کرونا، ویک اپ کال

ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہر گزرتے وقت کی ساتھ ساتھ انسان کائنات کے معاملات کی کھوج کرتے کرتے اتنا آگے نکل چکا ہے کہ اس باؤنڈری کے قریب ہے جس سے آگے شاید خدا کی خدائی کی حدود میں دخل دینے کے قریب ہے

پیر مارچ

corona wake up call
تحریر: بابر نذیر

سیارہ زمین پر اکیسیویں صدی میں آسودہ حال زندگی رواں دواں تھی۔ نت نئی ایجادات کے تذکرے زبان زدِ عام تھے۔ کہیں جینیٹک انجینئرنگ کے تذکرے تھے تو کہیں ہیومن آرگن کی مصنوعی تخلیق کا جشن منایا جا رہا تھا کہیں کلوننگ میں کامیابیوں کے دعوے ہو رہے تھے کہیں ٹورزم آن مون کا چرچا تھا۔

 
ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہر گزرتے وقت کی ساتھ ساتھ انسان کائنات کے معاملات کی کھوج کرتے کرتے اتنا آگے نکل چکا ہے کہ اس باؤنڈری کے قریب ہے جس سے آگے شاید خدا کی خدائی کی حدود میں دخل دینے کے قریب ہے۔ ذہن انہی گتھیاوں کے سلجھانے میں لگا ہوا تھا۔ کہ ان تحقیقات کی معراج کیا ہے۔ انسان جب ان تحقیقات میں اس حد تک پہنچ گیا تو کیا ہوگا۔

(جاری ہے)

کیا اللہ کی ذات اس زمین و آسمان کی بساط کو لپیٹ لے گا۔ یا اللہ اس جاری سلسلہ کو ایسی ہی چھوڑ دے گا اور انسان اس تحقیق کی بدولت کار کائنات میں اتنا مخل ہو جائے گا کہ خود ہے سیلف ڈسٹرکشن کی جانب سفر شروع ہو جائے گا۔
ذہن اسی اُدھیڑ پن میں تھا کہ ایک دن یوں ہی اچانک چین سے ایک عام سے فلو کے وائرس جس کو کرونا وائرس کہا گیا کے خبر سے گزری۔

سائنسی تحقیق ترقی اور قابلیت پر اتنا یقین تھا کہ اس چھوٹے سے مائکرو اورگنزم کی اکیسیویں صدی کے ترقی یافتہ انسان کے سامنے کیا حیثیت ہے۔اِدھر وائرس کا پتہ چلے گا اور اُدھر ویکسین تیار ہو جائے گی۔ اور یہ جا اور وہ جا۔ لیکن معاملات توقعات کے عین بر عکس ہوتے گئے۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور ہونے والی اموات کے آگے پہلے چین اور پھر پوری دنیا انتہائی بے بس نظر آئے۔

اور اس جدید ترین ترقی یافتہ دنیا میں اس وائرس کو کوئی مات نے دے سکا۔ اور صدیوں پرانا واحد حل یہ سامنے آیا کہ ایک دوسرے سے میل جول کام رکھیں تاکہ پھیلاؤ کام سے کم ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ سائنسی ترقی کے خدائی حدود میں داخل ہونے والے سوال کا جواب بھی مل گیا بلکہ ہنسی آنے لگی کہ سوال کی نوعیت کتنی بچگانہ بلکہ بیوقوفانہ تھی۔ ابھی نوح انسان کی ترقی خالق کی ایک چھوٹے سے میکرو آرگنزم کے آگے بلکل بھی بس ہے۔

باقی معاملات تو بہُت دور ہے۔ اس کی ساتھ ساتھ یہ آیت بھی بہُت یاد آنے لگے کہ
 ''لوگو! ایک مثال بیان کی جا رہی ہے، ذرا کان لگا کر سن لو! اللہ کے سوا جن جن کو تم پکارتے رہے ہو وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے گو سارے کے سارے ہی جمع ہو جائیں، بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے بھاگے تو یہ تو اسے بھی اس سے چھین نہیں سکتے، بڑا بزدل ہے طلب کرنے والا اور بڑا بزدل ہے وہ جس سے طلب کیا جا رہا ہے انہوں نے اللہ کے مرتبہ کے مطابق اس کی قدر جانی ہی نہیں۔

اللہ تعالیٰ بڑا ہی زور و قوت والا اور غالب و زبردست ہے.''۔ (الحج: 73-74)'' 
 بیشک تمام تر ترقی کے باوجود آج بھی ہم خالق کائنات کے آگے اتنی ہی بے بس ہے جتنا اللہ خود فرماتا ہے ''اگر مکھی ان سے کوئی چیز لے بھاگے تو یہ تو اسے بھی اس سے چھین نہیں سکتے''
 دعا ہے خدا ہم اہل دنیا کو کرونا سے لڑنے کے ہمت دے اور علم و تحقیق کے میدانوں میں نئی سے نئی کامیابیوں سے ہمکنار کرے۔ اور ہر کامیابی کے ذریعے ہمیں خالق کائنات کے قریب سے قریب تر کر دے۔ تاکہ ہمیں دوبارہ ویک اپ کال کی ضرورت نہ پڑے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

corona wake up call is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 23 March 2020 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.