بھارت کا آبی حملہ

22مارچ کو پوری دنیا میں پانی کا عالمی دن منایا جاتا ہے سیمینارز اورپروگرام ہوتے ہیں دنیا کو پانی کے حوالے سے درپیش مسائل پر گفتگو ہوتی ہے۔ پانی انسانی زندگی کاایک ایسا جزو ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور بھی محال ہے۔ انسان، حیوان اورنباتات پانی کے بغیر اپنی زندگی برقرار نہیں رکھ سکتے۔ پانی کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید سمیت تمام آسمانی صحیفوں میں اس کا ذکر موجود ہے

ہفتہ مارچ

India Ka Aabi Hamla
ارشاد احمد ارشد:
22مارچ کو پوری دنیا میں پانی کا عالمی دن منایا جاتا ہے سیمینارز اورپروگرام ہوتے ہیں دنیا کو پانی کے حوالے سے درپیش مسائل پر گفتگو ہوتی ہے۔ پانی انسانی زندگی کاایک ایسا جزو ہے جس کے بغیر زندگی کا تصور بھی محال ہے۔ انسان، حیوان اورنباتات پانی کے بغیر اپنی زندگی برقرار نہیں رکھ سکتے۔ پانی کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ قرآن مجید سمیت تمام آسمانی صحیفوں میں اس کا ذکر موجود ہے۔

قرآن مجید میں اللہ نے فرمایا ”ہم نے پانی سے ہر جاندار کو پیدا کیا ہے۔“اس کا مطلب ہے کہ پانی ہی زندگی ہے۔اگر ہم ماضی بعید میں جائیں تو تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ انسان نے اپنی رہائش کے لئے ان علاقوں کا انتخاب کیا جہاں پانی تھا۔جب تک پانی کے ذخائر اور چشمے ابلتے رہتے آبادیاں بھی قائم رہتیں جیسے ہی چشمے خشک ہوتے اور دریاؤں کی روانیاں رکتیں تو لوگ نقل مکانی کرجاتے۔

(جاری ہے)

ہڑپہ ،مو ہنجودوڑواور دراڑو جیسے عظیم شہر پانی کا رخ بدلنے سے صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔آج یہ علاقے کھنڈرات کا منظر پیش کرتے ہیں جو پانی کی ان کہی داستانِ عظمت زبانِ ِحال سے سنا رہے ہیں۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پانی ہر دور میں جنگی ہتھیار کے طور پر بھی استعمال ہوتا رہا ہے۔۔حملہ آور فوجیں محصورین کا پانی بند کردیا کرتی تھیں جس سے محصورین ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوجاتے۔

پانی کے ذخیروں پر قبضے کے لئے خون ریز جنگیں برپا ہوتیں۔آج بھی دنیا میں سب سے بڑا ایشو پانی ہے اور پانی کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لئے کام ہورہا ہے۔
زمین پر موجود پانی کا 97فیصد ذخیرہ سمندروں میں ہے جس میں نمکیات بہت زیادہ ہیں جس سے یہ پانی پینے اور آبپاشی کے قابل نہیں ہے۔باقی تین فیصد گلشیئرز اور زیر زمین پانی ہے۔بڑھتی ہوئی آبادی اور پھیلتی ہوئی صنعتوں کی وجہ سے صاف پانی کی مانگ میں بہت زیادہ اضافہ ہوچکا ہے۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ صاف پانی کی طلب اور رسد میں توازن نہیں ہے۔نتیجتاََ صاف پانی کے ذخائر دن بہ دن کم ہو رہے ہیں۔پانی کی بڑھتی ہوئی مانگ اور قلت کی وجہ سے ماہرین ارضیات قطعی رائے قائم کر چکے ہیں کہ مستقبل میں پانی کی خاطر جنگیں لڑی جائیں گی۔
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جسے ابتدا ہی سے بھارت کی طرف سے آبی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بھارت نے پاکستان پر پہلا آبی حملہ تقسیم ہند کے صرف ساڑھے سات ماہ بعد یعنی یکم اپریل 1948ء کو کیا تھا۔آگے بڑھنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس کا تھوڑا سا پس منظر سمجھ لیا جائے۔یہ بات سب کو معلوم ہے کہ سرحدوں کی تقسیم کے لئے ریڈکلف ایوراڈ بنایا گیا تھا جس نے سرحدوں کی تقسیم میں واضح بدیانتی اور خیانت کا مظاہرہ کیا تھامسلمانوں کے بہت سے اکثریتی علاقے بھارت کو دے دیئے گئے۔

