بجلی کے بل میں کمی لائی جا سکتی ہے

موسم گرما میں شدت آتے ہی بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہو جاتا ہے

پیر اگست

Bijli K Billoon Main Kaami Layi Ja Sakti Hai
مشکور الرحمن
راحیل آج آفس میں بڑا ایکٹیو دکھائی دے رہا تھا ہر کام سلیقے اور قرینے سے کر رہا تھا۔پانچ بجتے ہی وہ آفس سے نکلا اور ٹریفک کے جھمیلوں سے ہوتا ہوا گھر پہنچا۔ارے یہ کیا ہوا․․․؟بجلی چلی گئی۔اسے اپنے دوست ریحان کی شادی میں وقت سے کچھ پہلے جانا تھا تاکہ وہ تقریب کے انتظامات کو دیکھ سکے۔ایک گھنٹہ․․․ دو گھنٹے،تین گھنٹے بھی گزر گئے مگر بجلی نہ آئی۔

اب راحیل اپنے آپ کو کوس رہا تھاکہ کاش میں پہلے ہی جانے کی تیاری کر لیتا۔ٹنکی میں پانی بھی نہیں تھا،بجلی آئے گی،موٹر چلے گی تو ٹنکی میں پانی آئے گا۔کپڑوں پر استری بھی نہیں کی تھی۔دوسری جانب راحیل کے والد کا پارہ چڑھا ہوا تھا۔اتنی گرمی ہے اور بجلی چار چار گھنٹوں کے لئے بند کر دیتے ہیں کوئی خوف خدا نہیں اور بجلی کا بل اتنا آتا ہے کہ اسے چھوتے ہی کرنٹ لگ جاتا ہے۔

(جاری ہے)


بجلی کی دریافت سے زندگی میں بہت سی آسانیاں آئی ہیں۔یہ اٹھارویں صدی کی ایک عظیم دریافت ہے جسے پہلے صرف بلب روشن کرنے کے لئے استعمال کیا جا تا تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ آج یہ ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن گیا ہے اور اس کے ذریعے زندگی سہل کرنے والی اشیاء کی گنتی کرنا تقریباً نا ممکن ہے۔بیجمن فرینکلن،مائیکل فریڈی اور تھامس ایڈیسن جیسے سائنس دان جنہوں نے بجلی کی دریافت میں اہم کردار ادا کیا آج ان کی اس وجہ سے دنیا کا نظام چل رہا ہے کروڑوں لوگوں کو روزگار مل رہا ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بجلی کی قیمت اتنی بڑھ چکی ہے کہ لگتا ہے کہ آئندہ سالوں میں یہ عام لوگوں کی پہنچ سے دور ہو جائے گی۔


موسم گرما میں شدت آتے ہی بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔شہروں اور دیہات میں کئی گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔اس لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے کئی لوگ چڑچڑے اور جھنجھلاہٹ میں رہنے لگے ہیں۔اس وقت پاکستان کو توانائی بحران کے مسائل کا سامنا ہے۔بجلی کی پیداوار کے بہت سے منصوبوں پر کام جاری ہے۔لیکن چونکہ اس میں وقت لگ سکتا ہے،اس لئے ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم کسی حد تک توانائی کو ضائع ہونے سے بچائیں اور ایک ذمہ دار شہری ہونے کا فریضہ ادا کریں۔

یہاں تذکرہ کیا جا رہا ہے کہ بجلی کیسے بچائی جائے اور کیا بجلی کے بل میں کمی ممکن ہے ․․․؟اس کا جواب ہے جی ہاں․․․تھوڑی سی توجہ سے گھریلو ایپلائنیز کا بہتر استعمال کرتے ہوئے بجلی کے بل میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
فینٹم لوڈ
فینٹم لوڈ Phantom Load کی اصطلاح اس ضائع ہونے والی بجلی سے متعلق استعمال کی جاتی ہے ،جو در حقیقت استعمال میں نہ آنے کے باوجود پلگ لگے رہنے کی صورت میں ضائع ہوتی ہے،جیسے کہ جو سر بلینڈر استعمال کرنے کے بعد صرف سوئچ بند کر دینا اور پلگ لگا چھوڑ دینا۔

