گئے ہیں۔ مگ 29طیاروں کو مکمل طور پر اپ گریڈکیاجائے گاجو بھارت کی ملکی فضائی صنعت کی ناکامی کامنہ بولتا ثبوت ہے۔ بھارتی بحریہ کے طیارہ بردارجہاز، وکرانت، پر مگ 29فراہم کئے جائیں گے۔

آکولا (Akula) ایٹمی آبدوزفراہم کی جائے گی۔ اسی طرح جدیدترین کاموف کے اے 226جدید ترین گن شپ ہیلی کاپٹر فراہم کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ 80 جدید ترین ہیلی کاپٹرزاور ٹرانسپورٹ طیارے بھی فراہم کئے جائیں گے۔ بھارت ملکی طور پرہیلی کاپٹربنانے کاناکام پراجیکٹ بھی چلاچکاہے۔ آبدوزوں کی خریداری کی وجہ یہ ہے کہ بھارتی ملکی طورپر روایتی آبدوز بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکا اور اس وقت تقریباََ سبھی آبدوزیں بھارتی بحریہ میں آپریشنل نہیں ہیں۔

بھارتی ساختہ ٹینک، ارجن، کے تمام فیلڈٹسٹ ناکام ہونے کی وجہ سے بھارتی فوج اس کومسترد کر چکی ہے اسلئے روس سے ٹی90 ٹینک خریدے گئے۔ اسی طرح بھارتی فوج کیلئے تیارکیاجانے والا برہموس کروز میزائل کئی سالوں کی تیاری کے باوجود ابھی تک کامیاب پرواز نہیں کرسکا۔ روس بھارت سے وسیع پیمانے پر مصنوعات خریدکراُس کی معیشت کوخوب سنبھالا بھی دے رہا ہے۔

اس وقت روس سالانہ 3ارب ڈالرکی مصنوعات بھارت سے خریدتاہے جس میں تمباکو، ادویات۔ لوہا، کافی سٹیل۔ چائے۔ گاڑیاں، کپڑا، اُون، ہلکی مشینری۔ خوراک اور الیکٹرانک آلات شامل ہیں۔ روس کی فر میں بھارت میں تیل اور گیس کی تلاش میں مدد کررہی ہیں۔ بھارت نے امریکہ کے ساتھ سول ایٹمی معاہدہ بھی کیاہے جبکہ روس کے ساتھ ایٹمی تعاقن جاری ہے۔ روس کے اندرونی مسائل خصوصاََ معاشی مسائل بہت اہمیت کے حامل ہیں۔

یورپ اور امریکہ کی طرف سے سردمہری اور روس کے ہمسایہ ممالک میں دوبارہ سے دراندازی جیسے مسائل نے روسی قیادت کے لئے نئے امتحانات پیداکئے تھے۔ اسی طرح داعش کے مسئلہ میں روس کی شام میں آمد نے امریکہ اور یورپ کیلئے نئی سوچ کوجنم دیالیکن پیوٹن کاجارحانہ رویہ امریکہ اور یورپ کیلئے پریشانی کا سبب ہے۔ خلیجی ممالک میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات روس سے سخت ناراض ہیں کیونکہ شام اور یمن میں روسی براہ راست ملوث ہیں جبکہ ایران کے ساتھ روس کے قریبی تعلقات پہلے ہی خلیجی ممالک کوکھٹکتے ہیں ایسے میں بھارت نے روس کو شام اور پھرترکی کے طیارہ مارگرانے پراپنی تشویش کااظہار کیاہے اور روس کوہرطرح کے تعاون کابھی یقین دلایا ہے۔

ایسی صورتحال میں امریکہ اور یورپ کے لیے بھارت ایک سوالیہ نشان ہے دوسری طرف خلیجی ممالک نے بھارت کی طرف جو نرم رویہ اپنایا تھا اُس پرنظر ثانی کی بہر حال ضرورت ہے۔ افغانستان میں بھارت اپناکرداراداکرنے کیلئے بہت ہاتھ پاؤں ماررہاہے جس میں یقینا اسے روس کی بھی آشیربادحاصل ہے۔ امریکہ چین اور پاکستان افغانستان میں امن کیلئے جوکام کررہے ہیں یقینا بھارت اور روس اپنے مفاد میں خیال نہیں کریں گے۔ پاکستان نے اگرچہ روس سے بھی اپنے تعلقات بہتربنائے ہیں لیکن سیاسی اور معاشی مفادات خارجی تعلقات پرتیزی سے اثرانداز ہورہے ہیں۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Bharat Roos Askari Talluqaat is a political article, and listed in the articles section of the site. It was published on 12 January 2016 and is famous in political category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.