پنجاب میں پانی کی تقسیم کے لئے ریڈکلف ایوارڈ کے نیچے کئی ذیلی کمیٹیاں بنائی گئی تھیں ان کمیٹیوں میں مسلمان بھی تھے ،سکھ بھی اور ہندو بھی لیکن مسئلہ سارا پاکستان دشمنی کا تھا۔اس بات کا فیصلہ پہلے سے ہو چکا تھا کہ ہندوؤں کے لئے ایک ایسا ملک بنایا جائے گاجو اپنی تشکیل میں مکمل ہو گا جبکہ پاکستان کٹھا پھٹا اور ادھورا ملک ہو گا۔لہذا جس طرح سرحدوں کی تقسیم میں واضح بدیانتی کی گئی ایسے ہی پانی کے منابع اور ذخائر کی تقسیم میں بھی پاکستان دشمنی کا کھلا مظاہر ہ کیا گیا۔

ایک کمیٹی نہروں کے پانی کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لئے بنائی گئی تھی جو دو ممبران پر مشتمل تھی مغربی پنجاب سے جسٹس اسماعیل اور مشرقی پنجاب سے جسٹس سر ہری لال کانیا اس کے ممبر تھے۔ اس کمیٹی نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ پنجاب کے دونوں حصوں کی نہروں کا پانی جوں کا توں رہے گا اور موجودہ پانی کی مقدار میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

بعد ازاں یہ معاملہ دو چیف انجنیئروں کے سپرد کیا گیا۔ان میں سے ایک انجنئیر کا تعلق پاکستان سے اور دوسرے کا بھارت سے تھا۔دونوں نے ایک عارضی معاہدہ تشکیل دیا جس کی رو سے مادھو پور ہیڈ ورکس اور فیروز پور ہیڈ ورکس سے مغربی پنجاب اور ریاست بہالپور کو سیراب کرنے والی نہروں کا پانی جوں کا توں رکھا گیا ۔اس معاہدہ کی معیاد 31مارچ 1948ء تک تھی۔

اس سلسلہ میں انجنیئررمیض احمد ملک اپنی کتاب ”تین دریا کیسے کھوئے “میں لکھتے ہیں پانی کے سلسلے میں ایک میٹنگ تھی جس میں مغربی پنجاب کی طرف سے سردارشوکت حیات اور مشرقی پنجاب کی طرف سے سردار سورن سنگھ(جو بعد میں بھارت کے وزیر خارجہ بنے) شامل تھے۔شوکت حیات نے سورن سنگھ سے کہا ”اوئے سکھا توساڈاں پانی تے بند نیئں کردیں گا۔“سورن سنگھ نے جواب میں کہا ”توں کی گل کرداپیاایں کدے کسے نے بھراواں دا پانی وی بند کیتا اے۔

“ایک طرف یہ یقین دہانیاں تھیں اور دوسری طرف جیسے ہی 31 مارچ کا سورج غروب اور یکم اپریل کا سورج طلوع ہوا فیروز پور اور مادھو پور ہیڈ ورکس سے مغربی پنجاب (پاکستان) کی زمینوں کو سیراب کرنے والہ پانی بند کر دیا گیا جو مسلسل 34دن تک بند رہا جس سے 1.66ایکڑکی اراضی ختم ہو گئی۔کسان اور جانورپانی کی بوند بوند کو ترسنے لگے، نہروں پر گندم کی فصل سوکھ گئی،ہزاروں جانور پانی نہ ملنے کی وجہ سے مر گئے اور ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔


یکم اپریل کو بھارت کی یہ کاروائی بہت معمولی چوری تھی پاکستان کے پانی پر اصل ڈاکہ جو انگریز اور کانگریس نے مل کر مارا۔وہ فیروز پور اور مادھو پور ہیڈ ورکس کی بھارت کو منتقلی تھی۔ دونوں ہیڈ ورکس مسلم اکثریتی علاقوں میں واقع تھے اور مسلم اکثریتی علاقوں کی زمینوں کو سیراب کرتے تھے اس لئے ان پر پاکستان کا حق تھا۔ایک فیصلہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ ایک ہیڈ ورکس بھارت کو دے دیا جا تا اور دوسرا پاکستان کو دے دیا جا تا لیکن چونکہ انگریز اور کانگریس دونوں اس بات کا فیصلہ کرچکے تھے اول تو پاکستان قائم نہیں ہونے دینا اگر قائم ہو بھی گیا تو وہ ایک ایسا پاکستان ہو گا جو لولہ لنگڑا ہو گا۔