موبائل چارج کرتے وقت اکثر یہ غلطی ہوتی ہے کہ یہ چارجر کو ساکٹ میں لگا رہنے دیا جاتا ہے اور سوئچ آف نہیں کیا جاتا۔موبائل چارجر کا سوئچ آف نہ کیا جائے تو بھی وہ بجلی استعمال کرتے رہتے ہیں اور روزانہ تقریبا ً دو واٹ بغیر موبائل چارج کے بجلی ضائع کر دیتے ہیں۔دو واٹ بجلی اتنی مہنگی نہیں ہے کہ اکثر لوگ کی پرواہ کریں لیکن اگر تین کروڑ لوگ موبائل چارجر استعمال کر رہے ہوں تو روزانہ تقریباً چھ ہزار کلو واٹ بجلی بغیر استعمال کے ضائع کر رہے ہیں جو کہ ایک بڑا قومی نقصان ہے۔

امریکا کے شعبہ توانائی کے مطابق تقریباً 75فیصد گھروں میں زائد بجلی اسی وجہ سے خرچ ہوتی ہے کہ جب آلات کے سوئچ بند ہونے کے باوجود ان کے پلگ لگے رہیں۔
ریموٹ کنٹرول
اکثر برقی مصنوعات بند ہونے کے بعد بھی بجلی کا استعمال جاری رکھتی ہیں خاص طور پر وہ مصنوعات جنہیں چلانے کے لئے ریموٹ کنٹرول استعمال ہوتا ہے،ڈیجیٹل ٹی وی اب تقریباً ہر گھر میں موجود ہے۔

عام طور پر اسے ریموٹ سے آف کر دیا جاتا ہے مگر اس کا سوئچ آف نہیں کیا جاتا۔ریموٹ سے آف کرنے کے بعد ایسی ایپلائینز اسٹینڈ بائی موڈ پر چلی جاتی ہیں اور ان میں بجلی کا استعمال جاری رہتا ہے۔ڈیجیٹل ٹی وی اسٹینڈ بائی موڈ پر روزانہ رکھنے سے تقریباً 22سے 25 واٹ بجلی کھینچ لیتا ہے اور اس کا سوئچ آف کر دیا جائے تو ماہانہ تقریباً ایک کلو واٹ کے لگ بھگ بجلی بچائی جا سکتی ہے۔


لیپ ٹاپ اور ڈسک ٹاپ
ایک لیپ ٹاپ کمپیوٹر ڈسک ٹاپ کمپیوٹر سے تقریباً آدھی بجلی استعمال کرتا ہے۔اگر ڈسک ٹاپ اور لیپ ٹاپ کو سلیپ موڈ میں چلتا چھوڑ دیا جائے تو یہ بند نہیں ہوتے بلکہ مسلسل بجلی استعمال کرتے رہے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق ایک لیپ ٹاپ سلیپ موڈ تقریباً 96 واٹ سے زیادہ بجلی روزانہ ضائع کرتا ہے یعنی تقریباً 3 کلو واٹ ماہانہ بجلی کے بل میں اضافہ کرتا ہے۔


راؤٹر اور موڈیم
انٹرنیٹ کے کنکشن کے لئے تمام گھروں میں موڈیم اور راؤٹر کا استعمال ایک عام بات ہوتی جا رہی ہے۔جس کا سوئچ ہر وقت لگا رہتا ہے اور چاہے اس کے ساتھ کوئی ڈیوائس کنکٹ ہو یا نہ ہو اس کا سوئچ آن رہتا ہے اور بجلی کا ستعمال جاری رہتا ہے۔اس لئے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جب اس کا استعمال نہ ہو رہا ہو خصوصاً!رات کو سونے کے وقت تو پاور سوئچ کو بند کر دینا چاہیے۔