دونوں ہیڈ ورکس بھارت کو دینے کا فیصلہ اسی سلسلہ کی کڑی تھی۔جب اس پر بھی بھارتی حکمرانوں کے دل ٹھنڈے نہ ہوئے تو پھر نہروں کا پانی بھی بند کردیا گیا جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔
دونوں ہیڈ ورکس بھارت کو دینے کا فیصلہ اور اس کے سات ماہ بعد پانی کی بندش نہایت ہی سنگین اور حساس ترین معاملہ تھا۔ جس وجہ سے پانی کا مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا تھایہاں تک کہ اس کی گونج دنیا کے بہت سے ممالک میں سنائی دینے لگی۔

امریکہ کے ایک آبی انجنئیر ڈیوڈ ای للی اینتھال جو امریکہ میں ایٹامک انرجی کمیشن کا چئیرمین بھی رہ چکا تھا اس کے کانوں تک بھی اس تنازعہ کی گونج پہنچی چنانچہ وہ 1951ء میں پاکستان اور بھارت کے دورے پر پہنچا۔اس نے دونوں ا طراف میں پانی کی صورت حال جائزہ لیا اور واپس جا کر ایک طویل مضمون لکھا۔ ڈیوڈ کا سارا مضمون انجنئیررمیض احمد ملک نے اپنی کتاب میں شامل کیا ہے جس کے کچھ اقتباسات نذر قارئین ہیں ۔

ڈیوڈ لکھتا ہے ”پاکستان اور بھارت کے درمیان نہری پانی کا تنازعہ تباہ کن بارود ہے ،پنجاب کا خطہ بارود کے اس ڈھیر پر و اقع ہے اور کسی وقت بھی آگ کے شعلے بھڑک سکتے ہیں۔پنجاب اور سندھ دنیا کی بہترین خوراک پیدا کرنے والے علاقے ہیں۔ایک وقت آئے گا جب پانی نہ ملنے کی وجہ سے یہ ریگستان بن جائیں گے۔20ملین وسیع ترین قطعہ اراضی ہفتوں میں بنجر ہو جائے گا اور10ملین افراد فاقوں کا شکا ر ہو جائیں گے۔

بڑ ی سے بڑی فوج بھی اسلحہ وبارود سے زمین اور انسانوں کو اس طرح تباہ نہیں کرسکتی جس طرح بھارت پانی بند کر کے پاکستان کو تباہی سے دوچار کرسکتا ہے۔“
امر واقعہ یہ ہے کہ 1951ء میں امریکی انجنئیر نے جن خدشات کا اظہا ر کیا تھاوہ وقت کے ساتھ بڑی حد تک درست ثابت ہو رہے ہیں۔بھارت کی آبی جارحیت صرف نہروں کے پانی کی بندش تک ہی محدود نہ رہی بلکہ دریاؤں پر بھی آبی ڈکیتی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

پاکستان کے لئے یہ بہت ہی پریشان کن صورت حال تھی۔بھارت کا جب دل چاہتا پانی روک پاکستان میں قحط کی کیفیت پیدا کر دیتا اور جب دل چاہتا وافر مقدار میں پانی چھوڑ کر تباہی مچا دیتا چنانچہ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے اس صورت حال سے بچنے کے لئے 19ستمبر1960ء کو بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کیا جس کی رو سے تین دریاؤں ستلج،راوی اور بیاس کا 16ملین ایکڑ فٹ پانی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بھارت کو فروخت کردیاگیا۔

تین دریاؤں کی فروخت بلاشبہ غلطیہائے عدیم المثال تھی لیکن جس مصیبت سے بچنے کی خاطر ایوب خان نے تین دریا فروخت کئے وہ مصیبت پھر بھی نہ ٹلی۔بھارت سے شائع ہونے والے ایک دلت اخبار نے لکھا تھا ”برہمن ذلت اور کمینگی میں اپنی مثال آپ ہے ۔“ اس کمینگی کی مثال سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں سامنے آرہی ہے اور باقی تین دریاسندھ جہلم اورچناب پر بھارت کی آبی جارحیت۔

بلکہ سر عام و دن دیہاڑے ڈاکہ زنی شروع ہے۔جس وجہ سے پاکستان کی زمینیں بنجر ہو رہی ہیں،زیر زمین کی سطح خطرناک حد تک نیچے جارہی ہے۔آج جبکہ مارچ کے مہینے میں دنیا پانی کا عالمی دن منا رہی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان موثر انداز میں بھارت کی آبی ڈاکہ زنی کے خلاف آواز اٹھائے اور امن عالم کی ٹھیکیدار بڑی طاقتیں بھارت کو آبی جارحیت سے روکیں۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments

India Ka Aabi Hamla is a Special Articles article, and listed in the articles section of the site. It was published on 25 March 2017 and is famous in Special Articles category. Stay up to date with latest issues and happenings around the world with UrduPoint articles.