ٹائمر ایپلائینز
مائیکرو ویو،اے سی یا وہ ایپلائینز جن میں ٹائمر میٹر وغیرہ چلتے رہتے ہیں اسٹینڈ بائی موڈ پر روزانہ تقریباً 106 واٹ سے زیادہ بجلی ضائع کر دیتے ہیں ۔عام طور پر لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے بہت محدود مقدار میں بجلی ضائع ہوتی ہے لیکن اگر گھی کی ایسی تمام اشیاء کو گنا جائے اور احتیاط کی جائے تو بجلی کے بل میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے ۔

اگرپوری قوم اس بات پر توجہ دے تو بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
بلب اور پنکھے
 اس بات کا خیال رکھیں کہ کسی کمرے میں بلا ضرورت لائٹ یا پنکھا نہ چل رہاہو ۔جب آپ کمرے سے باہرنکلیں تو بھی برقی آلات بند کر دیں۔عام پنکھا تقریباً 120 واٹ کا ہوتا ہے ،فالتو چلنے سے بجلی کے بل میں بھی اچھا خاصا اضافہ ہو جاتا ہے۔عام بلب یا ٹیوب لائٹ کے مقابلے میں انرجی سیور بہت کم بجلی استعمال کرتے ہیں۔

اگر آپ ابھی بھی عام بلب یا ٹیوٹ لائٹ استعمال کرتے ہیں تو انہیں فوراً تبدیل کیجئے۔برقی آلات خریدتے وقت ایسے اپلائنسز خریدیں،جو کم سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں،ایک عام بلب کی جگہ ایل ای ڈی بلب اور انرجی سیور بجلی کی بچت میں نمایاں بہتری لاتا ہے۔اگر عام بلب ماہانہ ایک ہزار روپے کی بجلی خرچ کرتا ہے تو ایل ای ڈی میں یہ اوسط تین سے چار سو روپے ہو گی یعنی چھ سو فیصد بچت۔


ایئر کنڈیشنر کا کم استعمال
آج سے چند سال قبل تک ایئر کنڈیشنر صرف امیر کبیر گھرانوں کے پاس ہوتا تھا،لیکن اب تو لاکھوں گھروں میں اس کا استعمال شروع ہو گیا ہے۔ایئر کنڈیشنر بھی لوڈ شیڈنگ میں اضافے کا باعث ہیں۔اگرAC کا استعمال کم کر دیں،توانائی بحران کے حل میں مدد مل سکتی ہے اور بل بھی قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔سیلنگ فین یا پنکھا ایک کمرے کا درجہ حرارت 10 ڈ گری تک کم کر دیتا ہے۔

اس کے لئے وہ جتنی بجلی خرچ کرتا ہے وہ ایئر کنڈیشنر سے 90 فیصد کم ہوتی ہے۔ایئر کنڈیشنر چلتے وقت دروازے اور کھڑکیاں بند رکھے جائیں تاکہ تھرموسٹیٹ بار بار آن آف نہ ہو جس سے کمپریسر زیادہ بجلی خرچ کرتا ہے۔بجلی کی بچت کے لئے ایئر کنڈیشنر کی سروس سال میں کم از کم ایک مرتبہ ضروری ہے۔اس سے اے سی کی کارکردگی بہتر رہتی ہے اور بجلی کم خرچ ہوتی ہے۔


پانی کا کفایت شعار استعمال
آج کل اکثر گھروں میں چھت پر پانی کی ٹینکیاں رکھی ہوتی ہیں جسے پمپ کے ذریعے بھرا جاتا ہے۔آپ پانی احتیاط سے استعمال کریں گے تو آپ کا پانی کا پمپ بھی کم چلے گا۔ایک اندازے کے مطابق نصف درجن پر مشتمل گھرانہ روزانہ 200 گیلن پانی صرف کرتا ہے جس میں سے نصف سے زائد پانی واش روم میں بہا دیا جاتا ہے۔
ریفریجریٹر کا مناسب استعمال
ٹھنڈے پانی کے لئے ریفریجریٹرکا دروازہ بار بار کھولنے کی بجائے واٹر کولر کا استعمال کریں۔

ہر بار ریفریجریٹر کا دروازہ کھولنے سے ایک آدھ ڈگری درجہ حرارت ضائع ہو جاتا ہے۔بازار سے مناسب سائز کا واٹر کولر لے لیں،اس میں ٹھنڈا پانی ڈال کر استعمال کرتے رہیں۔ اس سے ریفریجریٹر کو بھی آرام ملے گا۔اگر آپ کو بازار سے تازہ سبزیاں،گوشت با آسانی مل جاتی ہیں تو اپنے ریفریجریٹر کو خواہ مخواہ ان اشیاء سے نہ ٹھونسیں۔گرم کھانوں کو رکھنے پر فریج کو دیر تک اور زیادہ تیزی سے کام کرنا پڑتا ہے۔

آسان الفاظ میں آپ کا فریج ان گرم پکوانوں کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کے لئے زیادہ بجلی خرچ کرنے لگتا ہے جو بل میں بے پناہ اضافے کی شکل میں سامنے آتا ہے۔اس کا حل یہ ہے کہ اپنے گرم کھانوں کو پہلے کچن میں ہی ٹھنڈا کریں۔اس کے بعد فریج میں رکھ دیں۔
استری اور واشنگ مشین
استری کرتے وقت ملبوسات کی ترتیب لگا لیں،پہلے ان کپڑوں کو استری کیجئے جن میں زیادہ حرارت درکار ہوتی ہے،بعد میں عام کپڑوں کو استری کیجئے۔

اگر آپ کے پاس وقت ہے تو کپڑوں کو واشنگ مشین کی بجائے ہاتھ سے دھوئیں۔گرمیوں کے ملبوسات ہلکے پھلکے ہوتے ہیں،جھاگ بنا کرکپڑوں کو ڈبو دیں اور دس پندرہ منٹ بعد کھنگال لیجئے۔اسی طرح کپڑے دھونے کے بعد سکھانے کے لئے واشنگ مشین کے ڈرائیر کا استعمال نہ کریں اور دھوپ میں پھیلا دیں۔
لیونگ روم
گھر میں زیادہ دیر استعمال میں رہنے والا کمرہ بیٹھک (Living Room) ہوتا ہے ،اس لئے اگر آپ توانائی کی بچت کرنا چاہتے ہیں تو سب سے زیادہ اسی پر توجہ دیں۔

دن کے وقت پاکستان کے تقریباً تمام حصوں میں قدرتی روشنی وافر مقدار میں ہوتی ہے۔بیٹھک کے کمرے کو اس طرح ڈیزائن کریں کہ قدرتی روشنی اور ہوا با آسانی پہنچے۔
کام کاج کے اوقات
رات کو جلدی سونا اور صبح جلدی اٹھنا ایک سنہری اصول ہے جس کے بے شمار فائدے ہیں۔دیگر فوائد کے علاوہ سورج کی روشنی کا بھر پور استعمال بہت مفید ہے۔اگر ہم بحیثیت قوم خریداری دن کی روشنی میں کر لیں اور مارکیٹیں شام کو بند ہو جائیں تو تقریباً 1200 میگاواٹ بجلی کی بچت ہو سکتی ہے جس سے بجلی کا شارٹ فال کم ہونے سے لوڈ شیڈنگ نصف رہ جائے گی۔


موشن سینسر کا استعمال
اگر آپ کے گھر والے کسی لائٹ کو بند کرنے کی زحمت نہیں کرتے تو اس کا بہتر حل موشن ڈیٹیکٹرز کا استعمال ہے،بازار میں بڑی دکانوں سے یہ عا م جاتے ہیں۔یہ سینسر اُسی وقت کام کرتے ہیں جب کوئی کمرے میں موجود ہو اور کمرے میں کسی کے نہ ہونے پر روشنی بند کر دیتے ہیں، اس طرح کے سینسر سے لائٹ کے ذریعے ضائع ہونے والی 30 فیصد تک بجلی کی بچت کی جاسکتی ہے جو بل میں نمایاں کمی لاتی ہے۔بجلی ہماری سہولت اور روزگار کے لئے ضروری ہے۔اس لئے بجلی بچائیے․․․بل گھٹائیے۔

متعلقہ مضامین :

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

Bijli K Billoon Main Kaami Layi Ja Sakti Hai is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 24 August 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.